Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayaz Khawaja
  4. Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (5)

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (5)

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (5)

4 - افغانی چائے

عمر نے اپنی چیزیں اٹھائیں اور اس آدمی کا پیچھا کرنے لگا جو قاسم کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ اسکی سائیکل کے ساتھ ساتھ "کریم شوز" سے کچھ فاصلے پر چل رہا تھا۔ اس نے دل میں کہا "اب بہت ہوگیا" اور پھر وہ بھاگتے ہوے اس کے بلکل قریب پہنچ گیا۔ اسے یقین تھا کے وہ قاسم کا ہی پیچھا کر رہا ہے۔ " اگر یہ قاسم نہ ہوا تو؟ بہت مایوسی ہوگی" وہ منہ میں بڑبڑایا۔ تمام پریشان کن سوچوں کے باوجود عمر اسکا پیچھا کرتا رہا اور آخر اسے کندھے سے دبوچتے ہوے پکڑ لیا، "معاف کرنا، لیکن بہت ضروری بات ہے"۔ ہاں! وہ قاسم ہی تھا، حواس باختہ اور ڈرا ہوا۔ جب عمر نے اسکا چہرہ دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا!

قاسم بغیر کچھ کہے چلتا رہا، آخر پانچ منٹ کے بعد وہ ایک چائے کی دکان کے پاس جا کر رک گیا، کیونکہ دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ایک کپ چائے پر ہی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے دو کپ افغانی چائے کا آرڈر دیا۔۔ عمر نے قاسم سے بیٹھ کر چائے پینے کو کہا۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا اور کہا، "تمہارا شکریہ"۔

"تو۔ کیا تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟" عمر نے قاسم سے پوچھا جو ابھی بھی ہانپ رہا تھا۔ "میں اسے اپنی بیوی کی وجہ سے جانتا ہوں" اس نے چائے کی ایک لمبی چسکی لیتے ہوے جواب دیا۔ عمر نے بھی چائے کی ایک چسکی لی ا ور آنکھیں بند کر لیں جیسے وہ اس وقت بہت تھکاوٹ محسوس کر رہا ہو۔ "کیا تم مجھے اسکے گھر لے جا سکتے ہو؟" عمر نے جلدی سے اپنے اصل مقصد کی طرف آتے ہوے پوچھا۔ قاسم نے سر ہلاتے ہوے ہاں میں جواب دیا۔ کیا ہم اسی وقت وہاں جا سکتے ہیں؟ عمر نے دوبارہ پوچھا۔ قاسم رضامند ہوگیا اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں "خوم- Kholm" کے ایک گاؤں کی طرف چل دیئے۔۔

فرح کا گھر ڈھونڈنے وہ شہر کے شمال میں واقع ایک دوردراز گاؤں میں پہنچے۔ بہر حال انہوں نے پورا گاؤں چھان مارا لیکن اسکا گھر نہ مل سکا۔۔ انہوں نے گاؤں کے ہر گلی محلے میں فرح کی تصویر دکھاتے ہوے پوچھ گچھ کی لیکن کوئی کامیابی نہ ملی۔ عمر بہت نہ امید ہو چکا تھا، تھکاوٹ اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ قاسم نے اسے بتایا کے انجان جگہ پر کسی کو ڈھونڈتے ہوے ایسی مشکلات کا آنا ایک عام بات ہے، اس نے مزید بتایا کے اکثر گاؤں والے جانتے ہوئے بھی صحیح معلومات نہیں دیتے کہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ البتہ قاسم بہت پر امید تھا۔۔

مسز ہیج کو اسی صبح ایک نہ معلوم شخص کا فون آیا۔ فون کرنے والے نے مسز ہیج کو خبردار کیا کے وہ کسی کو نہ بتائے کے اسکا فون آیا تھا یا وہ تفتیش کے لئے فرح کے گھر گیا تھا۔ جب مسز ہیج نے پوچھا کہ کیا اسکا تعلق کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے ہے، تو وہ بولا "تم ویسا ہی کرو گی جیسا نے میں کہا؟" کسی کو یہ پتا نہیں چلنا چاہئے میں نے فرح کے گھر کی تلاشی لی"۔ فون رکھنے سے پہلے اس شخص نے بتایا کے وہ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی-سی سے بول رہا ہے۔ وہ بہت سے سوال پوچھنا چاہ رہی تھیں لیکن اس شخص نے فون بند کر دیا۔

