Abdadi Bahar Ka Khwab
ابدی بہار کا خواب

فرانسیسی ناول نگار اونورے دے بالزاک نے اپنے ناول سنہری آنکھوں والی لڑکی میں ہندوستان کا جو تخیلاتی نقشہ کھینچا ہے، وہ صرف کسی سرزمین کی تعریف نہیں بلکہ انسان کے اُس ازلی خواب کی تصویر ہے جس میں وہ ایک ایسی دنیا تلاش کرتا ہے جہاں دکھ نہ ہو، محرومی نہ ہو، انکار نہ ہو اور محبت اپنی کامل ترین شکل میں موجود ہو۔ "آؤ ہندوستان چلیں جہاں بہار کا موسم ابدی ہے"، یہ جملہ دراصل ایک جغرافیہ کی دعوت نہیں بلکہ ایک روحانی آرزو کا استعارہ ہے۔
انسان ہمیشہ سے ایسی دنیا کا متلاشی رہا ہے جہاں زندگی کے موسم خزاں میں تبدیل نہ ہوں، جہاں امید کے پھول کبھی مرجھائیں نہیں اور جہاں محبت کا سورج ہمیشہ روشن رہے۔ بالزاک نے ہندوستان کو ایک خواب، ایک جنت، ایک طلسماتی دنیا کے طور پر پیش کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے باطن میں ایک ایسے ہی ہندوستان کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ کوئی اسے محبت میں ڈھونڈتا ہے، کوئی اقتدار میں، کوئی دولت میں اور کوئی عبادت میں۔ مگر جیسے ہی انسان اس خواب کے قریب پہنچتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ جنتیں زمین پر نہیں ہوتیں، وہ صرف دل کے خوابوں میں آباد رہتی ہیں۔
بالزاک کے اس اقتباس میں "جہاں ناں کا لفظ پیدا نہیں ہوتا" ایک غیر معمولی جملہ ہے۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا دکھ شاید یہی "نہیں" ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک انسان انکاروں کے صحرا میں سفر کرتا ہے۔ کسی کو محبت میں "نہیں" ملتی ہے، کسی کو عزت میں، کسی کو رزق میں، کسی کو خوابوں میں۔ یہی "نہیں" انسان کے وجود کو زخمی کرتی ہے۔ اسی لئے اس نے ہمیشہ ایسی دنیا کا تصور کیا جہاں ہر خواہش پوری ہو جائے۔ مگر اگر غور کیا جائے تو انسان کی اصل تربیت انہی انکاروں سے ہوتی ہے۔ اگر زندگی میں ہر خواہش فوراً پوری ہو جائے تو انسان کے اندر نہ صبر پیدا ہوگا، نہ تحمل، نہ جستجو، نہ تخلیق۔
دنیا کے عظیم شاعر، فلسفی، ادیب اور مفکر محرومیوں کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ جن لوگوں نے دکھ نہیں دیکھے، وہ زندگی کی گہرائیوں کو کبھی نہیں سمجھ سکے۔ اس لئے بالزاک کا یہ خواب جتنا حسین ہے، اتنا ہی ناممکن بھی۔ کیونکہ فطرت کا نظام تضادوں پر قائم ہے۔ اگر خزاں نہ ہو تو بہار کی خوبصورتی بے معنی ہو جائے۔ اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کی وقعت ختم ہو جائے۔ اگر جدائی نہ ہو تو محبت کی شدت باقی نہ رہے۔
"جہاں سورج صرف اس محل پر چمکتا ہے جو سفید ہے"، اس جملے میں تہذیب، طاقت، حسن اور طبقاتی تقسیم کی پوری تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے سفید محلوں اور تاریک بستیوں میں تقسیم رہا ہے۔ بادشاہوں کے محلات پر سورج زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے جبکہ غریبوں کی جھونپڑیوں میں اندھیرے جلد اتر آتے ہیں۔ دنیا کی ہر تہذیب میں طاقتور طبقات نے اپنے لئے الگ موسم پیدا کئے۔ ان کے باغ الگ، ان کی خوشبوئیں الگ، ان کے گیت الگ۔ لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ محلوں میں رہنے والے بھی اندر سے اتنے ہی تنہا ہوتے ہیں جتنے کسی جھونپڑی کے مکین۔
دولت انسان کو آسائش تو دے سکتی ہے، سکون نہیں۔ اقتدار خوف تو پیدا کرسکتا ہے، محبت نہیں۔ بالزاک نے شاید اسی لئے اس اقتباس میں محبت کو مرکز بنایا ہے۔ کیونکہ آخرکار انسان کی سب سے بڑی ضرورت محبت ہی ہے۔ جب انسان محبت سے خالی ہوجاتا ہے تو اس کے محلات بھی قبرستان بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بے شمار بادشاہ اپنی عظمت کے باوجود اندر سے شکست خوردہ تھے۔ ان کے پاس سلطنتیں تھیں مگر ایک سچا دل نہیں تھا جو انہیں بے غرض محبت دے سکے۔
