Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Mojtaba Khamenei Kahan Hain?

Mojtaba Khamenei Kahan Hain?

مجتبی خامنہ ای کہاں ہیں؟

مشرق وسطی میں جنگ کے بادل نہ چھٹنے کی وجہ سے عرب اور مغربی میڈیا میں مسلسل یہ سوالات کیے جارہے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کہاں ہیں؟ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ ان کی عدم موجودگی میں فیصلے کون کررہا ہے؟ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران میں سخت گیر عناصر اور اصلاح پسند رہنماوں کے درمیان اختلافات کی خبریں عام ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای فروری میں ہوئے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ان کی اہلیہ اور ان کا بیٹا مارے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ایرانی عوام نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نہ کسی جلسے میں دیکھا، نہ کسی تقریر میں سنا۔ صرف چند تحریری پیغامات سامنے آئے جن کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے کہ شاید وہ ان کے ترجمان نے لکھے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے اندر بھی یہ سوال اٹھنے لگا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای واقعی ملک کے سپریم لیڈر ہیں تو وہ منظر عام پر کیوں نہیں آتے۔ خاص طور پر سخت گیر حلقوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ وہ کم از کم آڈیو پیغام ہی جاری کردیں تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ وہ شدید زخمی ہیں یا شاید زندہ بھی نہیں رہے۔

ایران کی حکومت نے مجتبی خامنہ ای کی نئی تصاویر جاری نہیں کیں۔ تہران میں لگے بڑے بڑے پوسٹرز اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود تصاویر کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ اے آئی سے تبدیل یا تیار کی گئی ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنھوں نے عوامی طور پر دعویٰ کیا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات ہوئی لیکن یہ نہیں بتایا کہ ملاقات کہاں ہوئی، کب ہوئی اور کن معاملات پر بات ہوئی۔ اس ابہام نے شکوک مزید بڑھادیے۔

العربیہ نے بھی اس بارے میں رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور پس پردہ اہم فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ جنگی حکمت عملی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہیں۔ لیکن وہ الیکٹرانک آلات استعمال نہیں کرتے اور صرف چند قابل اعتماد افراد کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں بعض ذرائع کا حوالہ دیا گیا جن کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ روزمرہ فیصلے نہیں کرسکتے۔ اسی وجہ سے پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف زیادہ فعال نظر آرہے ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ماہر علی واعظ کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شاید صرف بڑے فیصلوں کی منظوری دیتے ہیں جبکہ اصل مذاکرات اور عملی معاملات دوسرے لوگ سنبھال رہے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کے پروٹوکول چیف مظاہر حسینی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر مکمل صحت مند ہیں۔ انھیں معمولی چوٹیں آئی تھیں، جن میں پاؤں اور کمر پر زخم شامل تھے جبکہ ایک چھوٹا سا دھاتی ٹکڑا کان کے پیچھے لگا تھا۔ وہ مناسب وقت پر خود سامنے آئیں گے۔

العربیہ نے واضح کیا کہ ان تمام وضاحتوں کے باوجود ایرانی عوام اور بیرون ملک سوالات ختم نہیں ہوئے۔ سپریم لیڈر کی مسلسل غیر موجودگی نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ شاید وہ زندہ ہی نہیں رہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس امکان کا ذکر کیا کہ شاید مجتبیٰ خامنہ ای مر چکے ہیں۔ یہ افواہیں اس وقت زیادہ پھیلیں جب ایران نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر استعمال کیں جنھیں اے آئی سے تیار شدہ سمجھا گیا۔

امریکی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے تھے۔ ان کے تمام بیانات تحریری صورت میں جاری ہورہے ہیں اور سرکاری میڈیا انھیں پڑھ کر سناتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سوالات صرف ایک شخص کی صحت کے بارے میں نہیں بلکہ ایران کے مستقبل، اس کے ایٹمی مذاکرات اور خطے کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری اور خاموشی سے متعلق خبریں کم اور قیاس آرائیاں زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب وہ خود سامنے آکر ایرانی عوام سے خطاب نہیں کریں گے۔

Check Also

Parhe Likhe Berozgaar Bache

By Rauf Klasra