Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Tasheeri Mizaj Aur Aik Mukhlisana Guzarish

Tasheeri Mizaj Aur Aik Mukhlisana Guzarish

تشہیری مزاج اور ایک مخلصانہ گزارش

سوشل میڈیا پر آئے روز کسی نہ کسی مذہبی شخصیت، علمائے کرام یا فضلاءِ مدارس کی کوئی نہ کوئی ویڈیو موضوعِ بحث بنی رہتی ہے۔ دین سے وابستہ افراد کا اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے ویڈیوز بنانا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن اب بہت سے مذہبی حلقوں میں ان ویڈیوز کے ذریعے حد سے زیادہ ذاتی تشہیر اور نمائش کا رجحان بڑھنے لگا ہے، جو ان کے منصبِ جلیل کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ماضی اور حال کے کئی معتبر علمائے کرام تو سرے سے تصویر و ویڈیو کے جواز کے ہی قائل نہیں، ہم اگرچہ علماء کی دوسری رائے کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس فقہی بحث سے قطع نظر، آج بھی بہت سے جید علمائے کرام اس تشہیری رویے، سوچ اور مزاج کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔

​جامعۃ الرشید کے بعض فضلاء چونکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت زیادہ متحرک اور موضوعِ بحث رہتے ہیں اور ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر سے دعوت کے بجائے شخصی نمائش کا تاثر ابھرتا ہے اور چونکہ یہ فضلاء جامعۃ الرشید جیسے معتبر اور باوقار دینی ادارے کی پہچان سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ایک عرصے سے دل میں یہ گزارش موجود تھی، مگر ادب، احترام اور محبت کے باعث اسے زبان پر لانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت استاد صاحب مفتی عبد الرحیم عصرِ حاضر کی ممتاز علمی و دینی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا علمی مقام، دینی خدمات، فکری بصیرت اور حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے نسبت انہیں ایک منفرد اور ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے۔ جامعۃ الرشید، الغزالی یونیورسٹی اور دیگر دینی و تعلیمی منصوبوں کے ذریعے وہ جو گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ اہلِ علم سے مخفی نہیں ہیں۔ وہ اپنے فضلاء کے ساتھ ہمیشہ جڑے رہتے ہیں اور ان کی فکری و اخلاقی اصلاح بھی کرتے رہتے ہیں۔

​تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر مفتی صاحب کی شخصی سرگرمیوں کی غیر معمولی تشہیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کی ملاقاتیں، آمد و رفت، اسفار، روزمرہ مصروفیات اور مختلف نجی مواقع کی ویڈیوز مسلسل نشر کی جاتی ہیں۔ سفرِ حج کے دوران بھی روانگی سے لے کر مناسک کے مختلف مراحل تک کے متعدد مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے۔ بعض مواقع پر اگرچہ ادارہ جاتی یا دعوتی تشہیر ناگزیر ہوسکتی ہے، لیکن کئی بار یہ تشہیر غیر ضروری اور محض نمائش محسوس ہوتی ہے۔ مفتی صاحب اگرچہ دینی احکام بہتر سمجھتے ہیں، لیکن یہاں اصل سوال کسی عمل کے فقہی جواز یا عدمِ جواز کا نہیں، بلکہ علماء کے وقار، مزاج اور ان کی روایتی شناخت کا ہے۔

کیا حد سے زیادہ تشہیر واقعی اس منصب کے شایانِ شان ہے جسے امت ہمیشہ علم، اخلاص، متانت اور بے نفسی کی علامت سمجھتی رہی ہے؟ اور دینی اعتبار سے اس کا کیا فائدہ ہے؟ اگرچہ یہ سب کچھ ان کے متعلقین یا سوشل میڈیا ٹیم کرتی ہے، لیکن شاید یہ سب کچھ ان کی خاموش اجازت ہی سے ہو رہا ہے۔ ​یہ رجحان صرف کسی ایک مخصوص شخصیت یا ادارے تک محدود نہیں، مجموعی طور پر کئی دینی حلقوں اور اداروں میں اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سوشل میڈیا کی موجودگی زندگی کے ہر پہلو پر غالب آتی جا رہی ہے۔ بعض اوقات کوئی عالمِ دین اپنی علمی و تحقیقی خدمات سے زیادہ اپنی مسلسل آن لائن موجودگی اور "وائرل مواد" کی وجہ سے پہچانا جانے لگتا ہے۔

​ممکن ہے ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے دعوتِ دین، عوامی رابطے یا ادارہ جاتی ضروریات جیسے مثبت مقاصد موجود ہوں، لیکن نیت سے قطعِ نظر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرزِ عمل کے مجموعی معاشرتی اثرات کیا ہیں؟ اور اس سے عوام کے ذہنوں میں علماء کی شخصیت کا کیا تاثر قائم ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا نے ایک ایسی نئی نفسیات کو جنم دیا ہے جہاں یہ لاشعوری خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہر کام دوسروں کو دکھایا جائے، اس پر تبصرے ہوں اور اسے سراہا جائے۔ افسوس کہ بعض اوقات دینی خدمات اور عبادات بھی اسی پیمانے پر پرکھی جانے لگتی ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا معیار نہ فالوورز ہیں، نہ ویوز، نہ لائکس اور نہ ہی وائرل ہونا، بلکہ اصل معیار صرف اور صرف "اخلاص" ہے۔ جن اکابر نے دلوں پر حکمرانی کی، ان کی اصل قوت اخلاص، علم اور کردار تھا۔ ان کے پاس نہ سوشل میڈیا ٹیمیں تھیں، نہ پروفیشنل کیمرے اور نہ تشہیری مہمات، مگر ان کا اثر صدیوں بعد بھی قائم و دائم ہے۔ ان کی مقبولیت کا راز ان کی للّٰہیت اور بے نفسی تھی۔

​اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سوشل میڈیا کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ موجودہ دور میں یہ دعوتِ دین، تعلیم، اصلاح اور رہنمائی کا ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے، لیکن ضروری ہے کہ ذریعہ اور مقصد میں فرق برقرار رہے۔ سوشل میڈیا علم و دعوت کا وسیلہ ہو، شخصیت پرستی اور غیر ضروری نمائش کا میدان نہ بنے۔ پیغام کو مرکز بنایا جائے، شخصیت کو نہیں، علم کو نمایاں کیا جائے، ذات کو نہیں۔ ​یہ گزارش صرف کسی ایک ادارے یا فرد تک محدود نہیں، بلکہ تمام علماء، فضلاء اور دینی اداروں سے ہے کہ وہ اس ابھرتے ہوئے رجحان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اس کا مقصد کسی شخصیت یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ ایک مخلصانہ فکر کا اظہار اور التجا کرنا ہے۔

سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کریں، مگر اعتدال، وقار، اخلاص اور احتیاط کے ساتھ، کیونکہ ان کا مرتبہ بہت بلند ہے، جو سوشل میڈیا کے شوخ و چنچل مزاج اور تشہیر و نمائش کے رویوں سے مجروح ہو سکتا ہے۔ ​اللہ تعالیٰ ہمارے علماء کرام کے علم، اخلاص، وقار اور اثرات میں برکت عطا فرمائے، انہیں امت کے لیے مزید نافع بنائے اور ہم سب کو اپنی رضا کو ہر شہرت اور نمائش پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Darakht: Umeed, Muhabbat Aur Aane Walay Ka Ki Khamosh Dua

By Aftab Alam