سندھ طاس کی تزویراتی جنگ

دریاؤں کے دھارے محض پانی کے بہاؤ کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ تہذیبوں کی شہ رگ، ریاستوں کی معاشی بقا، زرعی تمدن کی روح اور جغرافیائی سیاست کے سب سے حساس استعارے بھی سمجھے جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دریائے سندھ کا نظام اسی نوعیت کی ایک حیاتیاتی و تزویراتی حقیقت ہے جس کے گرد گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی ایک پیچیدہ تاریخ گردش کرتی رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے اور پاکستان کے ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ سے رجوع کرنے کے عندیے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا جیو پولیٹیکل ہتھیار بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات مستقبل کی سفارت، سلامتی اور علاقائی استحکام پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔
1960ء میں طے پانے والا انڈس واٹر ٹریٹی عالمی سفارتی تاریخ کے اُن معاہدات میں شمار کیا جاتا ہے جنہیں شدید سیاسی مخاصمت کے باوجود پائیدار تصور کیا جاتا رہا۔ سرد جنگ کے ماحول، جنگی کشیدگی اور متعدد عسکری تنازعات کے باوجود یہ معاہدہ دہائیوں تک قائم رہا اور اکثر ماہرین اسے جنوبی ایشیا میں بقا پذیر سفارت کاری کی ایک نادر مثال قرار دیتے رہے۔ مگر اب صورتِ حال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کی جانب سے ثالثی فورم کو "غیر قانونی" قرار دینا دراصل صرف ایک عدالتی یا تکنیکی اعتراض نہیں بلکہ اس پورے قانونی و سفارتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جس کے تحت یہ معاہدہ چلایا جاتا رہا۔
نئی دہلی کا حالیہ مؤقف اس اعتبار سے بھی غیر معمولی ہے کہ اس نے نہ صرف کورٹ آف آربیٹریشن کی حیثیت کو مسترد کیا بلکہ معاہدے کی معطلی کو بھی برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں یہ طرزِ عمل کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کوئی ریاست کسی ایسے معاہدے کی نگرانی کرنے والے فورم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے جس پر وہ خود دستخط کر چکی ہو تو پھر عالمی معاہداتی نظام کی اخلاقی و قانونی بنیادیں کس حد تک محفوظ رہ سکتی ہیں؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کی ممکنہ سفارتی حکمتِ عملی استوار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض قانونی نزاع نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بھی ہے۔ ملک کی زراعت، معیشت، توانائی اور غذائی تحفظ کا ایک بڑا انحصار دریائے سندھ کے آبی نظام پر قائم ہے۔ ایسے میں اگر پانی کے بہاؤ کو سیاسی دباؤ یا تزویراتی دبنگی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ ماحولیاتی، انسانی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب اس معاملے کو دوطرفہ سفارتی دائرے سے نکال کر عالمی قانونی و اخلاقی فورمز تک لے جانے پر غور کر رہا ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں قانون کی حیثیت اکثر طاقت کے توازن سے مشروط دکھائی دیتی ہے۔ بڑی ریاستیں جب بین الاقوامی فورمز کے فیصلوں کو اپنی مرضی کے مطابق تسلیم یا مسترد کرنے لگیں تو چھوٹی ریاستوں کے لیے عالمی انصاف کے تصورات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ بھارت کا حالیہ طرزِ عمل اسی وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا محسوس ہوتا ہے جہاں قومی سلامتی، خودمختاری اور داخلی سیاسی بیانیے کو بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ پاہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر معاہدے کی معطلی کا جواز پیش کرنا بھی اسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس میں سکیورٹی بیانیے کو سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم اس تمام منظرنامے میں پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف احتجاج ریکارڈ کرانا نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت سفارتی مہم ترتیب دینا ہے جو قانونی، اخلاقی، ماحولیاتی اور انسانی بنیادوں پر عالمی رائے عامہ کو متاثر کر سکے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی ادارے صرف اصولوں پر نہیں بلکہ طاقتور ریاستوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تحت بھی حرکت کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو محض روایتی سفارت کاری پر اکتفا کرنے کے بجائے علمی، تحقیقی اور میڈیا سطح پر بھی ایک مؤثر بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔
پانی کے تنازعات آئندہ عشروں میں دنیا کے سب سے بڑے جغرافیائی بحرانوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، آبادی میں اضافے اور زرعی ضروریات کے باعث آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے خطے میں، جہاں پہلے ہی سیاسی بداعتمادی اور عسکری کشیدگی موجود ہے، وہاں پانی کے مسئلے کو طاقت کی سیاست میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک رجحان ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر انڈس واٹر ٹریٹی جیسا تاریخی معاہدہ کمزور پڑتا ہے تو یہ صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہی نہیں بلکہ عالمی آبی معاہدات کے مستقبل کے لیے بھی ایک تشویش ناک مثال بن سکتا ہے۔
اس پوری صورتحال کا ایک نفسیاتی اور تہذیبی پہلو بھی ہے۔ برصغیر کے عوام صدیوں سے انہی دریاؤں کے کنارے آباد رہے ہیں۔ ان دریاؤں نے تہذیبوں کو جنم دیا، معیشتوں کو پروان چڑھایا اور ثقافتوں کو تشکیل دی۔ جب پانی سیاسی کشمکش کا استعارہ بن جائے تو دراصل تہذیبی رشتے بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دانشوروں کا ایک حلقہ اس مسئلے کو محض ریاستی تنازع نہیں بلکہ انسانی بقا کے سوال کے طور پر دیکھنے پر زور دے رہا ہے۔
پاکستان اگر اقوامِ متحدہ سے رجوع کرتا ہے تو یہ اقدام بلاشبہ عالمی سطح پر ایک نئی قانونی و سفارتی بحث کو جنم دے گا۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی سیاست میں انصاف ہمیشہ فوری طور پر حاصل نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات چھوٹی ریاستوں کو اپنی بات منوانے کے لیے طویل سفارتی استقامت، داخلی سیاسی یکجہتی اور مسلسل علمی جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو وقتی جذبات یا محدود سیاسی ردِعمل کے بجائے ایک طویل المدتی قومی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھے۔
جنوبی ایشیا اس وقت پہلے ہی عسکری عدمِ توازن، معاشی بے یقینی اور نظریاتی تقسیم کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایسے میں پانی کے مسئلے کو تصادم کی نئی بنیاد بنانا پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ریاستیں طاقت کے اظہار کے بجائے معاہداتی ذمہ داریوں، بین الاقوامی قانون اور علاقائی استحکام کے اصولوں کو ترجیح دیں۔ کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں سرحدوں کو زخمی کرتی ہیں، مگر پانی کے بحران تہذیبوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔

