Child Labour Day Mubarak Ho
چائلڈ لیبر ڈے مبارک ہو
آج 12 جون ہے۔ دنیا "بین الاقوامی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر" منا رہی ہے۔ پاکستان بھی منائے گا۔ سرکاری بیانات آئیں گے، سیمینار ہوں گے، ہوٹلوں کے ائیر کنڈیشنڈ ہالز میں بچوں کے حقوق پر گفتگو ہوگی، تصویریں بنیں گی اور آخر میں چائے اور بسکٹ کے ساتھ یہ عہد دہرایا جائے گا کہ "بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے"۔
پھر شام تک سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔
ادھر کسی بھٹے پر ایک بچہ اینٹیں اٹھا رہا ہوگا۔
کسی ورکشاپ میں ایک کمسن لڑکا مشین کے شور میں اپنی معصومیت گم کر رہا ہوگا۔
کسی گھر میں دس سالہ بچی برتن دھوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی صاف کر رہی ہوگی اور شاید کسی چوک پر ایک بچہ گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوگا کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟
پاکستان میں اندازاً 86 لاکھ سے زائد بچے مزدوری کرتے ہیں۔ مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اس مسئلے پر بہت سی کانفرنسیں کر لی ہیں۔
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ ہم بچوں کو "قوم کا مستقبل" بھی کہتے ہیں اور اسی مستقبل سے اینٹیں بھی ڈھوواتے ہیں۔ ہم تقریروں میں کہتے ہیں کہ بچے پھول ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر ان پھولوں کو بھٹوں کی آگ، کھیتوں کے زہریلے سپرے اور فیکٹریوں کی دھول میں جھونک دیتے ہیں۔
غربت یقیناً ایک حقیقت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غربت صرف بچوں کا بچپن کھانے کے لیے پیدا ہوئی ہے؟ کیا ہر بحران کا حل یہی ہے کہ سب سے کمزور کندھوں پر سب سے بھاری بوجھ ڈال دیا جائے؟
کھیتوں میں کپاس چنتے یہ بچے شاید نہیں جانتے کہ دنیا آج ان کے نام پر ایک دن منا رہی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے جسموں میں اترتے زہریلے کیمیکل ان کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔ ان کے لیے آج بھی وہی دن ہے جو کل تھا: کام، تھکن اور ایک ایسا کل جس کی کوئی ضمانت نہیں۔
گھریلو ملازمت کرنے والی بچیوں کی کہانی تو اس سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ وہ صبح سے رات تک دوسروں کے بچوں کی خدمت کرتی ہیں جبکہ ان کا اپنا بچپن کسی کونے میں دم توڑ دیتا ہے۔ ان کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں کیونکہ معاشرے نے انہیں "نوکرانی" کا نام دے کر انسان سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ سکولوں میں بچے کیوں نہیں ہیں۔
کاش کوئی پوچھے کہ سکول جائیں بھی تو کیسے؟ جب گھر میں فاقہ ہو، جب کتاب اور روٹی میں انتخاب کرنا پڑے، تو اکثر روٹی جیت جاتی ہے اور خواب ہار جاتے ہیں۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے چائلڈ لیبر کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے معمول بنا لیا ہے۔ چائے کے ڈھابے پر بارہ سال کے بچے سے آرڈر لیتے وقت ہمیں تکلیف نہیں ہوتی۔ سگنل پر کھلونے بیچتی بچی کو دیکھ کر ہم چند سکے دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ ہم استحصال کو خیرات سے دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں قوانین موجود ہیں۔ معاہدے موجود ہیں۔ وعدے موجود ہیں۔ صرف وہ بچے غائب ہیں جن کے لیے یہ سب بنایا گیا تھا۔ شاید اس سال بین الاقوامی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر پر ہمیں جشن نہیں، شرمندگی منانی چاہیے۔ کیونکہ جس ملک میں لاکھوں بچے سکول کی گھنٹی کے بجائے بھٹے کے مالک کی آواز پر جاگتے ہوں، جہاں معصوم ہاتھ قلم کے بجائے اوزار پکڑنے پر مجبور ہوں اور جہاں بچپن سب سے سستی چیز بن چکا ہو، وہاں چائلڈ لیبر صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں رہتی۔
وہ ظلم بن جاتی ہے۔ وہ استحصال بن جاتی ہے۔ وہ بچوں کے خوابوں کا قتل بن جاتی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ چائلڈ لیبر محض مزدوری نہیں، بچوں کے ساتھ ہونے والا ایک ایسا اجتماعی ظلم ہے جسے ہم نے اتنی بار دیکھا ہے کہ اب ہمیں اس پر حیرت بھی نہیں ہوتی۔
لہٰذا، اگر آج ہم واقعی "بین الاقوامی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر" منا رہے ہیں تو پہلے ان بچوں سے معافی مانگ لیں جن سے ہم نے ان کا بچپن چھین لیا۔
شاید یہی اس دن کی سب سے سچی تقریب ہے۔

