Teen Dost Aik Kahani
تین دوست ایک کہانی

برسوں قبل تین دوست کراچی پڑھتے اور رہتے تھے۔ زمانہ طالب علمی یعنی یونیورسٹی لائف بھی کیا فراغت کی زندگی تھی۔ ہم نے رسم دنیا کی مانند ایک دوجے کے نام رکھے ہوئے تھے جیسا کہ سٹوڈنٹس آپس میں ایک دوسرے کے نام بگاڑ کر چھیڑنے کے لئے رکھ دیتے ہیں۔ ایک تھا درمٹ، ایک لگڑ بگا اور میں۔ اب میرا نام کیا تھا یہ تو علامہ ضمیر نقوی مرحوم کے لب و لہجہ میں کہوں تو "میں نہیں بتاوں گا"۔
درمٹ نام کس نے رکھا یہ مجھے یاد نہیں پڑتا۔ وہ ایک عجب جسامت کا انسان تھا۔ قد لمبا، چھ فٹ ایک انچ۔ نچلا دھڑ یعنی ٹانگوں سے توند تک انتہائی بھاری بھر کم اور توند سے سر تک اچانک ہی انتہائی دبلا سا تھا۔ دور سے دیکھنے میں لگتا جیسے بجری کوٹنے والا درمٹ ہو۔ دوسرے کو لگڑ بگا اس لئے کہا جاتا تھا کہ اس کی چال کا ایسا انداز تھا جیسے اس کی ایک ٹانگ چھوٹی اور ایک بڑی ہو۔ ٹانگیں تو اس کی دونوں برابر تھیں نجانے اس نے لگڑ بگوں جیسی چال کہاں سے اپنا لی تھی۔
ہم تینوں اکثر درمٹ کے فلیٹ پر یونیورسٹی کے بعد جمع ہوتے۔ درمٹ کراچی یونیورسٹی میں آرکیٹیکٹ انجینیئرنگ کا سٹوڈنٹ تھا۔ لگڑ بکا وکالت پڑھ رہا تھا اور میں ٹیلی کمیونیکیشن کا طالب علم تھا۔ ایک دن درمٹ نے ہم دونوں کو فلیٹ پر بلایا کہ ایک اہم بات کرنی ہے۔ جب لگڑ بگا اور میں پہنچے تو درمٹ بیگی ٹراوزر کے اوپر پیٹ سے چپکی سلم ٹائٹ ٹی شرٹ پہنے ہو بہو درمٹ ہی لگ رہا تھا۔
قصہ مختصر، درمٹ کو ایک لڑکی پسند آ گئی تھی مگر ہمارے لئے حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس لڑکی کو درمٹ بھی پسند آ گیا تھا۔ وہ ہماری متوقع بھابھی کے متعلق ہمیں پہلی بار شرما شرما کے آگاہ کرتا رہا۔ اس کی محبوبہ کا نام تو اب مجھے یاد نہیں آ رہا مگر اس لڑکی کو اس کے گھر والے پیار سے "ٹافی" کہتے تھے۔ درمٹ بھی اسے ٹافی ہی پکارنے لگا۔ اکثر وہ فون پر ہم سے الگ ہو کر اس لڑکی سے "ٹافی ٹافی" کرکے سرگوشیوں میں بات کرتا رہتا۔ درمٹ ہم سے رفتہ رفتہ دور ہوتا گیا۔ اس کے فلیٹ جب جمع ہوتے وہ فون لے کر الگ بیٹھ جاتا اور گھنٹوں نجانے کیا پھس پھس کرتا رہتا۔
لگڑ بگا دوستی میں یوں اگنور کئے جانے پر جلتا کڑھتا تھا۔ ان دنوں نیا نیا بھارتی گانا آیا تھا جو بہت ہٹ ہو چکا تھا۔ "او ساقی ساقی رے ساقی ساقی۔۔ آ پاس آ رہ نہ جائے کوئی خواہش باقی"۔۔ لگڑ بگے نے درمٹ کو تپانے کو اس گانے میں ترمیم کر دی تھی اور وہ اکثر اس کے سامنے اونچی اونچی گنگنانا شروع ہو جاتا
او ٹافی ٹافی رے ٹافی ٹافی
آ پاس آ رہ نہ جائے کوئی خواہش باقی
