Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Patang Bazi Aur Pulao Wala Pateela

Patang Bazi Aur Pulao Wala Pateela

پتنگ بازی اور پلاؤ والا پتیلا

ہماری نسل کے تقریباً ہر فرد کے بچپن میں دو چیزیں مشترک تھیں: گرمیوں کی چھٹیاں اور تپتی دوپہر میں چھتوں پر پتنگ بازی، ہر محلے میں چند ایسے لوگ ضرور ہوتے تھے جو خود کو پتنگ بازی کا سلطان سمجھتے تھے اور بچے اُنہیں ایسے عزت دیتے جیسے آج لوگ یوٹیوبر کو دیتے ہیں، ایسی ہی ایک یادگار داستان میرے پتنگ باز پارٹنر ڈاکٹر رانا حمید صاحب سے منسوب ہے، موصوف رشتے میں میرے والد کے سگے ماموں زاد، بجلی محلہ کی ایک ہی گلی میں ہمارے گھر اور عمر میں مجھ سے چند سال بڑے ہونے کے باعث سینئر پارٹنر بھی تھے۔

میری ذمہ داری بڑی اہم نوعیت کی ہوتی تھی، گھر سے ملنے والے جیب خرچ میں سے پیسے بچانا، پھر حمید کے ہمراہ گوجرانوالہ روڈ پر واقع پان شاپ والی دکان سے سامان خریدنا، چہرے پر ایسا رعب ہوتا جیسے ہزاروں کا سودا کر رہے ہوں، حمید صاحب کے ذمے زیادہ تکنیکی کام ہوتے تھے، پانی گرم کرکے مانجھا تیار کرنا، شیشہ پیسنا، لیئی بنانا اور ڈور کو ایسے مہارت سے تیار کرنا کہ مخالف کی پتنگ دیکھتے ہی کانپ اٹھے، وہ مانجھا بناتے وقت اتنی سنجیدگی اختیار کرتے کہ مجھے کئی بار شک گزرتا کہ شاید مستقبل میں ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی سائنسدان بنیں گے، کبھی کبھی تو اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے ہوتے جیسے ایٹم بم کی تیاری جاری ہو۔

پھر وہ تاریخی لمحہ آتا جب ہم چھت پر مورچہ سنبھالتے، محلے کے بچے، چھتوں پر پھوپھیاں اور خالائیں اور آس پاس کے تماشائی سب آسمان کی طرف نظریں جمائے ہوتے، حمید صاحب پتنگ میں تلاویں ڈال کر بڑے فاتحانہ انداز میں مجھے حکم دیتے، "اوئے، پتنگ پکڑ، ذرا دور جا کے ہوا میں چھوڑ!" میں بھی اُس زمانے میں خود کو بین الاقوامی پتنگ باز ٹیم کا جونیئر کھلاڑی سمجھتا تھا، پتنگ ہاتھ میں پکڑ کر پوری سنجیدگی سے چھتوں پر دوڑ لگاتا، پھر مناسب ہوا دیکھ کر اسے فضا میں اچھال دیتا، اُدھر حمید صاحب چرخی سنبھالے ایسے کھڑے ہوتے جیسے جنگی جہاز کے پائلٹ کنٹرول روم میں موجود ہوں، جونہی پتنگ ہوا پکڑتی، اُن کے چہرے پر فخر کی چمک آتی اور اصل معرکہ شروع ہوتا، اگر آس پاس کوئی پیچ لڑانے والا موجود نہ ہوتا تو چند لمحوں کے لیے مجھے بھی پتنگ اڑانے کا اعزاز مل جاتا، میں چرخی پکڑتے ہی خود کو محلے کا سلطانِ بسنت سمجھنے لگتا، لیکن حمید صاحب ہر دس سیکنڈ بعد ہدایات دیتے رہتے:

"ڈور کو ڈھیل دے، اوئے کھینچ، اتنی نہیں، پتنگ نیچے جا رہی اے!" یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں پتنگ نہیں بلکہ جہاز لینڈ کرا رہا ہوں۔

اگر غلطی سے کسی کی پتنگ کاٹ لیتے تو ہماری خوشی کا عالم یہ ہوتا جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ہو، "بوکاٹاااا!" کی آواز پورے محلے میں گونجتی، بچپن کی معصوم خوشیوں کا ایک خوبصورت زمانہ تھا، چند سکوں کی ڈور، معمولی سی پتنگ اور دوستوں کا ساتھ، نہ مقابلے میں نفرت تھی، نہ حسد، صرف ہنسی، شور، دوستی اور آسمان کو چھونے کی خواہش تھی۔

حمید صاحب کی سب سے بڑی خصوصیت پیچ لڑانے میں مہارت تھی، وہ پیچ ایسے لڑاتے تھے جیسے شطرنج کا عالمی کھلاڑی چال چل رہا ہو، ہماری گلی کے تمام گھروں کی چھتیں آپس میں ملی ہوئی تھیں، اس لیے پتنگ بازی چھتوں کا میراتھن تھا، ہم گلی کے شروع میں طارق چوہان واپڈا والے کی چھت سے پتنگ اڑانا شروع کرتے، جونہی کوئی زبردست پیچ پھنستا، ہم آہستہ آہستہ اگلی چھت پر منتقل ہوجاتے، پھر اگلی، پھر اُس سے اگلی، یہاں تک کہ پتہ ہی نہ چلتا اور ہم پوری گلی عبور کرکے آخری گھر کی چھت تک پہنچ جاتے، یہ منظر بڑا تاریخی ہوتا تھا، ایک ہاتھ میں چرخی، دوسرے ہاتھ سے شلوار سنبھالتے، چھتوں پر دوڑتے ہوئے ہم خود کو ایکشن فلم کے ہیرو سمجھتے تھے، جب ڈور کم پڑنے لگتی تو پھر آخری مرحلہ شروع ہوتا: "کھینچا تانی!"

اس لمحے مہارت کم اور بازوؤں کی طاقت زیادہ کام آتی تھی، دونوں طرف کے پتنگ بازوں کیلئے جنگ پلاسی کا مرحلہ ہوتا تھا، حمید صاحب کے چہرے کے تاثرات اُس وقت دیکھنے والے ہوتے، آنکھیں سکڑی ہوئی، دانت بھینچے ہوئے اور آواز مسلسل: "بس ہُن گیا، ہُن گیا، اوئے کھینچ!" ایک مرتبہ ایسا تاریخی پیچ پھنسا جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے، پہلے ہم ایک چھت سے دوسری پر گئے، پھر تیسری، پھر چوتھی، آخرکار پورے محلے کی چھتیں عبور کر گئے لیکن پیچ برقرار، دونوں طرف کے پتنگ باز بادشاہ اپنی سلطنت بچانے پر تُلے تھے، کسی نے نیچے سے آواز لگائی: "پُترو، روٹی کھا لو پہلے!" مگر اُس وقت نہ بھوک یاد تھی نہ پیاس، حمید صاحب کے چہرے پر ایسا جوش تھا جیسے قوم کی عزت اُنہی کے کندھوں پر ہو، آخر وہ لمحہ آگیا جب ڈور تقریباً ختم ہوگئی، اب عام انسان تو رُک جاتا، مگر حمید صاحب عام انسان کہاں تھے، اچانک انہوں نے جذبہ جہاد کے ہاتھوں مجبور ہو کر آزمودہ ہتھیار "کھینچا تانی" آزمانے کا فیصلہ کیا اور بغیر پیچھے دیکھے الٹی سمت دوڑ لگا دی، پوری توجہ صرف پیچ پر تھی، دنیا، چھت، منڈیر، کششِ ثقل، سب چیزیں اُن کے ذہن سے غائب تھیں، مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے ساتھ والے گھر کی علامتی منڈیر صرف ایک اینٹ اونچی تھی، پاؤں پھسلا اور اگلے ہی لمحے وہ پوری شان سے کمر کے بل نیچے جا گرے۔

