Football Ka Aalmi Mela: Pakistan Kyun Peeche Reh Gaya?
فٹ بال کا عالمی میلہ: پاکستان کیوں پیچھے رہ گیا؟
موجودہ دور میں فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں رہا، بلکہ یہ ایک عالمی ثقافت، ایک بہت بڑی معیشت اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں فٹ بال کی 220 ٹیمیں موجود ہیں اور ان سب کی اولین خواہش اور حتمی ہدف فیفا ورلڈ کپ کے عظیم الشان اسٹیج پر اپنے ملک کے پرچم کو لہرانا ہوتا ہے۔
فٹ بال کی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل اس وقت عبور ہونے جا رہا ہے جب پہلی بار اس عالمی ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ فیفا کا ٹیموں کی تعداد میں اس غیر معمولی اضافے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک کو اس عالمی جشن اور مقابلے کا حصہ بننے کا موقع مل سکے۔ اس بار یہ میگا ایونٹ تاریخ میں پہلی مرتبہ تین ممالک یعنی میکسیکو، کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ وہ مسحور کن ٹورنامنٹ ہے جہاں کرسٹینو رونالڈو اور لیونل میسی جیسے فٹ بال کے لیجنڈز جب میدان میں اتریں گے تو یہ ان کا چھٹا ورلڈ کپ ہوگا، جو اپنے آپ میں ایک بے مثال اور تاریخی عالمی ریکارڈ ہے۔
لیکن جہاں پوری دنیا اس فٹ بال فیسٹیول کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے، وہاں چھبیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل پاکستان ایک خاموش تماشائی کی حیثیت سے بھی فٹ بال کے عالمی نقشے پر کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر وہ ملک جو کھیلوں کی دنیا میں کبھی ایک درخشندہ ستارہ تھا، وہ آج دنیا کے سب سے مقبول کھیل کے لیے کوالیفائی کرنے کی سکت بھی کیوں نہیں رکھتا؟
اگر ہم عالمی سطح پر کوالیفائنگ کے عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عالمی سطح پر مقابلہ دن بدن کٹھن اور بے رحم ہوتا جا رہا ہے۔ فیفا نے جو 48 ٹیموں کا نیا فارمیٹ ترتیب دیا ہے، اس میں یورپ کے لیے 16 اور افریقہ کے لیے 10 نشستیں رکھی گئی ہیں، جبکہ ایشیا کے حصے میں صرف 9 ٹیموں کا کوٹہ آیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایشیا کے 45 ممالک ان 9 نشستوں کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ اس سخت اور اعصاب شکن مقابلے میں وہی ٹیمیں آگے نکل سکتی ہیں جن کا ریاستی نظام مضبوط، وژن واضح اور گراس روٹ لیول پر تیاریاں غیر معمولی ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان اس دوڑ میں شامل ہونا تو دور کی بات، اس کے ہدف سے بھی کوسوں دور کھڑا ہے۔
پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا اگر سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک دور وہ تھا جب ہم کرکٹ، ہاکی، اسکوائش اور سنوکر جیسے کھیلوں میں دنیا کے بے تاج بادشاہ اور عالمی چیمپئن رہ چکے ہیں۔ لیکن آج اگر ہم ان تمام کھیلوں سمیت فٹ بال میں پستی اور زوال کا شکار ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ کوئی تکنیکی خامی یا ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ ہمارے اداروں کے اندر رچی بسی بدعنوان سیاست ہے۔ پاکستان میں پروفیشنل کارکردگی اور میرٹ پر کام کرنے کی بجائے ہمیشہ ذاتی، سیاسی اور مالی مفادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ یہی وہ کینسر ہے جس نے ہمارے فٹ بال کو جڑوں سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
ہمارے ہاں فٹ بال فیڈریشن کو کھیل کی ترقی اور نوجوانوں کی سرپرستی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے فنڈز بٹورنے کا ایک منافع بخش ادارہ سمجھ لیا گیا ہے۔ جب تک ہم اس کرپشن زدہ سوچ سے چھٹکارا حاصل نہیں کریں گے کہ فیفا کی طرف سے فیڈریشن کو ملنے والی کروڑوں روپے کی فنڈنگ پر قابض ہونے کے لیے کس من پسند بندے کو صدر اور کس کو نائب صدر بنانا ہے، تب تک فٹ بال میں کسی بھی قسم کی بہتری کا خواب دیکھنا محض ایک خام خیالی اور خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
