Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Sigmund Freud: University Ka Zamana Aur Cocane Ki Kahani (1)

Sigmund Freud: University Ka Zamana Aur Cocane Ki Kahani (1)

سگمنڈ فرائڈ: یونیورسٹی کا زمانہ اور کوکین کی کہانی (1)

علم نفسیات کے طالب علم سگمنڈ فرائڈ کے کام کو پڑھے اور سمجھے بغیر ادھورے سمجھے جاتے ہیں۔ سگمنڈ فرائڈ جدید علم نفسیات کے نہ صرف بانی تھے بلکہ اپنے آپ میں ایک مکتبہ فکر تھے۔ دنیا بھر میں لاکھوں ماہرین نفسیات تحقیقی مقالہ لکھ رہے ہیں۔ لاکھوں ماہرین سینکڑوں پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں مگر یہ لوگ فرائڈ کو پڑھے بغیر آگے بڑھنے کا وہم وگمان بھی نہیں کرسکتے۔ کہتے ہیں دنیا میں تین لوگ ایسے گزرے ہیں جنھوں نے اپنے افکار سے تاریخ کے دھارے کو پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ "کارل مارکس، ڈارون اور سگمنڈ فرائڈ"۔

سگمنڈ فرائڈ نے شعور اور لاشعور کی سائنسی وضاحت پیش کی۔ فرائڈ نے جنسی توانائی کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا۔ یہ سگمنڈ فرائڈ ہی ہے جس نے سیکشوئلٹی (سیکس) کے انسانی زندگی پر گہرے اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ جس نے تہذیب کی کہانی جذبات کی زبان سے بیان کی۔ فرائڈ کے کام کو پڑھنے سے بڑی عیاشی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان فرائڈ کے لفظوں کے عقب میں اپنی ہی ذات کے پردے چاک کررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے ان گوشوں سے روبرو ہورہا ہوتا ہے جو ہمیشہ سے اس کی آنکھوں سے اوجھل رہے ہوتے ہیں۔

ہم فرائڈ کے کام کو تفصیل سے دیکھیں گے فی الحال آئیے ہم فرائڈ کی داستان وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پر اس کا اختتام کیا تھا۔ سگمنڈ فرائڈ کو ڈگری مکمل کرنے میں 8 سال کا طویل عرصہ لگ گیا۔ دراصل فرائڈ میں سیکھنے کی بے پناہ چاہ اور تجسس کی نہ ختم ہونے والی بھوک تھی۔ کھوج اور حقائق کا سراغ لگانے کی یہ پیاس آخری زندگی تک فرائڈ کے ساتھ رہی۔ بریناٹو جو فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ وہ فرائڈ کی فلسفے میں دلچسپی کا سبب بنے یہاں تک کہ ایک وقت بعد فرائڈ میڈیکل چھوڑ کر فلسفہ میں داخلے کا سوچنے لگے۔

فرائڈ نے ان دنوں "جان سٹورٹ مل" کی چند کتابوں کا جرمنی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ فرائڈ "ارنسٹ بروک" سے بیحد متاثر تھے۔ یہ ارنسٹ بروک ہی تھے جن کی وجہ سے فرائڈ میڈیکل کی ڈگری میں ٹھہرے رہے۔ بروک کی لیبارٹری میں فرائڈ کا کام مردوں کے Reproductive system پر ریسرچ کرنا تھا۔ بروک کی لیبارٹری میں رہتے ہوئے ہی سگمنڈ فرائڈ نے انسانی ساخت اور نیورانز پر شاندار مقالے تحریر کیے۔ فرائڈ، بروک کی وجہ سے میڈیکل ریسرچ میں ٹھہرے ہوئے تھے تاہم مارتھا برنیس سے منگنی نے فرائڈ کو عملی اور پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا۔

فرائڈ نے بروک سے مشاورت کرنے کے بعد اپنے وقت کے مشہور دماغ کے اسپیشلسٹ تھیوڈور مائنرٹ کے پاس ویانا کے جنرل ہسپتال میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ فرائڈ جلد ہی دماغ کی گنجلک ساخت اور نیورانز کے پیچیدہ تعلق کو سمجھ گئے۔ فرائڈ دیکھتے ہی دیکھتے بیماریوں کی تشخیص میں بھی ماہر ہوتے چلے گئے۔ فرائڈ تھیوڈور مائنرٹ کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ تھیوڈور کے پاس کام کے دوران فرائڈ کی ملاقات ڈاکٹر جوزف برائیر سے ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد فرائڈ انسانی نفسیات کی جانب کھنچتے چلے گئے اور پھر وقت نے ایسا چکر بھی چلایا جب پوری دنیا میں سگمنڈ فرائڈ علم نفسیات کی پہچان بن گئے۔

