Mulk Taraqi Kar Raha Hai, Magar Kam Nazron Ko Nazar Nahi Araha
ملک ترقی کر رہا ہے، مگر "کم نظروں" کو نظر نہیں آ رہا

اپنی چھت کے کونے پر وہ خاموش کھڑا تھا، ہونٹوں پر خشکی جمی تھی، جیسے شدید دھوپ میں چکنی مٹی خشک ہو کر تڑخ جاتی ہے۔ اس کے قدم بے چین تھے، چھت کا چکر لگاتا، پھر اسی نکڑ پر آ رُکتا، جیسے کوئی بوجھ کندھوں پر ہو اور جسے اتارنے کی جگہ نہ ملے۔
میں اپنی چھت پر اماں جی کے پاس بیٹھا تھا۔ اس بے چینی کو زیادہ دیر نظرانداز نہ کر سکا اور پنجابی میں آواز دی: "دانے (عدنان)، سب خیریت ہے؟"
"جی پا امتیاز، سب ٹھیک ہے!"، جواب آیا، مگر لہجے میں وہ سکون نہ تھا، جو الفاظ کا دعویٰ تھا۔
تھوڑی دیر کی گپ شپ کے بعد میں نے پوچھا، "کام کاج کیسا چل رہا ہے؟"
اس نے نظریں دائیں بائیں پھیریں، جیسے جواب کہیں باہر تلاش کر رہا ہو۔
"کام تو بند ہے پا امتیاز۔ سامان ہی نہیں ملتا۔ جو شیٹ پانچ سو روپے میں آتی تھی، اب چار ہزار کی ہو چکی ہے۔ نہ سستا مال ملتا ہے، نہ دہاڑی لگتی ہے، نہ جیب میں کچھ ہے"۔
اس کی بے بسی محض الفاظ میں نہیں، آنکھوں میں بھی عیاں تھی۔ کوئی دس پندرہ منٹ اور بات ہوئی۔ مجھے لگا، ابھی آنسو چھلک پڑیں گے۔
یہ اس اعلان کے چند دن بعد کی بات ہے، جب پاکستانی رہنماؤں کے سر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا سہرا باندھا جا رہا تھا، اپنے تو تھے ہی تھے، غیروں کی سوشل میڈیا والز پر مبارکبادوں کی گونج تھی۔
میرے دل میں آیا کہ کہوں، "دانے، ان چھوٹی چھوٹی فکروں کو چھوڑو۔ ذرا دیکھو، تمہارے ملک کا نام آج دنیا بھر کے اخبارات کی سرخیوں میں ہے! جرنیل صاحب اور وزیرِ اعظم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے، جو تاریخ یاد رکھے گی۔ تمہیں تو فخر سے سینہ تان کر کھڑا ہونا چاہیے، یہ چھپے چھپے سے آنسو کیسے؟"
مگر یہ الفاظ حلق سے نہ نکل سکے اور ویسے بھی اتنی بڑی کامیابی کا دانے کی کسمپرسی اور زندگی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ملکی میڈیا کی چیخ و پکار، "حکومتی جشن" اور سوٹڈ بوٹڈ تجزیہ کاروں سے کوسوں دور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی روٹی روزی کی فکر میں تھا۔
میں خود بھی ایک عجیب کشمکش میں تھا۔ دنیا کے اخبار ملک کی تعریف سے بھرے پڑے تھے لیکن حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کے پاس اس جیسے کسی بھی نوجوان باپ کے درد کا مداوا نہیں تھا۔ میں بھی اُسے کیا کہتا، امریکی ٹیم پاکستان آ رہی ہے، خوش ہو جاؤ، بھوک لگی ہے تو ثالثی کھاؤ؟ میں خاموش ہی بھلا!
