Kya Japan 2038 Tak Khali Ho Jaye Ga?
کیا جاپان 2038 تک خالی ہو جائے گا؟

دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کا مرکز سمجھے جانے والے جاپان کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی آبادی بارہ کروڑ تیس لاکھ (123 ملین) سے بھی کم ہو چکی ہے۔ یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی، معاشی اور سیاسی بحران ہے جو آنے والے برسوں میں جاپان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے حیرت انگیز معاشی ترقی کی۔ صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اس نے دنیا کے لیے مثال قائم کی۔ لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پروان چڑھتا رہا جس نے آج ملک کو آبادی کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جاپان میں شرح پیدائش مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ اوسط عمر دنیا میں سب سے زیادہ شمار ہوتی ہے۔ نتیجتاً بزرگ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور نوجوان آبادی سکڑتی جا رہی ہے۔
جاپان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے جس رفتار سے ترقی کی، وہ ایک مثال تھی۔ صنعت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور نظم و ضبط نے جاپان کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں لا کھڑا کیا۔ مگر آج وہی جاپان ایک ایسے مسئلے سے دوچار ہے جس کا حل مشینیں اور ٹیکنالوجی بھی اکیلے نہیں دے سکتیں: انسانوں کی کمی۔
سب سے بڑی وجہ جاپان کی انتہائی کم شرحِ پیدائش ہے۔ ایک عورت اوسطاً ایک سے بھی کم بچہ پیدا کر رہی ہے، جبکہ کسی بھی ملک میں آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرح کم از کم 2.1 ہونی چاہیے۔ جاپانی نوجوان شادی سے گریز کر رہے ہیں اور اگر شادی ہو بھی جائے تو بچے پیدا کرنے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ مہنگی زندگی، طویل کام کے اوقات، بچوں کی تعلیم و پرورش کے بڑھتے اخراجات اور کیریئر کا دباؤ نوجوانوں کو اس فیصلے سے دور کر رہا ہے۔
دوسری بڑی وجہ جاپان کی بوڑھی ہوتی آبادی ہے۔ آج جاپان دنیا کے ان ممالک میں سب سے اوپر ہے جہاں 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہر تین میں سے ایک شہری بزرگ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بزرگ تیزی سے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، مگر ان کی جگہ لینے والے نوجوان موجود نہیں۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پورے پورے علاقے انسانی سرگرمی سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں جاپان میں خالی گھروں کا مسئلہ پیدا ہوا، جنہیں جاپانی زبان میں اکیا کہا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ جاپان میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں گھر خالی پڑے ہیں، مگر "90 کروڑ" گھروں کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ یہ خالی گھر عموماً دیہات اور چھوٹے شہروں میں ہیں، جہاں سے نوجوان روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کی طرف ہجرت کر گئے۔ والدین کے انتقال کے بعد یہ گھر وراثتی پیچیدگیوں، مہنگے ٹیکس اور قانونی مسائل کے باعث فروخت بھی نہیں ہو پاتے۔
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر آبادی کم ہو رہی ہے تو کیا جاپان کی معیشت ختم ہو رہی ہے؟ اس کا جواب ہے: نہیں، مگر خطرے میں ضرور ہے۔ جاپان اب بھی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، مگر ٹیکس دینے والے کم اور پنشن لینے والے زیادہ ہو رہے ہیں۔ لیبر فورس سکڑ رہی ہے، فیکٹریاں اور دفاتر کارکنوں کی کمی کا شکار ہیں اور کئی شہر ایسے بن چکے ہیں جہاں رات کے وقت سناٹا طاری رہتا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جاپان مختلف راستے آزما رہا ہے۔ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کو کاموں میں لایا جا رہا ہے، بزرگوں کو دوبارہ ملازمت کے مواقع دیے جا رہے ہیں، خواتین کو ورک فورس میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور خاندانی پالیسیوں میں نرمی لانے پر غور ہو رہا ہے۔ مگر یہ سب اقدامات اس وقت تک مکمل حل نہیں بن سکتے جب تک معاشرتی سوچ میں بنیادی تبدیلی نہ آئے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ جاپان خالی ہو جائے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید ترقی یافتہ معاشرے انسان کو اتنا مصروف اور تنہا بنا چکے ہیں کہ وہ نسل بڑھانے سے ہی دستبردار ہوگیا ہے؟ جاپان آج اس سوال کا عملی جواب بن چکا ہے۔
چند سال قبل مجھے ایک رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جاپان کے بعض دیہات ایسے ہیں جہاں اسکول بند ہو رہے ہیں کیونکہ بچے ہی نہیں رہے۔ بعض علاقوں میں گھروں کے دروازے برسوں سے نہیں کھلے۔ ہزاروں مکانات خالی پڑے ہیں اور بعض قصبے آہستہ آہستہ نقشے سے غائب ہو رہے ہیں۔ یہ منظر کسی جنگ یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ آبادی میں مسلسل کمی کا اثر ہے۔
جاپان کے بعد دوسرا بڑا ملک جو آبادی میں تیزی سے کمی اور شدید بڑھاپے (Aging Society) کا شکار ہے وہ ہے: جنوبی کوریا (South Korea) یہ بات ماہرینِ آبادیات تقریباً متفقہ طور پر کہتے ہیں۔
جنوبی کوریا کیوں جاپان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے؟
دنیا کی سب سے کم شرحِ پیدائش جنوبی کوریا کی شرحِ پیدائش 0.7 سے بھی کم ہے یعنی ایک عورت اوسطاً ایک بچہ بھی پیدا نہیں کر رہی۔ یہ شرح جاپان سے بھی بدتر ہے ماہرین کے مطابق: جنوبی کوریا کی آبادی 2030 کے بعد تیزی سے گرنا شروع ہوگی، 2100 تک آبادی تقریباً آدھی رہ جانے کا خدشہ ہے۔
اب آتے ہیں فطرت کی طرف، جی ہاں میرا مطلب آ پ لوگ سمجھ گئے ہونگیں کہ میرا مطلب دین فطرت یعنی اسلام ہے۔ دین اسلام میں ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں کا حل پوشیدہ ہے بس وہ نظر کا پیمانہ چاہیے۔
جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں کم شرح پیدائش کی بڑی وجوہات میں معاشی دباؤ، کیریئر کی دوڑ، شادی سے گریز اور مادیت پرستی ہیں۔ اسلامی تعلیمات ان مسائل کا حل پیش کرتی ہیں:
توکل علی اللہ، رزق کی فکر میں بچے پیدا کرنے سے گریز نہ کیا جائے۔ قرآنی اصول: "اور اپنی اولاد کو معاشی خوف سے قتل نہ کرو، ہم انہیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی" (سورۃ الانعام: 151)
شادی کو آسان بنایا جائے، مہنگے نکاح اور جہیز کے رواج کو ختم کیا جائے
مستقل اور عمومی پیدائش پر پابندی اسلام میں جائز نہیں۔ عارضی طور پر صحت یا شدید مجبوری کی صورت میں "عزل" (مانع حمل کی کچھ اقسام) صحابہ کرام کے دور میں بھی ہوا، لیکن نبی ﷺ نے اسے بہتر نہیں سمجھا اور فرمایا: "عزل کرو یا نہ کرو، اللہ نے جو بھی پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گا" (صحیح بخاری)۔ مستقل نسب بندی یا خاندانی منصوبہ بندی کی عالمی مہمات اسلام میں جائز نہیں جب تک کوئی شدید طبی ضرورت نہ ہو۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور اللہ نے تمہیں تمہاری اپنی جنس سے بیویاں بنائیں اور تمہیں بیویوں سے بیٹے اور پوتے پھوٹے دیے"۔ (سورۃ النحل: 72)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نکاح میری سنت ہے، جو میری سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہیں اور تم زیادہ نکاح کرو، کیونکہ میں قیامت کے روز تمہاری کثرت (امت کی بڑی تعداد) پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا"۔ (سنن ابی داود، صحیح بخاری و مسلم میں بھی اسی معنی کی حدیث ہے)
2.بچوں کو اللہ کی طرف سے نعمت قرار دیا گیا
قرآن میں اولاد کو "زینتِ حیاتِ دنیا" کہا گیا ہے (سورۃ الکہف: 46)۔
نبی ﷺ نے خوشخبری دی کہ جو لوگ بچوں سے محبت کرتے ہیں اور انہیں اچھی تربیت دیتے ہیں، وہ جنت میں ان کے ساتھ ہونگیں۔
ان سب مسائل کا حل حضرت حق کے کلام میں پوشیدہ ہے۔