مسز ہیج اس واقعے کے بارے میں عمر کو بتانے کا سوچ رہی تھیں کہ اسی دن عمر کا فون آگیا۔ افغانستان میں مسلسل تین دن فرح کی تلاش کے بعد عمر نے کچھ نئی معلومات لینے کے لئے فون کیا تھا۔ مسز ہیج نے اسکو بتایا کے اسے ایک فون آیا تھا جس میں سب کچھ راز رکھنے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کے وہ فون واشنگٹن ڈی سی سے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کے ایسا لگتا ہے فرح ایک عام لڑکی نہیں ہے۔ عمر بڑے غور سے سنتا رہا اور اور اس نے مسز ہیج سے وعدہ کیا کہ جلد دوبارہ فون کرے گا۔ مسز ہیج نے جواب میں کہا کہ وہ اسکے فون کا انتظار کریں گیں۔

عمر نے ایک خاص بات محسوس کی کے مسز ہیج آج اس سے بہت نرمی سے بات کر رہی تھیں۔ فون بند کرنے کے بعد وہ سوچنے لگا۔ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کے مسز ہیج کو کس نے فون کیا تھا۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کے کیوں کسی کا واشنگٹن ڈی سی سے فرح کے ساتھ کوئی تعلق ہوگا۔ اسے نیند آنے لگی اور وہ آج جلدی بستر پر لیٹ گیا کہ کل بھی ایک لمبا تھکا دینے والا دن اسکے سامنے تھا۔۔

***

رحیمی کے آدمی فرح کو کابل ائیرپورٹ لے آئے۔ انہوں نے فرح کو داخلی دروازے کے قریب جیپ سے اتارا، اسکے ہاتھ کھولے اور آنکھوں سے پٹی ہٹا دی۔ جب فرح گیٹ پر پریشان حالت میں کھڑی تھی، رحیمی کے آدمی اسکا سامان اتارنے لگے۔ اس کے بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور بغیر کچھ کہے رحیمی کے آدمی چلے گئے۔ فرح نے ایک قریبی چائے شاپ سے اپنے خاندان والوں کو فون کیا، اس نے کاغذ پر کچھ لکھ کر چائے شاپ پر کھڑے لڑکے کو دیا اور ریسیور اسکے ہاتھ میں دے دیا۔ چائے والے لڑکے نے اسکا پیغام اسکے گھر والوں کو پڑھ کر سنایا۔ فون کی دوسری طرف کوئی بہت حیرانی سے بول رہا تھا۔ لڑکے نے زور دیا کے جلد ہی کوئی آکر لڑکی کو ایئرپورٹ سے لے جائے۔ فرح بہت تھک چکی تھی۔ اسے دکان کے کاؤنٹر کے قریب ہی ایک کرسی مل گئی۔ اس نے زور کی سانس لی اور بیٹھ گئی۔۔

***

چکن روسٹ اور مٹن کی خوشبو کمرے میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اچانک ایک آواز سنائی دی، "خواتین، کیا کھانا تیار ہے؟" کچھ عورتیں اندر کھانا پکانے میں مصروف تھیں اور کچھ ہنسی مذاق میں، باہر آدمی لوگ حقے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اندر سے ایک ساتھ کچھ عورتوں نے جواب دیا، "بس کچھ دیر" وہ آدمی جس نے کھانے کے بارے میں پوچھا تھا فرح کا کزن ظفر تھا۔

وہ صوفے پر تھوڑا پیچھے ہٹا اور اپنا حقہ دوسرے آدمی کو دے دیا۔ دوسرا آدمی یحییٰ رفیقی، فرح کا چچا تھا، جو اسی صوفے پر دبک کر بیٹھا تھا جس پر ظفر تنگ ہو کر بیٹھا کھانے کا بےتابی سے انتظار کر رہا تھا۔

کمرے میں ہر طرف حقے اور قہوہ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ سیڑھیوں میں بیٹھے تھے جو اوپر ظفر منزل کو جاتی تھیں۔ "ظفر منزل" نام تھا اس عمارت کا اور افغانستان میں فرح کی رہائش گاہ کا۔ فرح چپ چاپ ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھی تھی۔ سب لوگ اس سے بہت سی باتیں جاننا چاہتے تھے لیکن وہ زیادہ کچھ نہیں بتا رہی تھی۔ ظفر نے جب دوبارہ پوچھا تو، فرح نے اشاروں کی زبان میں اسے سمجھایا کے وہ بہت تھک چکی ہے اور سونا چاہتی ہے۔ ظفر سمجھ گیا، اشاروں کی زبان اسکے لئے سمجھنا مشکل نہیں تھا کیونکے بچپن سے وہ فرح سے بات چیت کے لئے یہی طریقہ استمال کرتا آیا تھا۔ فرح اشاروں کی زبان میں بات کرتی رہی اور سب لوگوں کو بتانے لگی کے وہ سونا چاہتی ہے اور کھانا بھی وہ بعد میں کھائے گی۔ ظفر نے اسکا سامان لے جانے میں مدد کی اور ایک بوڑھی عورت جو انکی خاندانی ملازمہ تھی کو بلایا کہ فرح کواوپر اس کا کمرہ دکھا دے۔۔ ظفر نے ملازمہ کو ہدایت دی کے فرح کا بہت خیال رکھے۔

