Great Se Greater Aur Abraham Accord Tak
گریٹ سے گریٹر اور ابراہم اکارڈ تک

امریکہ کی طرف سے ابراہم اکارڈ کا مطالبہ دراصل فلسطین کے بغیر قابض صہیونی رہاست کو تسلیم اور اسرائیل اور امریکہ کا تاریخ کے دھارے کو 5 ہزار سال قبل کی پوزیشن پر لانے کی ناممکن کوشش کہ جس نے کئی صدیوں میں نظریات و افکار کے تنازعات کا طویل سفر طے کر لیا اس دوران کئی بستیاں اجڑیں اور کئی قومیں تباہ ہوئیں۔ سوال یہ کہ کیا ابراہم اکارڈ سے قبل یہودی حضرت عیسی کو پیغمبر اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانیں گے؟
یہود حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسحاق کی نسل سے اور وہ دیگر انبیا کو ماننے سے انکاری حتی کہ ذبیحہ کے واقعہ کو بھی وہ حضرت اسحاق سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ ایسے شقی القلب اور بدبخت کہ جنہوں نے کئی انبیا کو شہید کیا یہی وجہ کہ شقاوت اور سفاکیت ان کے رگ و پے میں رچی بسی پے۔ انہیں انسانی حقوق کا احترام ہے اور نہ عالمی قوانین کو خاطر میں لاتے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کی خاطر وہ ہر قسم کی جنونیت و حیوانیت کو جائز گردانتے ہیں۔ ایک لاکھ 24 ہزار انبیا میں سے یہ صرف 48 نبیوں کو مانتے ہیں مگر وہ بھی تحریف شدہ عقائد کے ساتھ۔
ابراہم اکارڈ کے ذریعے ایک طرف وہ فلسطین کے بغیر اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو قبلہ اول کی انتظامی حیثیت کو بھی تبدیل کرنے کے خواہاں۔ ایک معائدہ کے تحت مسجد اقصی کی خدمت و انتظام اردن اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہے مڈل ایسٹ آئی نامی اخبار کے مطابق اسرائیل اب اس اختیار کو واپس لینے کے درپے تا کہ مسجد اقصی کو ابراہم اکارڈ کے مطابق چلایا جا سکے۔
مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سعودی عرب نے دو ریاستی حل کا فارمولہ پیش کیا جسے اب کم و بیش 164 ممالک کی حمایت حاصل جبکہ پاکستان بھی اس کا حامی اور وہ فلسطین کی 1967 والی پوزیشن بحال اور یروشلم کو اس کا دارلخلافہ مانتا ہے۔ اگر چہ دباو پاکستان پر بھی ہے مگر نیوکلیئر طاقت اور عالمی سفیر امن ہونے کے ناطے اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کے جارحانہ عزائم کے خلاف خاموش کوششوں کا آغاز 2019 میں شروع ہوا۔ معروف کالم نگار حامد میر کے مطابق "موجودہ فیلڈ مارشل جو اس وقت ISI چیف تھے کے دور میں تین ممالک کے انٹیلی جنس چیف نے اس کی بنیاد رکھی۔ سید عاصم منیر نے ترکیہ اور ایران کے ساتھ ملکر دفاعی تعاون کی کوششوں کا آغاز کیا اور وہ اس میں سعودی عرب کو بھی شامل کرنے کے خواہاں تھے مگر اسی دوران سید عاصم منیر کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا" مگر قدرت نے ناممکن کو ممکن بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اس کے تینوں محرکین کو 2026 میں مختلف عہدہ جات پر آن بٹھایا۔