درمٹ کبھی کبھی تو اتنا چڑ جاتا کہ وہ گلا پھاڑ کے چیختا " حرامیو! تمہاری بھابھی ہے"۔ خیر، کچھ ماہ یونہی گزرے کہ ایک دن درمٹ نے روہانسی ہوتے انکشاف کیا کہ ٹافی اسے چھوڑ گئی ہے۔ ٹافی کسی اور کے ساتھ پینگ بڑھا چکی تھی۔ درمٹ اس شام بہت افسردہ تھا۔ ہم دونوں اس کو سمجھاتے رہے کہ محبت میں دھوکہ عام بات ہے دل پر نہ لو۔ درمٹ اس رات سسکیاں لیتا رہا اور ہم دل ہی دل میں ہنستے رہے۔ رات 12 بجے لگڑ بگے نے درمٹ کے رنڈی رونے سے تنگ آ کر کہا " درمٹ سو جا اب، ٹافی پھیکی نکل آئی"۔
اگلی صبح ہوا یوں کہ درمٹ ناشتہ بنا کر ٹافی کی یاد میں اداس بیٹھا تھا۔ لگڑ بگا نہا کر نکلا۔ آئینے کے سامنے کنگھی کرتے ہوئے اپنے ہی دھیان میں گنگنانے لگا " او ٹافی ٹافی رے ٹافی ٹافی۔۔ آ پاس آ۔۔ "۔۔ درمٹ سے اب کے برداشت نہ ہو سکا۔ وہ پھٹ پڑا۔ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے سر کے پیچھے زور سے ایسی چپت لگائی کہ لگڑ بگے کا ماتھا آئینے سے ٹکرایا۔ آئینہ ٹوٹ گیا۔ کرچیاں لگڑ بگے کے ماتھے میں پیوست ہوگئیں۔ ماتھے سے خون کی دھار ایسی بہی کہ لگڑ بگے کی دائیں آنکھ بہتے خون سے بھر گئی۔ یہ منظر دیکھ کر میں اسے سنبھالنے لگا۔ لگڑ بگا ڈر چکا تھا۔ درمٹ انتہائی پریشان تھا اور بڑبڑاتا جا رہا تھا " ہر وقت مزاق۔۔ ہر وقت مزاق۔۔ ہر وقت مزاق نہیں اچھا۔ کئی بار کہا کہ ہر وقت مزاق نہ کیا کرو۔۔ " لگڑ بگا بالکل سہم چکا تھا وہ آگے سے بولا " میرے وہم و گمان میں بھی تیری ٹافی نہیں تھی۔ یہ گانا تو زبان پر چڑھ چکا تھا۔ میں تو بے دھیانی میں گا رہا تھا"۔۔
ہماری دوستی دو سال رہی۔ پھر مجھے سمسٹر فریز کرکے پنجاب واپس آنا پڑا۔ ابا جی جگر کے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کی صحت خطرناک حد تک بگڑ چکی تھی۔ دوریاں آئیں تو رابطے منقطع ہوئے۔ وقت بیتا۔ وہ دونوں ڈگری کر گئے۔ بعد اذاں میں نے سال کے بعد ڈسٹنس لرننگ پر ڈگری مکمل کی۔
درمٹ کی شادی اس کی کزن ماموں کی بیٹی سے طے ہوئی۔ شادی پر چار سال بعد ہم تینوں ایک چھت تلے جمع ہوئے۔ لگڑ بگا وکالت پاس کرکے کمیشن بھی پاس کر چکا تھا۔ سی ایس ایس میں پاس ہو کر ان دنوں وہ سی ایس ایس آفیسرز اکیڈمی میں چھ ماہ کی ٹریننگ پر تھا۔ درمٹ کی بیگم یعنی ہماری بھابھی درمٹ کے دیو ہیکل ڈیل ڈول کے سامنے بالکل منی سی لگ رہی تھیں۔ بھابھی کا قد یوں بھی چھوٹا تھا اور سلم سمارٹ بھی تھیں۔ لگڑ بگے نے نکاح کی مبارک دیتے بھابھی کی جانب دیکھتے کہا " درمٹ! ٹافی نہ سہی۔۔ ٹکی ہی سہی"۔۔ درمٹ کا قہقہہ ہال میں دور تک گونجتا گیا۔
