Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Mukalma Ya Monologue?

Mukalma Ya Monologue?

مکالمہ یا مونولوگ؟

قبل اسکے کہ گفتگو شروع کی جائے۔ بہتر ہوگا کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ "مونولوگ" Monologue سے کیا مراد ہے۔ مونولوگ کامطلب ہے "خود کلامی" یعنی بات کرنے والا کسی دوسرے شخص کو بولنے کا موقع نہ دے۔

اخبار میں شائع ہونے والا ایک اچھا کالم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ ذہنوں کے درمیان ایک زندہ مکالمہ ہوتا ہے۔ جب کوئی لکھاری صرف اپنے خیالات سنانے، فیصلے صادر کرنے یا اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے لکھتا ہے تو تحریر ایک مونولوگ بن جاتی ہے، ایسی یک طرفہ گفتگو جس میں قاری کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ لیکن جب لکھاری قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور اندرونی طور پر شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے تو تحریر ایک مکالمے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہی مکالمہ تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

رائے پر مبنی صحافت کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قاری کو بتایا جائے کہ اسے کیا سوچنا ہے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ قاری کو سوچنے پر مجبور کیا جائے۔ ایک با معنی تحریر ایک پراثر کالم حکم نہیں دیتا، راستہ کھولتا ہے۔ وہ قاری کے ذہن پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر سوالات جگاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تحریر محض اطلاع رسانی سے آگے بڑھ کر انسانی تجربے کا حصہ بن جاتی ہے۔

ایک مونولوگ یعنی یک طرفہ مکالمہ بنیادی طور پر ابلاغ کا نہیں، بلکہ اظہار کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس میں لکھاری کسی دوسرے سے بحث کرنے یا قائل کرنے کے بجائے، براہِ راست اپنا نقطہِ نظرقاری پر مسلط کرتا ہے۔ اس میں لکھاری گویا اعلان کرتا ہے:

"حقیقت یہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں"۔

جبکہ مکالمہ کرنے والی تحریر کہتی ہے: "آئیے، اس حقیقت کو مل کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں!"

یہ فرق معمولی نہیں۔ یہی فرق تحریر کو زندہ یا مردہ بناتا ہے۔

بہترین کالم نگار وہ نہیں جو سب سے زیادہ شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو قاری کے اندر خاموشی سے ایک فکری حرکت پیدا کر دے۔ پڑھنے والا جب کسی اچھے مضمون کو پڑھتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں پڑھتا، وہ اپنے تجربات، خوف، امیدوں اور سوالوں کے ساتھ اس تحریر میں داخل ہوتا ہے۔ وہ کبھی متفق ہوتا ہے، کبھی اختلاف کرتا ہے، کبھی رک کر سوچتا ہے۔ یوں تحریر ایک مشترکہ عمل بن جاتی ہے جہاں معنی صرف لکھاری پیدا نہیں کرتا بلکہ قاری بھی اس کی تشکیل میں شریک ہوتا ہے۔

اسی لیے عظیم ادب اور معیاری صحافت وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتی ہے۔ ایسی تحریریں قاری سے بات کرتی ہیں، اس پر حکم نہیں چلاتیں۔ ان میں انسانیت کی وہ عاجزی موجود ہوتی ہے جو یہ تسلیم کرتی ہے کہ سچ صرف اعلان سے نہیں، بلکہ مکالمے سے روشن ہوتا ہے۔

آج کے دور میں، جہاں ہر طرف فوری رائے، بلند آواز دعوے اور نظریاتی تقسیم موجود ہے، مکالمے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا موقع تو دیا ہے، مگر سننے کا حوصلہ کم کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر اخباری کالم بھی صرف تقریر بن جائیں تو صحافت اپنا بنیادی کردار کھو دے گی۔

ایک اچھا کالم قاری کو شکست نہیں دیتا، اسے شریک کرتا ہے۔ وہ ذہن بند نہیں کرتا، کھولتا ہے۔ وہ صرف موقف پیش نہیں کرتا، انسان کے اندر ایک نئی فکری گنجائش پیدا کرتا ہے۔

اور شاید یہی تحریر کی سب سے بڑی کامیابی ہے: جب الفاظ صرف پڑھے نہ جائیں، بلکہ انسان کے اندر کوئی خاموش تبدیلی پیدا کر دیں۔

Check Also

Khuddam Ul Hujjaj

By Muzammil Iqbal