Waqt Zaya Karne Ki Aafat
وقت ضائع کرنے کی آفت

وقت اللہ ربّ العزت کی ایک ایسی عام نعمت ہے۔ جو انسانی معاشرے میں امیر وغریب، عالم و جاہل، صغیر و کبیر سب کو یکساں طور پر ملی ہے۔ افراد اسے بہتر طور پر استعمال کرکے کامیاب بھی ہو سکتے ہیں اور ضائع کرکے ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔ وقت افراد اور قوموں کا سرمایہ ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں اسی سرمایہ کے ٹھیک استعمال ہی سے طے ہوتی ہیں اور اُنہی اقوام کی رہ گزر بن سکتی ہیں جو اس گراں قدر پونجی کو صحیح استعمال کرتی ہیں۔ دانا لوگوں کے بقول کسی قوم کے زوال کی پہلی علامت یہ ہے کہ اُس کے افراد ضیاع وقت کی آفت کا شکار ہوں۔
ہمارے ملک پاکستان میں بدقسمتی سے اکثر پروگراموں، روایتی تقریبوں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی وقت کے ضیاع کی پروا نہیں کی جاتی۔ لوگوں کا وقت پر نہ آنا، بلاوجہ انتظار کروانا اور وعدہ خلافی کرنا معمول بن چکا ہے جو کہ انفرادی واجتماعی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
گزشتہ دنوں کی بات ہے مجھے ایک شام ای میل پر پیغام موصول ہوا۔ اس میں کسی کمپنی کی طرف سے اسکالرشپ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ کہا گیا تھا کہ آپ کل اس وقت فلاں جگہ تشریف لائیں۔ رات کو پھر پیغام موصول ہوا کیا آپ کل تشریف لا رہے ہیں؟ تو میں نے کہا جی! ضرور۔ دوسرے دن مقررہ وقت پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں کافی لوگ آئے ہوئے تھے۔ میں جا کر نشست پر بیٹھ گیا۔ تلاوت اور نعت شریف کے 15 منٹ کے بعد اعلان ہوا کہ جن موصوف صاحب نے سیشن دینے آنا تھا وہ کسی اہم میٹنگ میں مصروف ہیں۔ لہٰذا آپ حضرات کل تشریف لائیں۔ یہ تو ایک مثال تھی، بدقسمتی سے اس طرح کے پروگرام روزانہ ہوتے ہیں۔ اگر مینجمنٹ پہلے ہی موصوف کے آنے یا نہ آنے کی تصدیق کر لیتی تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی اور شریک لوگ وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مالی اخراجات سے بھی بچ جاتے۔
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں وقت کی قدر کا فقدان ہے۔ جو کہ فرد کی ترقی کے ساتھ ساتھ اجتماعی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جبکہ اگر ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائی جائے تو وہاں پر وقت کی قدر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ جیسا کہ جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور ہیں جن کی ترقی اور مادی کامیابی میں وقت کی پابندی، منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کا اہم کردار ہے۔ ان ممالک میں وقت کی قدر کا مطلب ہر لمحے کو پیداواری اور بامقصد سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔ جو کہ ان کی معاشی خوشحالی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بھی وقت کی قدر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: وہ صحت اور فرصتِ وقت ہے۔
اگر ہم وقت کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں اور ملکی سطح پر حکومت بھی اپنی پالیسیوں میں وقت کی قدر کو اہمیت دے اور ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے پر زور دیا جائے تو ملکی ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے اور مملکت خداداد پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آ سکتا ہے۔

