Wednesday, 10 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Football Worldcup Ke Maidano Ke Liye Khas Ghas Ki Tayyari

Football Worldcup Ke Maidano Ke Liye Khas Ghas Ki Tayyari

فٹبال ورلڈکپ کے میدانوں کے لیے خاص گھاس کی تیاری

فٹبال ورلڈ کپ کے دوران سب کی نظریں یقیناً میسی، رونالڈو، ایمباپے، بیلنگھم اور دوسرے اسٹار فٹبالرز پر ہوں گی، لیکن اس عظیم ٹورنامنٹ کی کامیابی میں ایک کردار ایسا ہوگا جس پر عام شائقین شاید غور نہ کریں۔ یہ ہے امریکا میں تیاری کی گئی خاص گھاس۔ بظاہر سبز اور سادہ نظر آنے والی یہ گھاس درحقیقت جدید زرعی سائنس، انجینئرنگ، حیاتیات اور موسمیاتی تحقیق کا کمال ہے۔ ورلڈکپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے 16 شہروں میں کھیلا جائے گا، جہاں موسم، درجہ حرارت اور ماحول ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ان سب مقامات پر ایک جیسا کھیلنے والا میدان تیار کرنا غیر معمولی سائنسی چیلنج تھا۔

ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب خراب میدان کھیل کا معمول سمجھے جاتے تھے۔ بارش کے بعد میدان کیچڑ میں بدل جاتے، گول پوسٹوں کے سامنے گڑھے پڑ جاتے اور بعض اوقات گیند کا اچھال مکمل طور پر غیر متوقع ہوجاتا۔ لیکن جدید فٹبال میں یہ قابل قبول نہیں۔ آج ہر پاس، ہر شاٹ اور ہر سلائیڈنگ ٹیکل دنیا بھر کے کروڑوں ناظرین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ اسی لیے فیفا چاہتی ہے کہ تمام میدان تقریباً ایک جیسے محسوس ہوں تاکہ کسی ٹیم کو فائدہ یا نقصان نہ ہو۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا کی ٹینیسی یونیورسٹی اور مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دان تقریباً آٹھ سال تک اس پر تحقیق کرتے رہے۔ انھوں نے مختلف اقسام کی گھاس اگائی، ان پر گیندیں اچھالیں، کھلاڑیوں کے جوتوں جیسے آلات سے میدانوں کو بار بار کچلا اور نمی اور درجہ حرارت کی پیمائش کی۔ بی بی سی کے مطابق محققین نے 170 سے زیادہ تجربات کیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ گیند کی رفتار، اچھال اور کھلاڑیوں کی گرفت کے لیے کون سا نظام سب سے بہتر ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ تمام میدانوں کے لیے ایک گھاس استعمال کی جائے گی۔ گرم اور دھوپ والے شہروں، مثلاً میامی، کینساس سٹی اور مونتری کے لیے برموڈا گراس کا انتخاب کیا گیا کیونکہ یہ شدید گرمی اور خشکی برداشت کرسکتی ہے۔ ٹورنٹو، وینکوور، میکسیکو سٹی اور بند چھت والے اسٹیڈیموں کے لیے رائی گراس اور کینٹکی بلیو گراس سے گھاس بنائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کی گھاس استعمال ہونے کے باوجود کوشش یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو تمام میدان ایک جیسے محسوس ہوں۔

