Pakistan Ko Tanha Karne Ki Koshishen Ulti Par Gayi
پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی کی کوششیں الٹی پڑگئیں

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرکے رہیں گے۔ یہ بیان اُس وقت دیا گیا جب کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ آج ایک دہائی بعد منظرنامہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ پاکستان بدستور چین کا قریبی اتحادی ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، ایران اس پر اعتماد کرتا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ اس کی قربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے بعد کی سفارت کاری میں بھارت کہیں نظر نہیں آتا۔
عالمی اخبارات اور جریدے مسلسل پاکستان کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی پر رپورٹس شائع کررہے ہیں۔ ایسی ایک رپورٹ جمعہ کو الجزیرہ نے دی۔ اس کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی امریکی ثالثی سے ممکن ہوئی۔ پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس کردار پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا لیکن نئی دہلی نے اس دعوے کو قبول کرنے سے گریز کیا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے بار بار اپنا مؤقف دوہرایا اور بھارتی لڑاکا طیاروں کے گرنے کی بات کی۔ الجزیرہ کے مطابق اس مرحلے نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا اور پاکستان امریکی قیادت کو زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار معلوم ہوا۔
الجزیرہ کے مطابق اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان کو کمزور اور تنہا کرنے کی بھارتی حکمتِ عملی نے الٹا نتیجہ دیا ہے۔ بھارت نہ تو پہلگام حملے میں پاکستان کے مبینہ کردار کے ثبوت عالمی برادری کو دے سکا اور نہ ہی پاکستان کے خلاف سفارتی ماحول بناسکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے عالمی بیانیے کی جنگ میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
اس سے پہلے امریکی جریدے فارن پالیسی "پاکستان کی ایران سفارت کاری، بھارت کے لیے دھچکا" کے عنوان سے مضمون شائع کیا تھا۔ اس میں بھارتی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے لکھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کا کردار نئی دہلی کے لیے پریشان کن ہے۔ بھارتی وزیرِخارجہ ایس جے شنکرنے پاکستان کو "دلال" قرار دیا، لیکن یہ ردعمل دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ واشنگٹن نے بحران کے وقت اسلام آباد کو ایک مفید رابطہ کار سمجھا۔ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ایسے شخص کے طور پر ابھرے جو براہِ راست امریکی قیادت تک رسائی رکھتے ہیں جبکہ مودی اس سفارتی عمل میں حاشیے پر دکھائی دیے۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں امریکا کے ساتھ معدنیات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کئی معاہدے کیے۔ پاکستانی قیادت کی وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں ہوئیں اور صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوجی قیادت کے بارے میں غیر معمولی مثبت بیانات دیے۔ یہ تبدیلی اس پس منظر میں اہم ہے کہ چند سال پہلے تک واشنگٹن پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا کردار ادا کرنے کے الزامات لگاتا تھا۔
بھارتی ویب سائٹ دی وائر نے بھی صورتِحال کو بھارت کے لیے سفارتی دھچکا قرار دیا۔ اس نے استدلال کیا کہ مودی حکومت کی بڑی خارجہ پالیسی کا مقصد پاکستان کو غیر متعلق اور تنہا ثابت کرنا تھا، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کا نمایاں کردار اس کے برعکس ہے۔ جب خطے میں کشیدگی بڑھی تو واشنگٹن نے نئی دہلی کے بجائے اسلام آباد کو مؤثر رابطہ کار بنایا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان خطے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق بھارت کی علاقائی حکمتِ عملی کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 2016 کے بعد بھارت نے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم سارک کو عملاً غیر فعال کیا اور پاکستان سے فاصلے بڑھانے کی پالیسی اپنائی۔ اس دوران پاکستان کے بنگلادیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی، چین کے ساتھ شراکت مزید گہری ہوئی اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط ہوا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے حال میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اٹوٹ قرار دیا ہے۔
مودی دور میں بھارت کی اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت نے بھی عرب ملکوں میں نئی دہلی کی غیر جانب داری کے تاثر کو کمزور کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق بھارت ماضی میں فلسطینی ریاست کے قیام کا سرگرم حامی تھا، لیکن حالیہ برسوں میں اس کا جھکاؤ واضح طور پر اسرائیل کی جانب بڑھا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایران اور خلیجی خطے کے بعض حلقے پاکستان کو زیادہ قابلِ قبول رابطہ کار سمجھنے لگے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو دفاعی پوزیشن سے نکالا اور علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون اور بڑی طاقتوں کے درمیان توازن پر توجہ دی۔ پاکستان آج ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو بیک وقت واشنگٹن، تہران، ریاض اور بیجنگ کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات رکھتے ہیں۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں وہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جسے عالمی ذرائع ابلاغ مودی کی شکست قرار دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں الٹی پڑگئی ہیں۔ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کی سمت اور ترجیحات پر نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ پاکستان اپنے تمام مسائل کے باوجود سفارتی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے۔