کوکین کی کہانی:

1884 کے موسم بہار میں یہ جاننے کے بعد کہ فوجیوں کی توانائی اور برداشت کو بڑھانے کے لیے فوج میں کامیابی کے ساتھ کوکین کا استعمال کیا گیا ہے فرائڈ کی کوکین کے مطالعے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ خود کوکین کی دوا لینے کے بعد فرائڈ نے محسوس کیا کہ اس سے انہیں ذہنی دباؤ سے نجات ملی ہے اور اس کی بدہضمی بھی ٹھیک ہوگئی ہے۔ فرائڈ کو لگتا تھا کہ کوکین کی دوا کے باقاعدگی سے استعمال کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔ خود کوکین باقاعدگی سے لینے کے علاوہ، فرائڈ نے اسے اپنی بہنوں، دوستوں، ساتھیوں اور مریضوں کو دیا اور کچھ اپنی منگیتر مارتھا برنیس کو بھیجی کہ یہ "اسے مضبوط بنائے اور اس کے گالوں کو سرخ رنگ دے" (ای جونز، 1953، صفحہ 81)۔

فرائڈ کے مریضوں میں کوکین کی وجہ سے ہونے والی واضح بہتری نے اسے پہلی بار محسوس کروایا کہ وہ ایک حقیقی معالج ہے۔ وہ کوکین کا پرجوش حامی اور وکیل بن گیا اور اگلے دو سالوں میں اس کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے چھ مضامین شائع کیے۔ فرائڈ کے ساتھیوں میں سے ایک کارل کولر (1857-1944) نے فرائڈ سے سیکھا کہ کوکین کو بے ہوشی کی دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کولر کو امراض چشم میں دلچسپی تھی۔ چند مہینوں کے اندر، کولر نے ایک مقالہ پیش کیا جس میں بتایا کہ آنکھوں کا آپریشن پہلے کیسے ناممکن تھا مگر اب کوکین کو بے ہوشی کی دوا کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس بات نے اخبارات میں ایک سنسنی پھیلادی اور کولر کو تقریباً راتوں رات دنیا بھر میں شہرت مل گئی۔

فرائڈ کو اس بات سے شدید صدمہ پہنچا۔ کوکین کے بارے میں اس کے خیالات بلآخر غلط ثابت ہوئے جب انہوں نے اپنے دوست Ernst von Fleischl- Marxow (1846-1891) کو کوکین پلائی جو مارفین کا عادی تھا۔ فرائڈ کا ارادہ Marxow کی مورفین لینے کی عادت ختم کرکہ اسے کوکین میں تبدیل کرنا تھا۔ مارکسوو کو کوکین کی ایسی لت لگی کہ وہ کوکین کی وجہ سے مرگیا۔ جلد ہی پوری دنیا سے کوکین کی لت کی اطلاعات آنا شروع ہوگئیں اور اس دوا کو ہر طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فرائڈ جو خود بھی کوکین لینے کا عادی تھا اب وہ کوکین کی جگہ نکوٹین لینے لگا۔ فرائڈ نے زندگی کا بیشتر حصہ نیکوٹین لیتے گزارا۔ وہ روزانہ اوسطاً 20 سگار پیتا تھا۔

38 سال کی عمر میں پتہ چلا کہ اسے دل کی اریتھمیا ہے، خود اس کے معالج نے اسے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے سگار کا استعمال جاری رکھا۔ کمال دیکھیں خود ایک معالج ہونے کے ناطے فرائڈ سگریٹ نوشی سے منسلک صحت کے خطرات سے بخوبی واقف تھا اور اس نے سگار چھوڑنے کی کئی بار کوشش بھی کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ 1923 میں، جب فرائڈ کی عمر 67 سال تھی اسے تالو اور جبڑے کا کینسر ہوگیا۔ اس کے 33 آپریشن کیے گئے۔ فرائڈ اپنی زندگی کے آخری 16 سالوں میں تقریباً مسلسل درد میں رہا لیکن پھر بھی وہ سگار پیتا رہا۔ محقّقین کا ماننا ہے کہ فرائڈ نے اپنے معالج کی مدد سے خودکشی کی تھی کیونکہ وہ جبڑے اور تالو کی درد سے تنگ آچکا تھا۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Trillionaire Ki Dehleez Par

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi