Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Najeeb ur Rehman
  4. Aqal, Mazhab Air Qurbani

Aqal, Mazhab Air Qurbani

عقل، مذہب اور قربانی

ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کے دنوں میں سوشل میڈیا پر نام نہاد روشن خیالی کا بھوت سوار ہوا جو کہ اکثر سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک ناٹک محض ہوتا ہے۔

ایک صاحب نہایت درد بھرے لہجے میں لکھتے ہیں کہ جانور ذبح کرنے کے بجائے کسی غریب کو ائیر کولر خرید دیں۔ دوسرے فرماتے ہیں کہ قربانی پر لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے سڑکوں پر ٹھنڈے پانی کے کولر لگوا دیں۔ جبکہ تیسرے دانشور نے حساب لگا لیا کہ ایک بکرے کی قیمت سے کتنے یتیموں کی فیس ادا ہو سکتی ہے۔ گویا بقول امیر مینائی:

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

بظاہر تو یہ درد سننے میں دلکش لگتے ہیں لیکن اس درد کا دائرہ کار مذھبی احکامات میں نہیں بلکہ فلاح و بہبود اور حقوق العباد میں آتا ہے۔ حقوق العباد کو بنیاد بنا کر مذہبی احکامات کو پس پشت نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقتاً دونوں کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یہ بھی غور کے قابل امر ہے کہ فریضہ قربانی کا مقصد جانور یا گوشت سے تعلق نہیں بلکہ اطاعت سے منسلک ہے۔

مذہب جہاں انسانی عقل کو ختم نہیں کرتا وہیں پر یہ عقل کو اللہ تعالیٰ کے مقابل کھڑا بھی نہیں کرتا۔ اگر ہر عبادت کو صرف فائدے سے ناپنا شروع کر دیا جائے تو پھر نماز کے بارے میں بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پانچ وقت مسجد جانے کے بجائے وہ وقت کسی فلاحی ادارے میں لگا دیا جائے، تھانے جا کر کسی کی ضمانت کروا دی جائے، کسی لڑائی جھگڑے میں صلح کروا دی جائے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح روزے کے بارے میں بھی دلیل دی جا سکتی ہے کہ بھوکا رہنے سے بہتر ہے کسی غریب کو کھانا کھلا دیا جائے۔ حج کے بارے میں بھی اعتراض کھڑا کیا جا سکتا ہے کہ اتنے اخراجات سے کئی اسپتال بن سکتے ہیں۔

قربانی کی اصل روح گوشت نہیں بلکہ نفس کی گردن پر چھری رکھنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے واقعے میں اللہ کو خون درکار نہیں تھا، اطاعت درکار تھی۔ قرآن نے تو صاف کہہ دیا کہ نہ گوشت اللہ تک پہنچتا ہے نہ خون، اُس تک صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔ مگر اندھی روشن خیالی ہر اُس عمل کو مشکوک سمجھنے لگی ہے جس میں فوری مادی فائدہ نظر نہ آئے۔

جب روشن خیالوں میں روشن خیالی کے بھوت کو نکالنے کی سعی کی جائے تو یہ طبقہ سوال گھڑ لیتا ہے کہ چودہ سو سال پرانے احکامات آج کے دور میں کیسے چل سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر چور کے ہاتھ کاٹنے یا زانی کو سنگسار کرنے کے احکامات پیش کیے جاتے ہیں۔

دراصل یہ طبقہ ایک بنیادی فرق نظر انداز کر جاتا ہے۔ اسلام میں کچھ احکامات فرد سے متعلق ہیں اور کچھ ریاست سے۔ قربانی، نماز، روزہ، زکوٰۃ فرد کی انفرادی ذمہ داری ہیں۔ جبکہ حدود، عدالتیں اور سزائیں ریاستی نظام سے منسلک باتیں ہیں۔ اگر آج مسلم ریاستیں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہیں تو اسے اسلام کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ مسلمانوں کی کمزوری ہے۔

عجیب منطق ہے کہ چونکہ پورا نظام نافذ نہیں اس لیے جو نافذ ہو سکتا ہے وہ بھی چھوڑ دیا جائے۔ گویا جیسے کوئی طالب علم کہے کہ چونکہ پورا تعلیمی نظام خراب ہے اس لیے میں کتاب ہی نہیں کھولوں گا۔ یا کوئی مریض کہے کہ چونکہ پورا اسپتال بدانتظامی کا شکار ہے اس لیے میں دوائی بھی نہیں کھاؤں گا۔

آج کا جدید انسان عبادت کو چوائس سمجھتا ہے، جبکہ مذہب اسے اطاعت کہتا ہے، سر تسلیم خم کہتا ہے۔ یہ روشن خیال لوگ اللہ کے احکامات کو اپنی عقل کی عدالت میں پیش کرتے ہیں، پھر فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ کون سا حکم عملاً ہے اور کون سا حکم آؤٹ ڈیٹڈ۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو خدا کی جگہ بٹھانے لگا ہے۔ شاید اسی لیے آج انسان ہر اُس حکم سے بے چین ہوتا ہے جہاں اسے اپنی خواہش، اپنی منطق یا اپنی انا کو پیچھے ہٹانا پڑے۔ حالانکہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، یہ اپنے اندر کے تکبر، خود پسندی اور عقل کے غرور کو ذبح کرنے کی علامت بھی ہے۔

البتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فلاحی کام غیر ضروری ہیں۔ اگر کوئی شخص قربانی بھی کرے اور ساتھ کسی غریب کے لیے پنکھا، ائیر کولر یا پانی کا کولر بھی لگوا دے تو یقیناً یہ زیادہ خوبصورت عمل ہے۔

ایک نیکی کو بنیاد بنا کر دوسری عبادت کو غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش کرنا روشن خیالی نہیں بلکہ خام خیالی کہلاتی ہے۔ کیونکہ جس دن انسان نے یہ اصول مان لیا کہ وہ اپنی عقل کی بنیاد پر طے کرے گا کہ خدا کے کون سے احکامات ضروری ہیں اور کون سے نہیں، اُس دن مذہب آسمان سے اتر کر صرف انسانی پسند ناپسند کا مجموعہ بن جائے گا۔

حاصلِ بحث یہ ہے کہ مذہب کو صرف انسانی عقل، معاشی فائدے یا وقتی مصلحت کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا کیونکہ بعض عبادات کی اصل روح اطاعت اور خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ قربانی محض گوشت تقسیم کرنے کا عمل نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش، منطق اور انا کو جھکا دینے کی علامت ہے۔ فلاحی کام، غریبوں کی مدد اور پانی کے کولر لگوانا یقیناً نیکی ہیں مگر انہیں مذہبی عبادات کا متبادل بنا دینا درست طرزِ فکر نہیں۔ اسی طرح ریاستی سطح پر بعض اسلامی قوانین کا نافذ نہ ہونا اس بات کا جواز نہیں بنتا کہ فرد بھی اپنی استطاعت کے مطابق عبادات ترک کر دے۔

المختصر، مذہب دراصل اپنی پسند کے احکام چننے کا نام نہیں بلکہ خدا کے سامنے ایک حد تک اپنی عقل اور خواہش کو سرِ تسلیم خم کر دینے کا نام ہے۔ بقول شاعر مشرق:

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

Check Also

Haramain Ki Hazri: Ghaibi Bulawa Ya Madi Istetaat?

By Abid Mehmood Azaam