Longsight Ki Umeed
لانگ سائٹ کی امید
14 مئی کی شام مانچسٹر کے علاقے لانگ سائٹ میں ایک خوبصورت اور پُروقار دعوتِ عشائیہ میں شرکت کا موقع ملا، جہاں مجھے اپنے بھائی جیسے دوست مہر صفدر صاحب کے ساتھ جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ دعوت معروف سماجی و کاروباری شخصیت راجہ طلعت صاحب کی جانب سے دی گئی تھی، جو مانچسٹر میں اپنے ہیلتھ کیئر بزنس سیٹ آپ کو کامیابی سے چلا رہے ہیں اور ایک سیلف میڈ انسان کے طور پر کمیونٹی میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اس بات کی عکاس ہے کہ محنت، دیانت اور مستقل مزاجی کے ذریعے بیرونِ ملک نہ صرف اپنا مقام بنایا جا سکتا ہے بلکہ اپنی کمیونٹی کے لیے بھی مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
یہ دعوت دراصل گرین پارٹی سے نئے منتخب ہونے والے رہنما آصف رنجھا صاحب کے اعزاز میں رکھی گئی تھی، جن کی کامیابی کو وہاں موجود ہر شخص نے پاکستانی کمیونٹی کی مشترکہ جیت قرار دیا۔ تقریب مانچسٹر کے معروف ریسٹورنٹ ایسٹرن پرل، لانگ سائٹ میں منعقد ہوئی، جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ماحول انتہائی خوشگوار، دوستانہ اور امید سے بھرپور تھا۔
لانگ سائٹ کا علاقہ ویسے تو پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے کافی مشہور ہے اور یہاں خاص طور پر منڈی بہاؤالدین اور گجرات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں صرف مخصوص علاقوں یا برادریوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے، لیکن آصف رنجھا صاحب کی کامیابی نے اس تاثر کو بڑی حد تک بدل دیا۔ جب ووٹ دینے کا وقت آیا تو صرف منڈی بہاؤالدین کے لوگوں نے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد نے، چاہے وہ کراچی سے ہوں یا خیبر سے، سب نے مل کر ان کا ساتھ دیا اور ان کی جیت کو یقینی بنایا۔
یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک آباد پاکستانی اب صرف ذات، برادری یا شہر کی بنیاد پر نہیں بلکہ اجتماعی مفاد اور بہتر قیادت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہی شعور کسی بھی کمیونٹی کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ آصف رنجھا صاحب کی کامیابی نے کمیونٹی میں ایک نئی اُمید پیدا کی ہے کہ اب لانگ سائٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
تقریب کے دوران مختلف سماجی اور عوامی مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ علاقے میں صفائی، اسکولنگ، صحت کی سہولیات اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر خواتین کی اسکلز کو بڑھانے اور انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کروانے کی بات کی گئی۔ بیرونِ ملک پاکستانی خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اکثر مناسب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتیں۔ اگر کمیونٹی لیول پر تربیتی پروگرامز، بزنس ورکشاپس اور اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں تو بہت سی خواتین نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسی طرح نوجوان نسل کے حوالے سے بھی کافی مثبت خیالات سامنے آئے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی نسل کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ اچھی صحبت، مثبت سرگرمیوں اور کمیونٹی ورک کی طرف بھی راغب کیا جائے تاکہ وہ اپنی شناخت اور اقدار کے ساتھ ایک کامیاب مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنی زبان، ثقافت اور روایات کو زندہ رکھنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے اور ایسی تقریبات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
راجہ طلعت صاحب کی میزبانی واقعی قابلِ تعریف تھی۔ ان کا اندازِ گفتگو، مہمان نوازی اور کمیونٹی کے لیے خلوص ہر شخص کے دل کو چھو رہا تھا۔ ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے باوجود ان میں عاجزی اور اپنائیت نمایاں تھی۔ وہ ان شخصیات میں سے ہیں جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ مانچسٹر میں ان کی خدمات اور کمیونٹی کے ساتھ ان کا تعلق قابلِ ستائش ہے۔
یہ شام صرف ایک دعوت نہیں تھی بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے اتحاد، شعور اور مستقبل کے لیے ایک مثبت پیغام تھی۔ اس تقریب نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو، قیادت مخلص ہو اور لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو بیرونِ ملک بھی اپنی کمیونٹی کو مضبوط، منظم اور بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ آصف رنجھا صاحب اپنی نئی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھائیں گے اور لانگ سائٹ کی عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ ساتھ ہی کمیونٹی کی ایسی مثبت اور تعمیری محفلیں آئندہ بھی جاری رہیں گی، جو لوگوں کو قریب لانے اور ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