یہ سب کرنے کے بعد ظفر نے محسوس کیا کے فرح اسے زیادہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔ وہ بھول گیا کے فرح گونگی اور بہری ہے، وہ سن نہیں سکتی اور اشاروں کی زبان ہی اسے سمجھ اتی ہے۔ وہ چلایا، "فرح، کیا تم سن رہی ہو؟" پھر فوری طور پر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ ایک لمبے توقف کے بعد وہ بولا "معافی چاہتا ہوں لیکن کیا تمہیں سمجھ آیا کے میں کیا کہنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ اشاروں کی زبان میں سمجھایا یہ تمام زمین جائیداد جو تم وراثت میں ملی ہے، یہ سب تمہارا ہے۔ وہ اپنا گلا صاف کرتے ہوے بولا۔ "تمہیں ہمارے پاس واپس آنا چاہئے اور اپنی تمام جائیداد کا خود خیال رکھنا چاہئے ورنہ چچا جمال سب کچھ ہڑپ کر لیں گے۔ اس بار وہ خود نہیں بلکے انکا بیٹا تمہارے سامنے ہوگا، اورتم اسے اچھی طرح جانتی ہو۔۔ سمجھی؟" فرح نے ہاں میں سر ہلایا لیکن وہ بہت پریشان اور الجھن میں تھی۔

فرح نے اپنا آبائی گھر بہت عرصہ پہلے چھوڑ دیا تھا، جب اسکے والدین ایک حادثے میں مر گئے تھے۔ اس وقت وہ صرف بارہ سال کی تھی اور اسے چیزوں کی بلکل سمجھ نہیں تھی۔ والدین کی موت کے بعد جو کچھ ان کے پاس تھا وہ فرح کو وارثت میں مل گیا تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھی اور اتنی بڑی جائیداد اور مال و دولت کو سنمبھالنے کے قابل نہیں تھی، اسکے چچا جمال رحیمی نے رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری لی کے جب تک فرح بالغ نہیں ہو جاتی اور سب کچھ سنمبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتی تب تک وہ اسکی تمام زمین جائیداد اور بینک اکاونٹ کا خیال رکھے گا۔ چونکے جمال رحیمی کو سب اچھا سمجھتے تھے اور خاندان میں اسکی اچھی ساکھ تھی، کسی نے اس فیصلے پر اعتراض نہیں کیا۔۔

رحیمی فرح کو اپنے گھر لے گیا اور کئی سال تک اسے بیٹی بنا کر رکھا۔ وہ فرح کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ کرتا، اسکا ایک بیٹا اور تین بیتیاں تھیں۔ ان سب نے ایک ہی چھت کے نیچے پرورش پائی۔ جمال کی بیوی شبینہ ایک اچھی عورت تھی، اس نے فرح کو بلکل ماں کی طرح پیاردیا۔ فرح بھی شبینہ کو ماں کی طرح چاہتی تھی اور رحیمی کو باپ کا درجہ دیتی تھی۔ جب فرح اٹھارہ سال کی ہوگئی تو رحیمی نے پورے خاندان کے سامنے تمام چابیاں، بینک اکاونٹس کی معلومات اور وہ سب چیزیں اسکے حوالے کر دیں۔ اس نے اعلان کرتے ہوے سب کو بتایا کے آج اس نے فرح کو وہ سب کچھ لوٹا دیا جس کی وہ کئی سالوں تک رکھوالی کرتا آیا تھا۔

حالات بلکل ٹھیک جا رہے تھے جب تک ظفر نے بینک اسٹیٹمنٹ اور دوسرے کاغذات کو تفصیل سے نہیں پڑھا تھا۔ ظفر ایک عقلمند انسان تھا۔ شروع دن سے ظفر کو شک تھا کے چچا رحیمی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، لیکن اسکے پاس ثبوت نہیں تھے۔ آج بینک سٹیٹمنٹ اور دوسرے کاغذات کی صورت میں اسکے پاس ٹھوس ثبوت تھا۔ ظفر نے فرح کو بلوایا اور تمام معاملے سے آگاہ کیا۔ وو جانتا تھا فرح کے لئے ان سب باتوں پر یقین کرنا بہت مشکل ہوگا۔ اس نے فرح سے کہا کے وہ معاملے کی مزید تفتیش کرے گا اور تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اور ثبوت حاصل نہ کر لے۔۔

