Punjab Aur Wehshat Ka Mahol
پنجاب اور وحشت کا ماحول

گزشتہ روز ستھرا پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ تنخواہ نہیں لیتیں لیکن پریشر لیتی ہیں اور چار سے پانچ گھنٹے نیند لینے کے بعد بھی سارا دن ہشاش بشاش رہتی ہیں۔ اصل میں وزیر اعلٰی کا تعلق ملک کی ایلیٹ کلاس سے ہے اور ان کے خاندان کے اندر وزارت عظمی اور وزارت اعلٰی جنم لیتی ہیں۔ ملک کے بے شمار وسائل استعمال کرکے اور جہازوں و پروٹوکول کی سینکڑوں گاڑیوں میں سفر کرکے اور اپنی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے خلق خدا کو جرمانوں اور ٹیکسوں کی سولی پر لٹکانے کی طاقت حاصل کرکے اگر چند لاکھ کی تنخواہ نہ بھی وصول کی تو کیا فرق پڑتا ہے۔ جتنی وزیر اعلٰی کی ماہانہ تنخواہ بنتی ہے اس سے تو کئی گنا زیادہ رقم روزانہ ان کی ذاتی تشہیر پر خرچ ہو جاتی ہے۔ پنجاب میں حالات بہت اچھے نہیں ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ پچھلے دو سال میں درجنوں منصوبے پنجاب میں شروع ہوئے جن میں سے کچھ تو گراؤنڈ پر دکھائی دیتے ہیں لیکن اکثر موبائل ایپس اور ڈیجیٹل دنیا میں کہیں گھومتے نظر آتے ہیں اور ان منصوبوں کی کارکردگی کبھی پبلک نہیں کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کا سب سے کامیاب منصوبہ ستھرا پنجاب ہے جس کا بجٹ دو کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اور خود وزیر اعلٰی نے اس پر عدم اعتماد کیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز کے وزیر اعلٰی بننے کے بعد پنجاب کی عوام عدم تحفظ کا شکار ہوئی ہے اور پنجاب میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ پریشان بھی ہیں اور خوفزدہ بھی کیونکہ اس حکومت نے جو بھی کام کئے ہیں ان میں عوام کی شمولیت کی بجائے بیوروکریسی کا جبر اور پولیس کی وحشت شامل رکھی گئی ہے۔ مریم نواز کے اقتدار کے ابتدائی مہینے بڑے حوصلہ افزا تھے جس میں عوام کی فلاح کے لئے کئی اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ ستھرا پنجاب، تعلیمی وظائف، لیپ ٹاپ سکیم سمیت ماحولیاتی آلودگی کے لئے گرین پنجاب کے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا تھا۔ یہ وہ سارے اقدامات ہیں جنہیں عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی تھی۔
پچھلے ایک سال میں لگتا ہے کہ مریم نواز کو بیوروکریسی نے پوری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ اس سال کے جتنے بھی منصوبے اور کاروائیاں ہیں انھوں نے کلی طور پر عوام کی تکلیفوں میں اضافہ کیا ہے اور لگتا ہی نہیں ہے کہ کوئی عوامی حکومت پنجاب میں کام کررہی ہے۔ اس وقت جبکہ ملک میں بدترين معاشی حالات ہیں اور پچھلے ایک سال میں لوگوں کی ضروریات زندگی پر اٹھنے والے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور کچن کی اشیا سے لے کر ٹرانسپورٹ کی مد میں خرچ ہزاروں روپے تک بڑھ چکا ہے۔ پٹرول و بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بڑی کمپنیوں نے گھی، آئل، چائے، ادویات اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی مد میں اضافہ کرکے عوام کی رہی سہی سکت بھی چھین لی ہے۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنے حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے اچھے فیصلے کرسکیں اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں لا سکیں۔ ليکن حکومت نے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا بلکہ ایسے فیصلے کئے کہ زخم رسنے لگے۔ پچھلا ایک سال پنجاب کے عوام کے لئے مشکل ترین دور تھا جب سرکاری محکموں سے لوگوں کو نکالا گیا اور بڑے پیمانے پر سرکاری اسامیوں کو سرے سے ختم کیا گیا، ہسپتالوں اور سکولوں کی نجکاری کرکے ہزاروں افراد خو بیروزگار کیا گیا، پراپرٹی کے کاروبار کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا اور عمارتی سامان پر ٹیکس لگا کر لوگوں کے لئے گھر کے خواب کو مشکل بنادیا گیا۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے بیروزگاری بڑھی اور پہلی بار پنجاب میں بیروزگاری کی شرح سات فیصد سے تجاوز کر گئی، غربت کی شرح چالیس فیصدتک جا پہنچی۔
ایسے حالات میں کوئی بھی سمجھدار حکومت ہوتی تو وہ لوگوں کے لئے روزگار کے حصول کو آسان بنانے کی کوشش کرتی تاکہ ملکی آمدنی میں اصافہ ہوتا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ حکومت نے جو اقدام اٹھائے وہ اگر درست تھے بھی تو بروقت نہیں تھے۔ حکومت نے سڑکوں سے ٹھیلے اٹھائے اور چلتے پھرتے پھل سبزی بیچنے والے ہاکروں کے موٹر سائیکل رکشے اور ریڑھیاں قبضے میں لے کر توڑ ڈالیں اور سکریپ میں بیچ دیں۔ لاکھوں لوگوں سے ان کی روٹی کمانے کا ذریعہ چھین کر گھروں میں قید کردیا اور بیشتر پر پرچے کاٹ کر جو کچھ جیبوں میں تھا کچھ سرکار نے جرمانوں میں وصول کرلیا اور کچھ سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں چلا گیا۔