چند روز بعد گلی میں بیٹھا تھا کہ پتہ چلا بچپن کا ہم جماعت عرفان، جو لاہور میں جوتوں کا کاروبار کرتا ہے، دو تین ہفتوں سے گھر آیا ہوا ہے۔ مغرب کے بعد اس کا دروازہ کھٹکھٹایا تو گیارہ سالہ بیٹی باہر آئی۔
"ابو کہاں ہیں؟" میں نے پوچھا۔
"اندر چارپائی پر لیٹے ہیں"۔
کوئی آدھا گھنٹہ اس کے پاس بیٹھا رہا۔ اچانک پوچھ لیا، "لاہور کب واپس جانا ہے؟"
اس کا جواب سادہ تھا، مگر بھاری، "یار امتیاز، کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ مارکیٹ میں جان ہی نہیں رہی۔ گھر کا چولہا جلانا دشوار ہوگیا ہے"۔
اس کے حالات کی پوری تصویر یہاں کھینچنا میرے بس کی بات نہیں۔ پردہ پوشی سب کو پیاری ہوتی ہے، اللہ سفید پوشوں کا بھرم قائم رکھے، خوددار آدمی اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بھی شرماتا ہے۔
اس دن میں سوچتا رہا کہ اس وقت کتنے سفید پوش ایسے ہوں گے، جو کسی سے ادھار مانگتے ہوئے بھی شرم کے مارے ڈوب ڈوب جاتے ہوں گے۔
میرا دل چاہا کہ عرفان کو بھی کہوں، "یار، گھبراؤ نہیں! ٹرمپ نے آج ہی فرمایا ہے کہ وہ جرنیل عاصم منیر صاحب اور شہباز شریف صاحب سے بہت مطمئن ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہوتے رہتے ہیں، بھوک آتی جاتی رہتی ہے، یہ تو دنیا کا دستور ہے۔ اصل فخر تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے ہمارے دو رہنماؤں کو، brilliant کہا ہے!"
پھر سوچا، ان جیسے سادہ لوح مزدوروں کو بھلا بین الاقوامی سفارت کاری کی باریکیاں کیا معلوم؟
دو ہفتے پہلے جب پاکستان گیا تھا، تو ایک نہیں، درجنوں ایسے احباب اور عزیز ملے، جن کی آنکھیں نم، مگر لب خاموش تھے۔
ایک عجیب قسم کا تضاد تھا، لوگوں کا رونا کچھ اور تھا لیکن پاکستانی چینل اور میری سوشل میڈیا وال حکومت کی بے مثال کامیابیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مجھے گمان گزرا کہ شاید یہ سب "ازلی غلام" جھوٹ بول رہے ہیں یا شاید قیادت کی سفارتی فتوحات سے حسد میں مبتلا ہیں۔
کل ہی ایک آڑھتی دوست نے بتایا کہ کسان اس سال بھی لٹ گیا ہے۔ فی ایکڑ گندم کی اوسط آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے ہے اور لاگت دو لاکھ سے اوپر تھی۔ ساٹھ ہزار روپے فی ایکڑ خسارہ ہے۔ آلو بوؤ یا گندم، ہر طرف نقصان ہے"۔
حکومتی دعوؤں کے سامنے مجھے یہ دوست بھی "ناشکرا" سا لگا۔
میں نے اُسے سمجھانا چاہا، "دیکھو! عالمی امن کی قیمت کو غریب کےآٹے کی قیمت کے ترازو میں مت تولو!"
مجھے محسوس ہوا، جیسے وہ یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہو کہ حکومت اپنی ناکامیوں اور عوام کی معاشی بدحالی پر "قومی فخر" کا پردہ ڈال رہی ہے، ایک ایسا بیانیہ بنا رہی ہے، جس کا غریب سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ مگر میں نے فوراً یہ خیال جھٹک دیا، میں بھلا منکرین میں کیوں شامل ہوں؟
آخر ویسے بھی جرنل صاحب اور میاں صاحب کی عالمی پذیرائی ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات کہاں؟ کسانوں کو نفع نقصان تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ بھی جائے تو کیا؟
مٹی کی خشبو میں لتھڑے ہوئے ان کسانوں وسانوں کو کیا خبر کہ ایران اور امریکہ کے مابین امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے کتنی شبانہ روز محنت صرف ہوئی ہے!
یہ "کاروبار ڈوب گیا، فصل برباد ہوئی، بجلی کا بل ناقابلِ برداشت ہے، دوا کے پیسے نہیں " کا نوحہ پڑھنے والوں کو بھلا یہ اعلیٰ حقائق کہاں سمجھ آئیں گے؟
انہیں بھلا کہاں نظر آئے کہ ملک ترقی کر رہا ہے، عالمی اخباروں میں اس کے تذکرے ہیں، ٹرمپ ہر دوسرے دن صدقے واری جا رہا ہے، انہیں کیا معلوم؟
جب امریکہ کو پاکستانی قیادت پر اعتبار ہے تو ان "کم بختوں " کو نہیں آ رہا، سچی پوچھیں، تو یہ "کم نظر" لوگ ہیں، دفع ماریں انہیں! فخر کی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ بہادر نے ہمارے دو رہنماؤں کو، brilliant کہا ہے!

