Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. America Aur Pakistan Ka Rishta

America Aur Pakistan Ka Rishta

امریکا اور پاکستان کا رشتہ

امریکا اور پاکستان کا رشتہ عجیب رہا ہے۔ کبھی ایسا لگا جیسے دونوں لازمی اتحادی ہیں اور کبھی یوں محسوس ہوا جیسے دو سسرالی رشتے دار صرف جنازوں اور شادیوں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کو کبھی فرنٹ لائن اتحادی کہا، کبھی دہشت گردی کا مرکز۔ پاکستان نے بھی کبھی امریکی ڈالروں کو قومی مفاد قرار دیا اور کبھی امریکی خواہشات کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے دعوے کیے۔

سب سے بڑا قصہ ایٹم بم کا ہے۔ امریکا کا کہنا تھا کہ دیکھو بھئی یہ ایٹمی پروگرام اچھی چیز نہیں۔ تم غریب ملک ہو، روٹی کپڑا مکان پر دھیان دو۔ جبکہ بھٹو صاحب نے کہا کہ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم بنائیں گے۔ یوں ایک ایسا ملک جو آج تک سیوریج کا نظام درست نہ کر سکا اس نے ایٹم بم بنا لیا۔ امریکا نے جواباً پابندیاں لگائیں، دھمکیاں دیں، لیکچر دیے مگر پاکستان نے اپنا پروگرام جاری رکھا۔

پھر 1998 آیا۔ بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو امریکا فوراً پاکستان کے دروازے پر پہنچ گیا۔ کبھی مشورہ، کبھی دھمکی کہ جوابی دھماکے نہ کرنا ورنہ یوں ہو جائے گا ووں ہو جائے گا۔ پاکستان نے چند دن خاموشی اختیار کی۔ قوم ٹی وی چینل سے چپکی رہی۔ اخبارات میں سرخیاں لگیں۔ پھر ایک دن اچانک چاغی کے پہاڑوں سے دھواں اٹھا اور وزیراعظم نے اعلان کر دیا کہ ہم نے حساب برابر کر دیا ہے۔

امریکا نے لیکچر افغانستان کے معاملے پر بھی دیے۔ کہا گیا کہ طالبان کے خلاف "ڈو مور" کرو۔ پاکستان نے کچھ کیا، کچھ نہ کیا، کچھ کرتے ہوئے دکھایا اور کچھ نہ کرتے ہوئے بھی رپورٹیں بھجواتا رہا۔ واشنگٹن کو ہمیشہ شک رہا کہ اسلام آباد ڈبل گیم کرتا ہے۔ اِدھر پاکستان کا مؤقف تھا کہ امریکا کو اس خطے کی تاریخ کی سمجھ ہی نہیں آئی۔

چین کا معاملہ دیکھ لیں۔ امریکا نے دنیا کو سمجھانا شروع کیا کہ چین آنے والے وقت کا خطرہ ہے۔ پاکستان نے جواباً چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کر لی۔ دفاعی معاہدے ہو گئے اور پھر وقت کے ساتھ سی پیک کا اعلان بھی ہوا۔ گویا امریکا جس کے بارے کہہ رہا تھا کہ اس لڑکے سے دوستی نہ کرو پاکستان نے اسی لڑکے کے ساتھ بزنس پارٹنرشپ کر لی۔

ایران کے معاملے پر بھی پاکستان نے ہمیشہ مکمل امریکی لائن اختیار نہیں کی۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکا ناراض ہوتا رہا مگر پاکستان وقتاً فوقتاً اس منصوبے کی فائل جھاڑ کر میز پر رکھ دیتا ہے اور یہ قدم بھی پاکستان نے خود اُٹھایا تھا۔ بلآخر امریکا ایران کے معاملے میں زچ ہو کر معاشی پابندیاں لگوانے اقوام متحدہ پہنچ گیا تب مجبوراً پاکستان کو منصوبہ روکنا پڑا اور آج تک فریز ہے۔ پاکستان آج کے حالات میں اپنا مفاد بھی دیکھ رہا ہے۔ ایران امریکا صلح ہوتی ہے تو اس کا فائدہ گیس پائپ لائن کی صورت پاکستان اُٹھانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

سرد جنگ کے بعد طویل عرصہ پاکستان امریکا کے کیمپ میں رہا لیکن پچھلی ایک دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ معاشی اور توانائی کے شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی کوشش کی ہے جسے امریکا پسند نہیں کرتا۔ اُدھر پوٹن نے بھی پاکستان کو باہمی مفاد کے تعلق سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور آج پاک روس تعلقات ماضی کی نسبت بہت اونچے مقام پر ہیں۔

اب اسرائیل کا معاملہ درپیش ہے۔ امریکی صدر چاہتا ہے کہ مسلم دنیا زیادہ سے زیادہ ابراہیم اکارڈ کا حصہ بنے اور پاکستان سے بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ عرب دنیا کے کئی ممالک اس راستے پر چل پڑے مگر پاکستان اب تک رکا ہوا ہے۔ وجہ صرف خارجہ پالیسی نہیں، عوامی جذبات بھی ہیں۔ فلسطین صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں ایک ایمانی مسئلہ ہے۔ جواب میں پاکستان نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات دراصل دو طرفہ ضرورت اور اپنی ضرورت کے درمیان معلق ایک ایسی کہانی ہیں جس میں دونوں ایک دوسرے سے ناراض بھی رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر گزارہ بھی نہیں کرتے۔ امریکا کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور عرب ممالک سے تعلقات کا ادراک ہے اور پاکستان کو کبھی ڈالر، کبھی اسلحہ، کبھی سفارتی سہارا چاہئیے ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی مواقع پر پاکستان نے امریکا کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا مثلاً روس کے خلاف افغان جنگ، نائن الیون کے بعد کی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات میں۔ اس لیے تعلقات کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر نہیں بنتی۔ تاریخ میں بہت سے لمحات ایسے ضرور ہیں جب پاکستان نے امریکا کی بات سن کر مسکرا کر ٹالا یا ہنس کے کہا کہ آپ کی بات اپنی جگہ مگر ہماری ضرورت کا تقاضہ کچھ یوں ہے اور وہی کریں گے۔

خیر، زیادہ مغز ماری پھر سہی۔ آپ عید انجوائے کریں۔

Check Also

Haramain Ki Hazri: Ghaibi Bulawa Ya Madi Istetaat?

By Abid Mehmood Azaam