Dunya Ke 100 Azeem Tareen Novel
دنیا کے 100 عظیم ترین ناول

شدید انتظار کے بعد گارڈین اخبار نے دنیا کے سو عظیم ترین ناولوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دنیا کے 170 کے قریب چوٹی کے مصنفوں اور نقادوں سے کہا کہ اپنے پسندیدہ دس ناولوں کی فہرست بنائیں اور ان تمام فہرستوں کو اکٹھا کرکے سو ناولوں کی فہرست تیار کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چوٹی کے دس ناولوں میں سے پانچ خواتین نے لکھے ہیں اور سو میں سے 36 ناولوں کی خالق خواتین ہیں، جو یقیناً بہت حوصلہ افزا ہے، کیوں کہ بہرحال مرد ناول نگاروں کی مجموعی تعداد کہیں زیادہ ہے اور ابھی ڈیڑھ پہلے تک خواتین کو اپنے نام سے لکھنے کی آزادی نہیں تھی۔ ہمارے ہاں تو یہ معاملہ 20ویں صدی تک چلتا رہا۔
اس کے علاوہ سو میں ورجینیا وولف کے پانچ ناول شامل ہیں، جو کسی بھی دوسرے ناول نگار سے زیادہ ہیں۔ ایک اور خاتون آسٹن چار ناولوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جب کہ ڈکنز کے بھی چار ہی ناول منتخب ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ رینکنگ والا زندہ ناول نگار سلمان رشدی ہے، جس کا مڈ نائٹس چلڈرن 23ویں نمبر پر ہے۔ 11 ناول نگار ایسے ہیں جو ابھی زندہ ہیں، جب کہ سب سے کم عمر ناولسٹ ایک اور خاتون زیڈی سمتھ ہیں (51 سالہ) جن کا ناول وائٹ ٹیتھ 63 نمبر پر ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ کہ فہرست میں چار ناول نگار انڈین نژاد ہیں، روہنٹن مستری، ارندھتی رائے، سلمان رشدی اور وی ایس نائپال۔
فہرست میں نئے ناولوں کو بھرپور جگہ دی گئی ہے: آٹھ ناول 21 صدی میں لکھے گئے ہیں، جب کہ سب سے نیا ناول ہلیری مینٹل کا ضخیم تاریخی ناول وولف ہال، ہے جو 2009 کی تخلیق ہے اور کئی دوسری فہرستوں میں اسے 21 صدی کا سب سے بڑا ناول قرار دیا گیا ہے۔
تاریخی ناول سے یاد آیا کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ تاریخی ناول کے نام سے بدکتے ہیں، مگر اس فہرست کم از کم 13 تاریخی ناول شامل ہیں، جن کا سرتاج جنگ اور امن ہے۔
ایک اور بات یہ کہ 15 ناول ایسے ہیں جنہیں ماڈرن (مثلاً یولیسیز، ٹو دا لائٹ ہاؤس) کہا جا سکتا ہے، 12 ناول پوسٹ ماڈرن (مثلاً پیل فائر – شاندار ناول – مڈنائٹس چلڈرن، رنگز آف سیٹرن وغیرہ) کے زمرے میں ڈالے جا سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت پسندی پر مبنی ناول سب سے زیادہ یعنی 40 کے قریب ہیں، مثلاً وولف ہال، فائن بیلنس، تھنگز فال اپارٹ، وغیرہ)۔
ظاہر ہے یہ ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔ لیکن۔۔
اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا
میرے حساب سے پہلے پانچ ناول بہر طور آنا کارینینا، جنگ و امن، برادران کارمازوف، مادام بواری اور ڈان کیخوتے ہیں، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی اس فہرست میں ٹاپ فائیو میں جگہ نہیں بنا سکا۔
اس کے علاوہ میرے حساب سے، مڈل مارچ، بی لوڈ، 1984، تنہائی کے سو سال، ٹرسٹریم شینڈی اور بلیک ہاؤس کو ان کے قد سے کہیں بڑا مقام عطا کیا گیا ہے، جس کی قیمت ان سے کہیں بہتر ناولوں کو چکانا پڑی ہے۔