کھیلوں کے ماہرین اور اسپورٹس اینالسٹس کے مطابق، ہمارے نظام میں خرابی اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اگر آج بھی ہم یہ پختہ عزم کر لیں اور فیصلہ کر لیں کہ فٹ بال فیڈریشن کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہے، تب بھی ہمیں فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے قابل بننے میں کم از کم 10 سال کا طویل عرصہ درکار ہوگا۔ یہ دس سال کا عرصہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنے انفراسٹرکچر اور نوجوان نسل کے مستقبل کو کس بے دردی سے داؤ پر لگایا ہے۔
آج پاکستان میں بنیادی ڈھانچے یعنی انفراسٹرکچر کی حالت زار یہ ہے کہ پورے ملک میں ایک بھی اسٹیڈیم ایسا موجود نہیں ہے جہاں فیفا کے بین الاقوامی معیار کے مطابق رات کے وقت فلڈ لائٹس میں فٹ بال کا کوئی انٹرنیشنل میچ کرایا جا سکے۔ جب کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی بنیادی سہولیات اور گراؤنڈ ہی میسر نہیں ہوں گے، تو وہ عالمی سطح کے تربیت یافتہ کھلاڑیوں کا مقابلہ کیسے کریں گے؟
دنیا بھر میں فٹ بال کو نوجوانوں میں مقبول بنانے، نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے میں "پروفیشنل لیگز" (Leagues) کا کردار سب سے اہم مانا جاتا ہے۔ آج رونالڈو جیسا عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی سعودی عرب کی ایک لیگ میں کھیل رہا ہے اور سعودی عرب کا انہیں وہاں لے کر آنا ان کے دور اندیش کھیل کے وژن اور معاشی حکمتِ عملی کی بہت بڑی کامیابی مانی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، ہمارے ملک میں کسی بین الاقوامی یا پروفیشنل لیگ کی بات تو دور کی بات ہے، ایک باقاعدہ اور منظم ڈومیسٹک لیگ تک کا وجود نہیں ہے۔ جب کوئی پلیٹ فارم ہی دستیاب نہ ہو تو ٹیلنٹ کہاں جائے؟
اس گہری دلدل اور تاریک سرنگ سے نکلنے کے لیے ہمیں روایتی بیانات اور عارضی اقدامات کے سحر سے باہر نکل کر ایک طویل مدتی، مربوط اور وژنری اسپورٹس پلان کی ضرورت ہے۔ اگر ہم دنیا کے اس سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے کھیل میں اپنا نام بنانا چاہتے ہیں اور فیفا ورلڈ کپ کے اسٹیج تک پہنچنے کا خواب سچ کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں فوری طور پر اپنے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز پر فوکس کرنا ہوگا۔
فٹ بال فیڈریشن کی مکمل اوور ہالنگ کی جائے۔ فیڈریشن کے عہدوں کو سیاسی بندر بانٹ کے بجائے خالصتاً میرٹ اور کھیل سے وابستہ پروفیشنلز کے حوالے کیا جائے اور فیفا کی طرف سے ملنے والی فنڈنگ کا ایک ایک روپیہ گراؤنڈز کی تعمیر اور کھلاڑیوں پر خرچ ہو۔
حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ملک کے بڑے شہروں میں کم از کم ایسے اسٹیڈیمز تعمیر یا تیار کیے جائیں جو فیفا کے معیار کے مطابق دن کے ساتھ ساتھ رات کے میچز کی میزبانی کر سکیں۔
پاکستان میں ایک آفیشل کارپوریٹ فٹ بال لیگ کا فوری انعقاد ناگزیر ہے۔ جب تک کارپوریٹ سیکٹر کو کھیل میں شامل کرکے فرنچائز بیسڈ لیگ شروع نہیں کی جائے گی، تب تک کھلاڑیوں کو معاشی تحفظ نہیں مل سکتا۔
بیرونی کھلاڑیوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے لوکل پلیئرز، مقامی کوچز، ایڈمنسٹریشن اور آفیشلز کی ٹریننگ کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام بنانا ہوگا۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر اکیڈمیز قائم کرکے لوکل کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر لایا جائے۔
فٹ بال یا کسی بھی کھیل میں کامیابی کوئی ایک دن یا ایک سال کا معجزہ نہیں ہوتی، یہ عشروں کی محنت، دیانت داری اور مربوط پالیسیوں کا ثمر ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم نظام کے اندر موجود سیاسی اور کرپشن زدہ سوچ کو نہیں بدلیں گے، اس وقت تک آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ پاکستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، کمی صرف ایک مخلص اور دور اندیش انتظامیہ کی ہے جو ان کے خوابوں کو پرواز دے سکےتاکہ فٹ بال کے عالمی گرائونڈ وں میں پاکستان کا پرچم بھی پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا سکے۔

