Ikhlaqiat Ka Alam Buland Rakhen
اخلاقیات کا علم بلند رکھیں

جیمز میڈیسن امریکہ کے چوتھے صدر تھے لیکن وہ امریکی تاریخ کے ایک بہت اہم رہنما تھے۔ ان کو امریکی آئین کا بانی کہا جاتا ہے۔ امریکی آئین اور حقوق کے متعلق ان کا کام آج بھی امریکی تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا ہے۔
ان کا ایک مشہور قول ہے
"Knowledge will forever govern ignorance; and a people who mean to be their own governors must arm themselves with the power which knowledge gives"
اس کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہو سکتا ہے
"علم ہمیشہ جہالت پر حکمران رہے گا اور جو لوگ آگے بڑھنا یا حکمرانی کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنے آپ کو علم کی قوت سے مسلح کرنا ہوگا"۔
ہم ایک نیم خواندہ اور مقابلتاََ کم علم قوم ہیں۔ یہاں آپ یعنی خواندہ لوگوں کے معاشرے کی ذمہ داری بہت بڑہ جاتی ہے۔ آپ کا مقابلہ جہالت سے ہے جو کبھی آپ کے خاندان کا روپ دھار لیتی ہے اور کبھی آپ کے ہم عصروں کا۔ کبھی آپ کے سینئیر ڈاکٹروں کا اور کبھی اُس عوام کا جن سے آپ نیکی کر رہے ہیں۔ کبھی یہی جہالت آپ کے سامنے سیاستدانوں کی صورت میں آن کھڑی ہوگی اور کبھی آپ کے لئیے بنائے گئے قوانین کی شکل میں اور کبھی کبھی آپ کے شوہر یا اہلیہ یا پھر سسرالی رشتہ داروں کی شکل میں۔
یہاں آپ کی ہار کے معنی ایک معاشرے کا تباہ ہو جانا ہے۔ میری بات بہت دھیان سے سمجھ لیجئیے کہ اس وقت بدعنوانی پاکستان کی جڑوں میں سرائیت کر چُکی ہے۔ معاشرے کے چار ستون ہوتے ہیں۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ یعنی دفتری ضابطے اور ہاں پریس۔ یہ چاروں ہی برباد ہو چُکے ہیں۔ اب آپ یعنی سول سوسائٹی معاشرتی اور اخلاقی حفاظت کی بالکل آخری قطار ہیں اور آپ کے بعد مکمل تاریکی ہے۔
چند ہی ھفتے پہلے سکاٹس ڈیل، ایریزونا میں سینئیر ترین ایگزیکٹو ڈاکٹروں کی میٹنگ میں، میں بولنے والا آخری مقابلتاََ اہم آدمی تھا اور جس بات پر مجھے تالیاں بجا کر بہت داد دی گئی تھی وہ یہی تھی کہ آج جہاں امریکی معاشرہ بھی اخلاقیات کی جنگ لڑ رہا ہے اور ہم ڈاکٹر (لاطینی زبان میں استاد) ابھی بھی ایک ایسا طبقہ ہیں جو پیدائش سے لے کر آخری لمحوں تک انسانی زندگی کے محافظ سمجھے جاتے ہیں اور آج بھی اخلاقیات میں رہنما ہیں۔ ہمیں اسی علم کو اٹھا کر کھڑے رہنا ہے۔ اسی بنیاد پر ہمیشہ سے سفید بے داغ کوٹ پہننا اور سینہ بین (اسٹیتھوسکوپ) اٹھانا آج بھی لاکھوں نوجوانوں کا خواب ہے۔ امریکہ کا سب سے عزت دار پیشہ آج بھی ڈاکٹروں کی ایک اسپیشلٹی ہی ہے۔
گہرا سانس لیجئیے اور نمک کی کان میں نمک مت ہو جائیے۔ خواہ وہ آپ کے شوہر یا اہلیہ ہوں یا سسرالی عزیز۔ بدزبان عوام ہو یا بد دماغ اساتذہ، اخلاقیات کا علم اٹھا کر کھڑے رہیے خواہ آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔ روز ایک یا دو چیزیں سیکھئیے۔ علم حاصل کیجئیے۔ بلند اخلاق سے لوگوں کو بدلئیے۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ قائد اعظم کو پڑھئیے۔ وہ شاید ہماری ہند و پاک کی سو سالہ تاریخ کے سب سے بڑے آدمی تھے۔ اس سب کو حاصل کرنے کیلئے علم حاصل کیجئیے۔
جس معاشرے میں علم حاصل کرنے کیلئے ٹیلی وژن کے ڈرامے اور سینہ بسینہ روایات استعمال ہوں، اس معاشرے میں اخلاقیات کو قائم رکھنے کیلئے قربانی دی جانی چاہئیے اور وہ قربانی ہمیشہ سے ہی سول سوسائٹی دیتی ہے جس کا نمایاں ترین طبقہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ علم حاصل کیجئیے اور وقت کا بہتر استعمال کر لیجئیے۔ آئی فون ایک طرف رکھئیے اور کتابیں اٹھائیں۔ الرحیق المختوم، وار اینڈ پیس پڑھیں۔ اداس نسلیں، آگ کا دریا، راجہ گدھ، ڈاکٹر ژواگو، خدا کی بستی، آنگن، گاڈ فادر، لو سٹوری۔
بڑھاپے کی سرحدوں پر کھڑے ہوئے آج بھی آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میرے پاس بے شمار یعنی سینکڑوں ہزاروں کتابوں کی لائبریری ہے اور میں کم و بیش ہر دن ان سے استفادہ کرتا ہوں۔