بھابھی کو ہم "ٹکی بھابھی" کہنے لگے۔ بھابھی کو اس نام کا پس منظر معلوم تھا اور "ٹافی" کی بابت بھی جانتی تھیں لہذا وہ اس نام پر ہنسا کرتیں اور ہم کو کہا کرتیں کہ آپ دونوں بہت شرارتی انسان ہیں۔ وقت گزرا۔ زندگی پھر مصروف ہوئی۔ سب اپنے اپنے پروفیشن و کیرئیر کی دوڑ میں لگ گئے۔ رابطے پھر منقطع ہو گئے۔ سال میں عید مبارک اور خیر مبارک کے میسجز ہی باقی رہ گئے۔ میرے والد کا انتقال ہوا تو ساری ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔ میں سب سے کٹ آف ہو کر کمانے اور کچن چلانے کی مشقت میں پڑا رہا۔
زندگی کے کسی موڑ پر پرانے کمینے دوست مل جائیں تو انسان کنفیوز ہو جاتا ہے، خاص کر تب جب وہ آج تک کمینے ہی ہوں۔ پانچ برس قبل کی بات ہے کہ اپنے ایک قدردان کے ساتھ سالٹ اینڈ پیپر ریسٹورنٹ لبرٹی چوک لاہور میں لنچ کرتے ضروری بات ڈسکس کر رہا تھا کہ اچانک درمٹ برسوں بعد سامنے آن کھڑا ہوا اور اس نے آو دیکھا نہ تاو۔ آتے ہی بولا " اوئے بغیرتا توں کتھے؟ ہون توں بہت وڈا ہوگیا ایں۔ پہچانیا کہ نئیں؟"۔ میں نے پہچان تو لیا تھا مگر وہ جو میری عزت کا فالودہ بنانے والا تھا اس کو بھانپ کر میں نے کہا " جی، آپ تعارف کروا دیں، معذرت چاہتا ہوں نہیں پہچان سکا"۔۔ اس نے جھٹ جواب دیا " اوئے کنجرا توں مینوں بھل گیا؟ اینی بغیرتی دی امید نئیں سی"۔۔
اللہ کا شکر کہ درمٹ کو اس وقت اچانک احساس ہوا کہ میرے ساتھ کوئی اور بھی موجود ہے۔ یکدم اس کا لہجہ اردو میڈیم ہوگیا اور وہ مل ملا کر اپنی ٹیبل پر واپس چلا گیا۔ میری میٹنگ ختم ہوئی۔ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر جب میزبان کو رخصت کر چکا تو واپس اندر گیا اور جاتے ہی درمٹ کی عزت پر میں نے درمٹ چلا دیا۔ وہ معافی مانگتا رہا۔ جب دو طرفہ گلے شکوے اور معافی تلافی ہوگئی تو پھر وہ شام پرانی یادوں و قصوں میں بسر ہوئی۔ درمٹ بہت کامیاب آرکیٹیکٹ بن چکا ہے۔ اسلام آباد اور لاہور کی بڑی بڑی سوسائٹیز کے نقشے بنا چکا ہے جن میں لیک سٹی، انجینیئر ٹاون، مارگلہ ہاوسنگ سوسائٹی اسلام آباد وغیرہ وغیرہ سمیت بڑے نام شامل ہیں۔ اب اس کی زبان سے سوائے بزنس کی باتوں کے کچھ اور نہیں نکلتا۔
لگڑ بگا جو سی ایس ایس کرکے محکمہ پولیس میں اے ایس پی لگ چکا تھا اب وہ ایس پی ہو چکا ہے۔ پچھلی بار جب میں کراچی گیا تو اس کے دفتر چلا گیا۔ برسوں بعد وہ مجھے ملا۔ یونیفارم میں جیسے ہی سامنے آیا میرے منہ سے ہنستے ہوئے نکلا " ارے لگڑ بگے۔۔ کیسے ہو؟"۔ وہ سیانا تھا فوری بھانپ گیا اور اپنے سٹاف افسر سے بولا " چائے میرے کمرے میں بھجوائیں اور میرے کمرے میں کوئی نہ آئے"! !