سید عاصم منیر آرمی چیف و فیلڈ مارشل، رضا امیر مقدمی پاکستان میں ایرانی سفیر اور ترکیہ کے سابق انٹیلی جنس چیف حاکان فیدان وزیر خارجہ۔ 2019 میں جنرل عاصم منیر کی شروع کی گئی کوششوں کو ایران امریکہ جنگ نے پروان چڑھایا اور مہمیز لگائی۔ سعودی عرب سے دفاعی معائدہ تو ہو چکا، ترکیہ، مصر اب اس اتحاد میں شامل ہونے کو تیار جبکہ کویت، عمان کی شمولیت بھی متوقع اور اگر ایران اس میں شامل ہوتا ہے تو اس سے شیعہ سنی تفریق بہت حد تک ختم اور گریٹ سے گریٹر بننے و ابراہم اکارڈ کا خواب چکنا چور ہونے میں کسر باقی نہیں رہے گی۔
ابراہم معاہدہ (Abraham Accords) اگرچہ بہت پرانا کہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں بھی اس طرح کی کوشش کی گئی کہ اس وقت عیسائی اور یہودی بڑی تعداد میں تین براعظموں پر پھیلی عثمانی سلطنت کا حصہ تھے۔ اب دوبارہ اس کی گونج اگست 2020 میں شد و مد کے ساتھ سنی گئی، جس میں سب سے پہلے متحدہ عرب امارات (UAE) نے اکارڈ میں شمولیت کی اور شاید یہ اسی کا ثمر کہ اسرائیل امارات کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے دبئی کی ائیر لائن ایمرٹس کو تل ابیب بنکاک فضائی روٹ کہ جس پہ سالانہ 4 لاکھ یہودی سفر کرتے ہیں اور تل ابیب تا نیویارک خصوصی طور پر الاٹ کیے۔ ابراہم اکارڈ میں شمولیت کرنے والے دیگر مسلم ممالک میں بحرین، سوڈان اور مراکش (Morocco) شامل ہیں۔
2017 میں سعودی عرب نے دو ریاستی حل پیش کیا جس پر حماس کے اسماعیل ھانیہ اور خالد مشعال نے بھی رضا مندی ظاہر کی۔ مگر اب صورتحال پانچ چھ سال قبل والی تو ہے نہیں اور چار ملکی اتحاد بھی اس کے حق میں نہیں۔ جبکہ اسرائیل کی طاقت کا گھمنڈ ٹوٹ اور ایران کی دفاعی طاقت کو آزمایا جبکہ پاکستان مڈل پاور کے طور پر سامنے آ چکا۔ 2020 میں غزہ پہ اسرائیلی مظالم دنیا نے دیکھے نہ تھے اور اس کے جارحانہ عزائم پر یورپ نے آنکھیں موند رکھی تھیں مگر اب امریکہ سمیت یورپ بھر میں اسرائیل کے خلاف نفرت میں ناقابل یقین حد تک اضافہ جبکہ خلیجی ممالک بھی اسرائیل دوستی سے تائب ہوتے نظر آنے لگے ہیں۔
یہی وجہ کہ ایران امریکہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک اب تنہا کوئی پالیسی بنانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے اور اب ان کے اندر بھی اجتماعی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ ایران کو اللہ نے قربانیوں کے بعد موقع دیا جس طرح پاکستان کو بھارت سے جنگ نے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت نے پاکستان کی کامیابیوں کے دروازے کھولے تو اب امریکہ نے ایران کے لیے پابندیوں کے دروازے کھولے۔ مگر اب ایران کو اب معتدل اور متوازن پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت کہ اسے خطہ میں بالادستی اور انقلاب برآمدگی کے خواب سے نکلنا ہوگا۔ اسےخلیجی ممالک کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرانہ تعلقات استوار کرنا ہوں گے اور اس کے لیے اسے پاکستان جیسا مخلص اور معاملہ فہم دوست میسر۔
خبر تو یہ بھی پے کہ اب اقوام متحدہ نے بھی غزہ میں نسل کشی پر اسرائیل کو بلیک لسٹ ممالک میں شامل کر دیا گرچہ یہ علامتی ہی سہی مگر بڑا اقدام اور غزہ کے مقتولین و مظلومین کی اخلاقی فتح۔ ایسے میں ٹرمپ کی ابراہم اکارڈ کی تجویز اسرائیلی لابی کو لولی پاپ کے سوا کچھ نہیں کہ اسرائیل کو دو ریاستی حل قبول نہیں تو پاکستان و سعودی عرب کی زیر قیادت مسلم ممالک کو مجوزہ اکارڈ۔

