Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Muash e Nabvi (4)

Muash e Nabvi (4)

معاش نبوی ﷺ (4)

آپؑ نے اپنی زندگی میں حریسہ، طفیشل، خزیرہ، ثرید، اقط (پنیر)، سمن (گھی، مکھن)، خشک و تر نئی پرانی کھجوریں، کدو گوشت کا شوربہ دار سالن، روٹی سرکہ، جو کی روٹی، مرغ یا بکری یا اونٹنی کا گوشت، شکار شدہ (حلال و مخصوص) گوشت، حباری (پرندہ)، حلوہ (آٹے، گھی اور شہد کا)، کھجور خربوزہ، کھجور تربوز، کھجور ککڑی، کھجور کا مالیدہ، شوربہ اور بھنا ہوا گوشت جیسے کھانے تناول فرمائے۔ علاوہ ازیں آپؑ نے دودھ، آب تازہ، شہد، نبیذ، ستو اور آب زم زم جیسے مشروبات نوش جاں کیے۔

ان میں سے بعض کا انتظام خود کیا، بعض اپنے مال سے خرید فرمائے، بسا اوقات میزبان بنے اور مہمانوں کے ساتھ کھانے کا اتفاق ہوا، بسا اوقات کوئی آپؑ کی زیارت کو آیا اور ہدیہ کے طور پر لیتا آیا، بعض خوش نصیبوں نے آپ کی ضیافت کی اور یوں دسترخوان پہ کھانے کا اتفاق ہوا، بعض مواقع پر جنگ کے دوران ایسے کھانے کھائے اور کچھ کا اتفاق شادی یا ولیمہ کی دعوتوں میں ہوا۔

مدینہ کی بستی والوں کی ایک اچھی عادت یہ تھی کہ موسم کا پہلا پھل خدمت اقدس ﷺ میں لایا کرتے، ہجرت کے بعد آپ چودہ دن تک قبا میں اور پھر سات ماہ حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر قیام پذیر رہے، اس دوران مختلف اصحاب بڑی ہمت، خوشی، قربانی اور فخر سے طعام کا انتظام کیا کرتے، معتبر درجہ کی دینی کتب میں لکھا ہے کہ آپؑ کے لیے آسمان سے کھانا بھی نازل ہوا، اصحاب نے پوچھا "اللہ کے رسول! باقی کہاں ہے؟ ، آپ نے فرمایا "اللہ تعالی نے واپس اٹھا لیا"، (آسمان سے کھانا نازل ہونے کے واقعات محمد ﷺ کے ادنی غلاموں کے ساتھ بھی پیش آئے ہیں)۔

ملبوسات مبارکہ میں سے کچھ مسلمانوں سے ہدیہ و نذرانہ کے طور پہ ملے، جیسے ایک خاتون عمدہ حاشیہ دار چادر بن کر تحفہ کو لائیں (اور آپ نے قبول کی)، اسی طرح نجاشئی حبشہ نے سیاہ سادہ موزے بھیجے وغیرہ، جب کہ کچھ ملبوسات غیر مسلموں سے ملے جیسے علاقہ زویزن کے حکم ران نے خدمت اقدس میں ایک حلہ روانہ کیا جو تینتیس اونٹوں کے بدلے خریدا گیا تھا، آپ نے سنت کے موافق اسے ایسا حلہ عنایت کیا جو پچیس جوان اونٹنیوں کے بدلے خریدا گیا تھا۔

کبھی ازواج مطہرات کے مال سے بھی سہارا مل جایا کرتا تھا، تمام ازواج آسودہ حال گھرانوں سے تھیں، والدین یا بہن بھائیوں سے مال و جنس کے ہدایہ ملا کرتے، بعض کو والدین یا سابق شوہروں کی طرف سے ترکہ (بہ صورت جاگیر) ملا، اس سے بھی آمدنی ہوتی، مثال کے طور پہ ام سلمہؓ کی خاندانی جاگیر طائف میں تھی، وہاں سے شہد آیا کرتا جسے وہ اپنے مبارک شوہر کے لیے بچا بچا کر رکھتیں، ام حبیبہؓ نجاشی کے دربار سے نذرانے کے علاوہ مہر کی رقم بھی لائیں، ماریہ قبطیہؓ شاہ (مصر) مقوقس کے دربار سے نقد و جنس کے بہت سے تحائف لائیں۔

جہاد وہ بابرکت عمل ہے جس سے دین کا شجر پھلتا پھولتا ہے، علاوہ ازیں مجاہدین کو مال غنیمت بھی حاصل ہوتا ہے، آپؑ نے ستائیس جنگوں میں خود حصہ لیا (ایسی جنگ جس میں آپ بنفس نفیس شامل ہوں "غزوہ" کہلاتی ہے)، ان ستائیس میں سے کچھ غزوات تھے جن میں آپ زخمی ہوئے جیسے غزوہ احد جب کہ کچھ غزوات میں بڑی کثرت سے مال حاصل ہوا جیسے غزوہ مریسیع۔ غزوہ مریسیع میں دو سو اونٹ، پانچ ہزار بکریاں، خاصی تعداد میں سامان و ہتھیار اور چند قیدی ہاتھ لگے۔ اسی طرح ایک اور جنگ غزوہ بنی قریظہ ہے جس میں مال و اسباب کے علاوہ زرعی اور رہائشی جائیدادیں، پندرہ سو تلواریں، تین سو زرہ بکتر، دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں ہاتھ آئیں، اسلام میں غنیمت کے اصول ہیں، جنگ کے بعد آپؑ کو ایک مجاہد کا حصہ، ایک مجاہد کے حصے کے علاوہ صفی (صفی صاف سے ہے یعنی وہ خاص مال جو نبی آخر الزمان کے لیے چھانٹ کر علاحدہ کر لیا جاتا) اور کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ (جیسا کہ قرآن میں آیا ہے) ملتا اور آپ قبول بھی فرماتے، اسی طرح آپؑ نے حیات مبارکہ میں ستاون سرایا روانہ فرمائے، (سریہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں اللہ کے آخری نبی بنفس نفیس شریک نہ ہوں لیکن مجاہدین کی جماعت کو ہدایات دے کر روانہ فرمایا ہو)، ان میں سے بہت سے سرایا بہت سا مال غنیمت لائے، آپؑ نے پانچواں حصہ قبول فرمایا۔

آخری سالوں میں یمامہ، نجران، بحرین، عمان، ازرح اور یمن وغیرہ کے لوگوں سے معاہدہ جات ہوئے۔ ان علاقوں سے جزیہ اور خراج کی رقم آنے لگی۔ یہ بھی اہم ذریعہ تھا۔

سطور بالا سے ظاہر ہوگیا کہ آپؑ کو تجارت و جہاد سمیت بہت سے ذرائع سے مال حاصل ہوا، دنیاوی زندگی میں مال دار ہونا خوبی ہے، آپؑ اس خوبی سے متصف تھے، آپؑ نے اہل زمانہ پہ مال بہت خرچ کیا، یوں صفت سخاوت سے بھی سرفراز تھے، آپؑ نے اللہ تعالی کی رضا اور دین کی سربلندی کے لیے فاقہ و فقر بہت برداشت کیا، یوں یہ بھی آپ کی زندگی کا ایک کمال تھا، اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ حیات مبارکہ میں مال داری، سخاوت اور فاقہ و فقر حسب موقع ظاہر ہوتے رہے ہیں، سلام ہو آپ پر اور آپ کی آل پر۔

Check Also

Muash e Nabvi (4)

By Kashif Zia