Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muzammil Iqbal
  4. Khuddam Ul Hujjaj

Khuddam Ul Hujjaj

خدام الحجاج

قوموں کا حقیقی اثاثہ اور اس کا عالمی وقار صرف اس کی جغرافیائی حدود، دفاعی حصار یا معاشی اعداد و شمار سے طے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی مشروط ہوتا ہے کہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داریوں کو کس حسنِ اسلوب کے ساتھ نبھاتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالے سے حج کا انتظام و انصرام محض ایک سالانہ انتظامی مشق نہیں، بلکہ یہ کروڑوں دلوں کی عقیدت اور ریاست کی ساکھ کا معاملہ ہے۔

ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں قدیم دور میں سلطنتیں اور ریاستیں اپنے زائرین کے لیے راستوں کو محفوظ بنانے اور ان کی سفری سہولیات کے لیے خصوصی کاروان تشکیل دیا کرتی تھیں، وہیں جدید دور میں یہ ذمہ داری منظم اداروں کے سپرد کی گئی ہے۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے ماضی کے حج مشنز کا تاریخی جائزہ لیں تو ایک طویل عرصے تک یہ شعبہ شدید انتظامی بے تدبیری، اقربا پروری اور کرپشن کے سنگین الزامات کی زد میں رہا ہے۔

ایک ایسا دور بھی تھا جب خدام الحجاج کی سلیکشن کے لیے کوئی ٹھوس اور شفاف معیار موجود نہ تھا، من پسند افراد، سفارشوں اور سیاسی بنیادوں پر ایسے لوگوں کو نوازا جاتا تھا جن کا مقصد خدمتِ حجاج سے زیادہ ذاتی تفریح یا محض مفت حج کی سعادت حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پاکستانی حجاج بے یار و مددگار پھرتے نظر آتے تھے، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے ناقص انتظامات پر آئے روز کرپشن کے اسکینڈلز زبانِ زدِ عام ہوتے تھے اور عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بنتے تھے۔

ان تلخ تجربات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جب تک نظام کی بنیادی اصلاح نہیں کی جائے گی، تب تک روایتی طریقوں سے بہتری ممکن نہیں ہے۔ وقت بدلا اور جب انتظامی ڈھانچے میں وژنری سوچ کو شامل کیا گیا تو نظام کی تبدیلی کے مثبت اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ وزارتِ مذہبی امور نے 2024 سے حجاج کرام کی سعودی عرب میں بے لوث خدمت اور رہنمائی کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا۔ ملک بھر کے تمام سرکاری محکموں سےاعلیٰ تعلیم یافتہ، اہل اور فرض شناس ملازمین کا انتخاب کرنے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے سلیکشن کا ایک شفاف اور کڑا طریقہ کار متعارف کروایا گیا۔ یہ اسی نظام کی پائیداری کا ثبوت ہے کہ طے شدہ قوانین اور ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے اب حج مشن 2026 کا تیسرا کامیاب مشن جاری ہے، جس کا باقاعدہ آغاز 18 اپریل سے ہوا۔

رواں سال 2026 میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار پاکستانی حجاج کرام حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی خدمت کے لیے منتخب کیے گئے خدام الحجاج کو تربیت کے دوران خصوصی طور پر یہ بات سکھائی اور ان کے ذہنوں میں راسخ کی جاتی ہے کہ ان کی خدمات کا دائرہ کار صرف اور صرف پاکستانی حجاج تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے سے آئے ہوئے حاجی صاحب کو اگر مدد، رہنمائی یا طبی امداد کی ضرورت ہو، تو انہوں نے بلا تفریق رنگ، نسل اور قومیت ان کی پکار پر لبیک کہنا ہے۔

آج موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حج مشن 2026 کے یہ تربیت یافتہ اور پڑھے لکھے خدام الحجاج مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تپتی گرمی اور جھلسا دینے والے موسم میں بھی عزم و ہمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ وہ عمارتوں، سڑکوں، مصروف چوراہوں، حرم پاک کے گیٹوں، بس اسٹینڈز اور یہاں تک کہ باورچی خانوں میں چوبیس گھنٹے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں تاکہ ضیوف الرحمن کو کسی بھی قسم کی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کی اس بے لوث اور دن رات کی جانے والی خدمات کا اعتراف نہ صرف سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کر رہے ہیں، بلکہ انڈین گورنمنٹ تک بھی ان کے اس جذبے اور اعلیٰ کارکردگی کی معترف ہو چکی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیرِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی شبانہ روز محنت اور مضبوط مانیٹرنگ کے نتیجے میں یہ حج مشن کامیابی سے ہمکنار ہو رہا ہے اور ہر سال ان انتظامات کو مزید جدید اور بہتر سے بہتر بنانے کا عزم دہرایا جا رہا ہے۔

ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں ادارے فردِ واحد کی ترجیحات پر چلتے ہیں، نظام کی مضبوطی پر نہیں۔ جب تک کوئی مخلص اور محنتی لیڈر یا وزیر موجود رہتا ہے، انتظامات مثالی رہتے ہیں، مگر جیسے ہی قیادت تبدیل ہوتی ہے، سیاسی مداخلت دوبارہ سر اٹھانے لگتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ کامیابی عارضی ثابت نہ ہوبلکہ ایک مستقل قومی روایت بن جائے تو ہمیں اس عارضی جوش کو ایک پائیدار اور خودکار نظام میں تبدیل کرنا ہوگا۔

حج انتظامات کو ہمیشہ کے لیے شفاف اور مثالی بنانے کے لیے ان قابلِ عمل تجاویز پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر سلیکشن کے اس پورے طریقہ کار کو محض وزارتی احکامات تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے قانونی تحفظ دیا جائے، تاکہ مستقبل میں آنے والی کوئی بھی حکومت یا بیوروکریسی اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر اس شفاف نظام کو تبدیل نہ کر سکے۔ حج مشن کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والے خدام الحجاج کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے محکمانہ ریکارڈ میں اس کا مثبت اندراج کیا جائے، تاکہ دیگر سرکاری ملازمین میں بھی فرض شناسی اور میرٹ پر آنے کا جذبہ پیدا ہو۔

ہمیں بحیثیت قوم یہ سمجھنا ہوگا کہ جب ہم روایتی سفارش اور کرپشن کے کلچر کو چھوڑ کر میرٹ، قابلیت اور ایمانداری کا رستہ چنتے ہیں تو اللہ کی مدد بھی شاملِ حال ہوتی ہے اور دنیا بھی آپ کی صلاحیتوں کا لوہا مانتی ہے۔ خدام الحجاج کا یہ نیا اسلوب اس بات کی زندہ مثال ہے کہ پاکستان کا سرکاری ملازم اگر میرٹ پر آئے تو وہ دنیا کا بہترین خادم بن سکتا ہے۔ اب وقت ہے کہ اس ماڈل کو ریاست کے دیگر تمام شعبوں میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ حقیقی مثبت تبدیلی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔

Check Also

Sigmund Freud: University Ka Zamana Aur Cocane Ki Kahani (1)

By Umar Farooq