Paharon Mein Dafan Cheekhein
پہاڑوں میں دفن چیخیں

گلگت بلتستان اپنی قدرتی خوبصورتی، پُرسکون وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، مگر ان حسین پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی خاموش اذیت بھی پل رہی ہے جس نے پورے معاشرے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں خصوصاً نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک سنگین سماجی اور انسانی بحران کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز گلگت شہر میں ایک اور نوجوان کی خودکشی نے اس تلخ حقیقت کو دوبارہ نمایاں کردیا کہ یہ مسئلہ اب محض انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ اجتماعی توجہ اور فوری اقدامات کا متقاضی ہے۔
کسی بھی انسان کا اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات، خاندانی تنازعات، بے روزگاری، تعلیمی دباؤ، سماجی تنہائی اور مستقبل کے حوالے سے بڑھتی بے یقینی جیسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پر گفتگو کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اکثر لوگ ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی بیماریوں کو محض کمزور ایمان، وقتی اداسی یا شخصیت کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد خاموشی سے اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔
گلگت بلتستان جیسے جغرافیائی طور پر دشوار گزار خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ صوبے کے بیشتر اضلاع اور دور افتادہ علاقوں میں ذہنی صحت کی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں۔ ماہر نفسیات کی شدید کمی ہے جبکہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں نفسیاتی امراض کے علاج اور کونسلنگ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے حالات میں ذہنی مسائل سے دوچار افراد کے پاس خاموشی اور تنہائی کے سوا شاید ہی کوئی دوسرا راستہ بچتا ہو۔
یہ امر باعث تشویش ہے کہ اس اہم مسئلے پر اکثر سرکاری سطح پر صرف اجلاسوں، بیانات اور وقتی تشویش تک بات محدود رہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس بحران کو صحت عامہ کے ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے۔ گلگت بلتستان کے ہر بڑے اور چھوٹے ہسپتال میں کم از کم ایک ماہر نفسیات کی تعیناتی یقینی بنائی جائے، خصوصاً پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں جہاں عوام پہلے ہی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ لوگ بروقت مدد حاصل کرسکیں۔
اس مسئلے کے حل میں والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور سماجی اداروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ نوجوانوں کو صرف کامیابی کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے ان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات ایک توجہ، ایک گفتگو اور ایک مخلص سننے والا انسان کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دامن میں کئی ان کہی چیخیں دفن ہو رہی ہیں۔ اگر معاشرہ اور حکومت آج بھی اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لے سکے تو یہ خاموشی مزید کئی گھروں کے چراغ بجھا سکتی ہے۔