بالزاک کا یہ جملہ کہ "پرندے محبت کے گیت گاتے ہیں اور وہاں جب کوئی مزید محبت نہیں کرسکتا تو مر جاتا ہے" انسانی نفسیات کی انتہائی گہری سچائی بیان کرتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان جسمانی موت سے پہلے جذباتی موت مرتا ہے۔ جب اس کے اندر محبت ختم ہوجاتی ہے، حیرت مرجاتی ہے، خواب بجھ جاتے ہیں، تب وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک لاش بن جاتا ہے۔ محبت صرف رومان نہیں، بلکہ زندگی کی اصل توانائی ہے۔ ایک ماں کی محبت، ایک استاد کی محبت، ایک دوست کی محبت، ایک شاعر کی انسانیت سے محبت، یہی وہ جذبے ہیں جو دنیا کو زندہ رکھتے ہیں۔
جب معاشروں سے محبت ختم ہوجاتی ہے تو وہاں نفرت، تعصب، جنگ اور بربریت جنم لیتی ہے۔ آج کی دنیا ٹیکنالوجی میں جتنی ترقی کرچکی ہے، دلوں کے اعتبار سے شاید اتنی ہی غریب ہوگئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اندر سے الگ تھلگ ہیں۔ ہر شخص اپنے وجود کے صحرا میں تنہا کھڑا ہے۔ ایسے میں بالزاک کا خواب اور زیادہ حسین لگنے لگتا ہے، کیونکہ انسان آج بھی ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں محبت آخری سچ ہو۔
اقتدار، حسن، دولت اور محبت کا یہ امتزاج دراصل بالزاک کے پورے فکری نظام کا حصہ ہے۔ اونورے دے بالزاک انسانی خواہشات کے عظیم تجزیہ نگار تھے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں بار بار یہ دکھایا کہ انسان بظاہر جتنا مہذب نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی بے چین، حریص، خوفزدہ اور تنہا ہوتا ہے۔ ان کے کردار ہمیشہ کسی نہ کسی خواب کے پیچھے بھاگتے ہیں، مگر جب خواب حقیقت بنتا ہے تو اس کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔ یہی انسانی فطرت ہے۔ انسان جس چیز کو حاصل نہیں کرسکتا، اسے جنت سمجھتا ہے اور جب حاصل کرلیتا ہے تو اس میں خامیاں تلاش کرنے لگتا ہے۔ شاید اسی لئے زندگی کا حسن تلاش میں ہے، منزل میں نہیں۔ ہندوستان یہاں صرف ایک استعارہ ہے، ایک ایسے خواب کا استعارہ جسے انسان کبھی مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتا۔ مگر یہی نامکمل خواب اسے زندہ رکھتے ہیں۔ اگر انسان کے پاس خواب نہ ہوں تو وہ اندر سے مر جائے۔
بالزاک کے اقتباس کا آخری جملہ، "جہاں مرنے والے اکٹھے مرتے ہیں"، اپنے اندر ایک عجیب اداسی رکھتا ہے۔ انسان بنیادی طور پر ایک سماجی وجود ہے۔ وہ تنہا جینا نہیں چاہتا، تنہا مرنا بھی نہیں چاہتا۔ ہر انسان دل کی گہرائی میں یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی خوشیاں اور غم کسی کے ساتھ مشترک ہوں۔ یہی رفاقت زندگی کو معنی دیتی ہے۔ شاید اسی لئے تاریخ میں عظیم محبتوں کے قصے زندہ رہے۔ مرزا غالب نے کہا تھا کہ "عشق نے غالب نکما کر دیا، ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے"۔
محبت انسان کو کمزور بھی کرتی ہے اور مکمل بھی۔ یہی محبت انسان کو فنا کے خوف سے آزاد کرتی ہے۔ بالزاک نے اپنے تخیل میں ایک ایسی دنیا بنائی جہاں لوگ اکیلے نہیں مرتے، کیونکہ وہاں محبت آخری لمحے تک ان کے ساتھ رہتی ہے۔ مگر ہماری دنیا میں المیہ یہ ہے کہ لوگ ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں۔ شاید اسی لئے ادب آج بھی ضروری ہے، کیونکہ ادب انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ ابھی مکمل طور پر پتھر نہیں ہوا، اس کے اندر ابھی خواب باقی ہیں، محبت باقی ہے اور ایک ایسی ابدی بہار کی خواہش بھی، جہاں زمین صرف پھول پیدا کرتی ہو۔