***

جلالہ آباد، افغانستان

جلالہ آباد کے مصروف ترین بازار سے گزرتے ہوے، عمر کی نظر ایک خچر پر پڑی جو ایک ریڑھی کے ساتھ مضبوطی سے بندھا ہوا تھا۔ عمر سے رہا نہ گیا، پاس جا کر دیکھا تو خچر بہت مشکل سے اپنے وزن سے چار گنا بڑی ریڑھی کو کھینچ رہا تھا۔ اسکی کمزور ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ خچر کا مالک اسے ہنٹر سے مار رہا تھا تا کے وہ تیز چلے۔ عمر خچر کے مالک کو سبق سیکھانا چاہتا تھا لیکن وہ یہاں ایک پستول لینے آیا تھا اور اسے دوسرے ضروری کام بھی کرنے تھے۔ سو اسنے پنا ارادہ بدل دیا۔ اسے خچر پر بہت ترس آرہا تھا، اس نے سوچا کے بعد میں وہ اسکے لئے ضرور کچھ کرے گا۔

عمر نے ایک پستول خریدہ اور اسی دن اسکے لاسنس کے لئے درخواست بھی دے دی۔ خوش قسمتی سے اگلے ہفتے اسے لاسنس مل جائے گا اور وہ ایک رشین ریوالور کا مالک بن جائے گا، اسنےسوچا۔

جب وہ واپس ہوٹل آیا تو اسے بتایا گیا کہ امریکا سے اس کے لئے ایک فون آیا تھا، جب اس نے نمبر دیکھا تو وہ مسز ہیج کا تھا۔ وہ تیزی سے اپنے کمرے میں پہنچا اور مسز ہیج کو فون ملایا۔ عمر نے پوچھا، کیا سب کچھ ٹھیک ہے۔ مسز ہیج نے بتایا کے وہ فون پھر آیا تھا، اس بار اس آدمی نے زیادہ تفصیل سے بتایا کے کیا ہو رہا ہے۔ مسز ہیج مزید بتانے لگی، "عمر یہ معامله بہت سنگین ہوتا جا رہا ہے، اس آدمی نے بتایا کے امریکی حکومت فرح علی کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے میں کردار ادا کرے گی، جب میں نے پوچھا کے طالبان کون ہیں تو وہ بولا "جمال رحیمی گروپ" میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ جمال رحیمی اسکا چچا ہے اور اسکا دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے تمہیں کہا تھا اس مسلے سے دور رہو لیکن تم نے میری ایک نہ سنی"۔ پھر مسز ہیج نے عمر کو تفصیل سے وہ سب کچھ بتایا جو فرح نے اپنے خاندان، اپنی حثیت اور جمال رحیمی کے لشکر اور شیطانی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا تھا۔

مسز ہیج نے فرح کے بارے تمام تفصیل بتا دی اور وہ غور سے سنتا رہا۔ عمر فون سننے کے بعد حیران اور پریشان تھا۔ اسے ان سب باتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے روم سروس کو کال کی اور ایک انٹرنشنل فون ڈائریکٹری بھیجنے کو کہا۔ ہوٹل ولوں کے پاس وہ نہ تھی۔ اس نے دوبارہ مسز ہیج کو فون ملایا اور ڈی-سی آفس کا نمبر لیا۔ عمر نے اس نمبر پر فون کیا تو اسے 35 منٹ انتظار کرنے کو کہا گیا، اس نے تفصیل سے ایک پیغام رکارڈ کروایا۔

"ہیلو، میرا نام عمر ہے۔ اس وقت میں افغانستان میں ہوں۔ اسکا تعلق فرح علی سے ہے جو اس وقت افغانستان میں کچھ لوگوں کے قبضے میں ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں اس میں طالبان یا کوئی اور سیاسی تنظیم ملوث نہیں بلکہ یہ ایک خاندانی مسئلہ ہے۔ اس معاملے کو کابل کی لوکل پولیس ہی حل کر لے گی، جیسے ہی انکے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ملے گا۔ اگر آپ کوئی بھی سوال کرنا چاہیں تو پلیز کسی بھی وقت مجھے کابل کے اس فون نمبر پر کال کر سکتے ہیں۔ بہت شکریہ، اپکا دن اچھا رہے"۔

Check Also

Hamein Jurm Se Larna Hai, Kirdar Kashi Se Nahi

By Ayesha Batool