صرف گھاس اہم نہیں بلکہ اس کے نیچے موجود تہیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ رائٹرز کے مطابق میدان کے نیچے ریت، مٹی، نکاسیٔ آب کے نظام، آبپاشی کی پائپ لائنیں، درجہ حرارت کنٹرول کرنے والے سسٹم اور پانی ذخیرہ کرنے والے جدید پلاسٹک ڈھانچے نصب کیے گئے ہیں۔ یہ نظام بارش کے بعد چند منٹوں میں اضافی پانی نکال سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر گھاس کی جڑوں تک نمی بھی پہنچاتا ہے۔ بعض میدانوں میں پرماووئڈ سسٹم استعمال کیا گیا ہے جو زیرزمین پانی اور ہوا کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ امریکا کے آٹھ اسٹیڈیم عام طور پر مصنوعی گھاس استعمال کرتے تھے کیونکہ وہاں این ایف ایل کی ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ فیفا قوانین کے مطابق ورلڈکپ کے لیے قدرتی گھاس ضروری ہے، اس لیے ان میدانوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔ سیاٹل کے لومن فیلڈ اور لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم سمیت کئی مقامات پر مصنوعی سطح کے اوپر نکاسی اور ہوا رسانی کا نیا نظام نصب کیا گیا، اس پر موٹی ریت بچھائی گئی اور پھر قدرتی گھاس لگائی گئی۔

سب سے دلچسپ چیلنج ڈیلس کے اے ٹی اینڈ ٹی اسٹیڈیم میں پیش آیا۔ اسٹیڈیم کی چھت اور ساخت ایسی ہے کہ میدان تک سورج کی مناسب روشنی نہیں پہنچتی۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انجینئروں نے چھت سے خصوصی گلابی رنگ کی گرو لائٹس لٹکا دیں جو گھاس کو ویسی روشنی فراہم کرتی ہیں جو سورج دیتا ہے۔ یوں ایک طرح سے مصنوعی سورج تخلیق کیا گیا تاکہ گھاس تازہ اور مضبوط رہے۔

سائنس دانوں نے گھاس کی لمبائی پر بھی تحقیق کی۔ بی بی سی کے مطابق صرف پانچ ملی میٹر کا فرق بھی کھیل پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر گھاس زیادہ لمبی ہو تو گیند کی رفتار کم ہوجاتی ہے جبکہ درست لمبائی میدان کو قالین کی طرح ہموار بنادیتی ہے۔ محققین نے خصوصی مشینوں سے گیند کی رفتار اور اچھال ناپ کر ہر قسم کی گھاس کے لیے موزوں لمبائی کا تعین کیا۔

ان تمام کوششوں کے پیچھے تلخ تجربہ تھا۔ ماضی کے ٹورنامنٹس کے دوران بعض کھلاڑیوں اور کوچز نے میدانوں کے معیار پر شدید تنقید کی تھی۔ 2024 کے کوپا امریکا میں ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے شکایت کی کہ بعض میدانوں پر گیند غیر معمولی انداز میں اچھلتی تھی اور کھیل متاثر ہورہا تھا۔ ورلڈکپ کے منتظمین نہیں چاہتے تھے کہ ایسی شکایات دوبارہ سامنے آئیں، اسی لیے اس بار تیاری کئی سال پہلے شروع کردی گئی۔

ورلڈکپ کے دوران شائقین شاید گھاس کے بارے میں زیادہ نہ سوچیں اور درحقیقت یہی سائنس دانوں کی کامیابی ہوگی۔ ان کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ میدان کو دیکھ کر داد دیں بلکہ یہ کہ میدان اتنا عمدہ ہو کہ کسی کی توجہ اس کی طرف جائے ہی نہیں۔ اگر کھلاڑی آزادانہ دوڑ سکیں، گیند اپنی فطری رفتار سے چلے اور میچ کا فیصلہ صرف صلاحیت سے ہو، تو اس کا مطلب ہوگا کہ ان گمنام ماہرین نے اپنا کام کامیابی سے انجام دے دیا۔ یہ ورلڈ کپ صرف فٹبال کا نہیں بلکہ جدید سائنس اور انجینئرنگ کا بھی شاندار مظاہرہ ہے اور اس تاریخ ساز ٹورنامنٹ کی بنیاد دراصل اسی سبز گھاس پر رکھی گئی ہے جسے تیار کرنے میں برسوں کی محنت صرف ہوئی ہے۔

Check Also

Pakistan Ke Namak Mein Kya Khami Hai

By Najam Wali Khan