حکومت نے جو سرکاری ریڑھیاں اور سہولت بازاروں کے سٹال بھی تقسیم کئے ان میں بھی سیاسی اور انتظامی طور پر کرپشن نظر آتی ہے۔ جن لوگوں کے ٹھیلے اٹھائے گئےتھے انہیں متبادل دینے کی بجائے اپنے بندوں کو نوازا گیا، سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد نے سٹال اور ٹھیلے لے کر آگے کرائے پر دے دئیے یا فروخت کر دئیے۔ اس کے بعد ٹریفک ڈسپلن کے نام پر جرمانوں کے ڈھیر لگادئیے۔ چند سو روپے کمانے والوں کو ہزاروں روپے کے جرمانے کئے گئے۔ ڈلیوری اور رائڈر کا کام کرنے والے نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا اور کالج جاتے بچوں پر لائسنس کے نام پرچے کاٹے گئے جبکہ دوسری طرف اربن ٹرانسپورٹ کی سہولت کے شدید فقدان نے لوگوں کو ذہنی مریض بنادیا۔
ہزاروں نوجوانوں کی روزی چھوٹ گئی ليکن حکومت نے ان لوگوں کے لئے کچھ نہ کیا۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کے نام پر مریضوں کا استحصال کیا گیا اور ہسپتالوں کی انتطامیہ اور ڈاکٹروں کے لئے کام کرنا عذاب بنادیا گیا۔ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا پورا بجٹ فراہم کئے بغیر مفت ادویات کی سیاسی لاٹھی گھمائی گئی اور اس طرح سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے مریضوں سے علاج کا حق چھین لیا گیا۔
میری جس بھی ہسپتال کے ایم ایس سے ملاقات ہوئی تو وہ یہی اعتراض کرتا ہے کہ ادویات کا بجٹ ملتا نہیں اور مفت ادویات کی فراہمی کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ میوہسپتال میں پانچ ارب روپے کے عوض صرف ایک ارب پینتیس کروڑ فراہم کئے گئے جبکہ لاہور جنرل ہسپتال کو تین ارب کے ادویات کے بجٹ کے مقابلہ میں صرف ایک ارب روپے فراہم کیا جاتا ہے۔ میڈیسن کمپنیوں کے ہزاروں نمائندوں کو ہراساں کیا گیا اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنی جاب کی ذمہ داریوں سے روک کر ان پر پرچے کاٹے گئے جس سے مزید ہزاروں نوجوان فارغ ہوگئے اس طرح مریضوں کو ادویات بھی فراہم نہ کیں اور رجسٹرڈ کمپنیوں کے کاروبار بھی ختم کردیئے گئے۔ وہ وزیر اعلٰی جو دعوی کرتی ہیں کہ وہ خلوص دل سے کام کرتی ہیں ليکن انھوں نے صوبے کے ہر طبقہ کو ناصرف مفلوج کیا بلکہ ان پر شک کی بناء پر مقدمے بنائے گئے اور ان کو بے توقیر کیا۔
اب حکومت پر جنون سوار ہوگیا ہے کہ یورپ کی طرز پر شام کو مارکیٹیں جلدی بند کروائی جائیں تو اس خواہش پر بھی تاجروں اور دکانداروں کی وہ درگت بنائی گئی کہ اللہ خیر ہی کرے۔ بے تحاشا مہنگائی کرکے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگوں کو زیادہ کام کرکے زیادہ پیسے کمانے کے مواقع فراہم کئے جاتے تاکہ وہ حکمرانوں کے لئے پیسہ اکٹھا کر سکیں بلکہ لوگوں کی دکانوں کو آٹھ بجے بند کرنے کی خواہش میں پیرا فورس اور پولیس کو مارکیٹوں میں کھلا چھوڑا گیا۔ اگر گاہک کو ڈیل کرتے ہوئے کوئی دکان پانچ دس منٹ بھی وقت سے زیادہ کھلی رہے تو پولیس اور پیرا فورس والے انھیں اس طرح دبوچتے ہیں گویا کوئی غير ملکی ایجنٹ ہوں۔
اس وقت پنجاب کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جو مہنگائی اور ٹیکس دینے کے بعد باقی بچتا ہے وہ پولیس، ٹریفک نظام، پیرا فورس اور ایکسائز اور ٹیکس کے محکمے چھین لیتے ہیں۔ وزیر اعلٰی صاحبہ آپ تنخواہ بے شک دگنی لے لیں ليکن لوگوں کو جینے کا حق ضرور دیں ورنہ آپ کی کاسمیٹکس سوچ سب کچھ تباہ کردے گی۔ اس وقت بھی لاہور کے بڑے کاروباری مراکز کی تزئین کے نام پر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ اچھرہ بازار، نیلا گنبد مارکیٹ اور داتا دربار مارکیٹ کو گرا کر ایک سال سے مسلسل کاروباری سرگرمیوں کو بند کیا گیا ہے جبکہ چونگی امرسدھو سے ڈیفنس روڈ پر کئی مہینوں سے گڑھے ڈال کر چھوڑ دیا گیا ہے۔
دو موریہ پل سے لے کر رنگ روڈ تک توسیعی منصوبے کی نظر ہزاروں دکانیں اور کاروبار ملیامیٹ کرنے کا پلان ہے۔ اس وقت جبکہ لوگوں کو روٹی کمانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور پنجاب میں حکومت شہر کو خوبصورت بنانے میں مصروف ہے۔ ایک طرف ادویات اور سبسڈی کے لئے حکومت کے پاس پیسے نہیں لیکن توڑ پھوڑ اور تزئين آرائش کے لئے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ لگتا ہے حکومت کو لوگوں کی صحت اور روزگار کی فکر نہیں ہے بلکہ سڑکوں اور دیواروں پر اپنی تصویریں چسپاں کرنے کا جنون سوار ہے۔