درمٹ اور لگڑبگے کے حقیقی نام نہیں لکھوں گا۔ دونوں اپنے شعبے میں کامیاب لوگ ہیں اور ایک تو اب خیر سے سندھ پولیس میں ایس ایس پی ہے۔ درمٹ کا فلیٹ واٹر پمپ انچولی کے علاقے میں تھا جہاں ہم رہتے تھے۔ اس کا کرایہ میں نہیں دیتا تھا۔ وہ دونوں خود مینج کرتے تھے۔ میرے حالات ہی ایسے نہیں تھے۔ اماں سکول ٹیچر تھیں جن کی تنخواہ سے بمشکل گھر چلتا اور ابا کے کینسر کا علاج کراتے قرض چڑھ چکا تھا۔ خیر، وہ دور کب کا بیت گیا۔ اب جب ماضی یاد آئے تو آنکھ بھر آتی ہے مگر ساتھ ہی احساس ہوتا ہے کہ ہم سب ہی حالات کی بھٹی میں تپ کر نکلے ہیں۔ مٹی نہیں ہوئے کامیاب ہی ہوئے ہیں۔
سب سے تعجب کی بات یہ ہے کہ بچپن کا ایک ہی دوست تھا جو محسن جعفری جو سیالکوٹ امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش حملے میں شہید ہوگیا۔ اس کی یاد آج تک آتی ہے۔ یکم اکتوبر 2004 کو وہ خود کش حملے میں شہید ہوا۔ یکم اکتوبر 2010 کو میرا اکلوتا بیٹا پیدا ہوا۔ اس کا جنم دن مجھے اس کی برسی کی یاد دلا جاتا ہے۔ درمٹ اور لگڑ بگا مرے کالج سیالکوٹ میں دوست بنے تھے۔ درحقیقت یہ درمٹ تھا جس کے اصرار پر میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور اس کے ساتھ چلا گیا۔ امی ابو کراچی جانے کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن اس دور کی ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ میں اپنے گھریلو نامساعد حالات سے فرار چاہتا تھا۔
پھر وقت کے ساتھ جب سب اپنی اپنی چکی کی مشقت میں پڑ گئے تو رابطے ٹوٹ گئے۔ کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی۔ پروفیشنل لائف میں کولیگز تو بہت رہے لیکن دوستی کسی سے نہ ہو پائی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ سب کو لگتا ہے انعام رانا جیسے میرا بہت قدیمی یا بچپن کا دوست ہے۔ جبکہ انعام سے دوستی سات سال پہلے زندگی کی اس سٹیج پر ہوئی جس سٹیج پر دوست نہیں بنتے۔ میچور ایج میں دوستیاں نہیں باہمی مفاد کے تعلق بنتے ہیں۔ دوستی تو کچی عمر میں بنتی ہے۔ سچا عشق بھی کچی عمر میں ہی ہوتا ہے۔ بڑے ہو کر تو بس دروازے کو کنڈیاں لگتی ہیں۔ انعام رانا کو لے کر یہ بات میرے لیے بھی کبھی کبھی تعجب کا باعث بنتی ہے کہ اس سے دوستی کیسے اور کس لمحے میں ہوگئی۔ مجھے وہ لمحہ یاد بھی نہیں آتا نہ ہی کوئی وجہ سمجھ آتی ہے۔ بس اچانک ہی ہوگئی۔