اب قسمت کا کمال دیکھیے، نیچے صحن میں ہماری ہمسائی باجی پلاؤ بنانے کیلئے بڑے پتیلے میں پیاز کا مصالحہ بھوننے کیلئے پورے انہماک سے بڑا چمچہ ہلا رہی تھی کہ اچانک آسمان سے "حمید بم" نازل ہوگیا، صاحب کمر کے بل پتیلے کے عین وسط میں جا گرے، دھماکہ ہوا اور پتیلا ٹیڑھا میڑھا ہوگیا، مٹی کا چولہا ٹوٹ کر بکھر گیا، باجی کی چیخ نکلی: "ہائے اللہ!" حمید صاحب چند سیکنڈ حیران پتیلے پر لیٹے رہے، جیسے خود سوچ رہے ہوں کہ آخر وہ پتنگ بازی سے پلاؤ کے پتیلے تک کیسے پہنچ گئے، "ہائے نی میں مر گئی"۔ کا شور سن کر حمید صاحب کے چہرے کا رنگ اُڑا اور حقیقت یاد آئی، وہ فوراً پتیلے سے اٹھے، کپڑوں سے مصالحہ جھاڑے بغیر اِدھر اُدھر دیکھا اور دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔

میں اوپر چھت سے یہ لائیو منظر دیکھ رہا اور ہنسی کے مارے میرا بُرا حال تھا، جبکہ بیچاری باجی ٹوٹے چولہے اور ٹیڑھے پتیلے کو دیکھ کر آدھی غصے میں تھی اور آدھی حیرت میں، بعد میں کئی دن تک پورے محلے میں چرچا رہا کہ "پتنگ بازی اپنی جگہ، مگر حمید نے پہلی بار پلاؤ میں لینڈنگ کی ہے"۔ محلے والے حمید صاحب کو دیکھتے تو مسکرا کر پوچھتے، "ڈاکٹر صاحب، آج کل پلاؤ کیسا چل رہا اے؟" حمید صاحب بڑی سنجیدگی سے بات ٹال جاتے، جیسے یہ قومی راز ہو۔

وقت گزرتا گیا، اگلے سال بسنت نما موسم آیا تو ہم دوبارہ چھتوں پر موجود تھے، پیچ لڑانے کی میری باری تھی، اتفاق سے ایک مرتبہ پھر زبردست پیچ پھنسا، ڈور تیزی سے کم ہونے لگی اور حسبِ پرانی روایت پتنگ کے ساتھ ساتھ چھتوں پر سفر شروع ہوگئے۔ ایک چھت، دوسری چھت، تیسری چھت اور پھر اچانک میں چونک گیا، ہم پلاؤ سانحہ والے مقام پر پہنچ چکے تھے، میرے دل میں خطرے کی گھنٹی بجی، میں نے احتیاطاً حمید صاحب کی طرف دیکھا، ڈور تقریباً ختم ہوچکی تھی، آخری مرحلہ آچکا تھا، یعنی "ہاتھ پھیرنا"، اچانک حمید صاحب نے جوش میں آکر میرے ہاتھ سے ڈور پکڑ لی اور بولے: "ہٹ! ایہ ہُن مینوں دے!" پوری طاقت سے ڈور کھینچتے کھینچتے حسبِ عادت الٹے پاؤں پیچھے کی جانب چلنے لگے، میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا کیونکہ مجھے پیچھے والی ایک اینٹ کی منڈیر صاف دکھائی دے رہی تھی، مگر حمید صاحب اُس وقت دنیا و مافیہا سے بے خبر تھے۔

اگلے ہی لمحے۔

دھڑاااام!

ایک خوفناک آواز گونجی۔

میں نے نیچے جھانکا، حمید صاحب ایک مرتبہ پھر اُسی ہمسائی باجی کے صحن میں، اُسی انداز میں، اُسی شان سے، پلاؤ والے پتیلے کے عین اوپر گرے ہوئے تھے، فرق صرف یہ تھا کہ اس بار باجی چیخ نکلتے ہی فوراً بولی: "ہائے اللہ! پھر اوہی مُنڈا!" میں اوپر چھت پر کھڑا ہنسی سے دوہرا ہوا جا رہا تھا جبکہ نیچے باجی چیخ رہی تھی اور حمید صاحب فرار کا راستہ تلاش کر رہے تھے، راہِ فرار آسان تھی، مگر اصل معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا کہ دنیا میں ہزاروں جگہیں موجود ہونے کے باوجود حمید صاحب ہمیشہ پلاؤ والے پتیلے میں ہی کیوں گرتے تھے۔

Check Also

Qurbani, Ishq e Ilahi Ki Dastan

By Shams Muneer Gondal