Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Barfeela Ishnan

Barfeela Ishnan

برفیلا اشنان

بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کی گرفت میں لینا ویسا ہی مشکل ہے جیسے ریت یا پانی کو مٹھی میں قید کرنا، جب برفباری ہو رہی ہوتی اور ہم پوسٹ آفس کی طرف نکلتے، روئی نما برف کے گالے گرتے تو یوں لگتا جیسے روزمرہ زندگی نے چھٹی لے لی ہو اور فطرت خود ہمیں سیر پر لے آئی ہو، سڑک پر پیدل چلتے پاؤں برف میں دھنس جاتے، مگر دل کسی انجانی خوشی میں ہلکان ہو جاتا، ہر قدم کے ساتھ ایک معصوم سی چرچراہٹ سنائی دیتی، گویا برف ہمیں کہہ رہی ہو: "آہستہ چلو، یہ لمحہ ضائع نہ کرو"۔

سرد ہوا گالوں کو چھیڑتی، ناک کو لال کر دیتی اور ہم اپنے آپ کو کسی فلم کے سین میں چلتا پھرتا کردار سمجھنے لگتے، یوں محسوس ہوتا جیسے ہم زمین پر نہیں، ہواؤں میں تیرتے جا رہے ہوں، پوسٹ آفس تو بس ایک بہانہ تھا، اصل دولت وہ چند منٹ تھے جو ہنستے، پھسلتے اور ایک دوسرے کو سنبھالتے گزر جاتے، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ برف نہیں بلکہ خوشی تھی جو آسمان سے آہستہ آہستہ برستی تھی اور ہم خوش قسمت تھے کہ اس میں بھیگ گئے۔

برفباری ہر دوسرے تیسرے دن معمول بن چکی تھی اور سردی ایسی کہ بندہ وضو کے پانی سے بھی استخارہ کرنے لگے، باہر نکلتے تو یوں لگتا جیسے ہوا نہیں، فریزر چل رہا ہو، انہی دنوں مدنی کہیں سے برفیلے ٹھنڈے پانی میں نہانے کا فلسفہ سیکھ کر آیا، بڑے جوش سے فوائد گنوانے لگا: "اس سے قوتِ مدافعت بڑھتی ہے، جسم برف میں رہنے کا عادی ہو جاتا ہے، انسان فولاد بن جاتا ہے!"

میں نے ٹھنڈے پانی کا نام سنا تو میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے جیسے انہوں نے بھی احتجاج کا فیصلہ کر لیا ہو، دل کہہ رہا تھا بھائی قوتِ مدافعت اپنی جگہ، پہلے جان تو سلامت رہے مگر مدنی کی تقریر جاری تھی، لگتا تھا اگلا نوبل انعام اسی دریافت پر ملنے والا ہے۔

آخرکار اس نے آخری وار کیا، استنبول ریسٹورنٹ میں ڈنر کا وعدہ، بس پھر فلسفہ، سائنس اور سردی سب ایک طرف اور کھانے کی محبت ایک طرف، میں فوراً مان گیا، دل نے کہا: "چاہے برفیلے پانی میں قلفی جم جائے، مگر ڈنر ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے"۔ یوں برفیلے پانی کی دہشت اور استنبول کے کھانوں کی لذت نے مل کر وہ دن یادگار بنا دیا، سردی سے کانپتا جسم اور ڈنر کے خیال سے مسکراتا دل۔

ہم دونوں زمینی فلور پر واقع غسل خانے میں پہنچے تو سردیوں کی آزمائش کا امتحانی مرکز محسوس ہوا، جانگیئے پہن کر شاور کے نیچے کھڑے ہوئے، دانت اس زور سے بج رہے تھے کہ اگر موسیقی کا شوق ہوتا تو تال خود بن جاتی، پانی کی ٹونٹی کو گھور رہے تھے، مگر ہاتھ لگانے کی ہمت نہ پڑ رہی تھی، پھر تاریخی مکالمہ شروع ہوا:

"پہلے آپ، پہلے آپ!"

"نہیں نہیں، آپ سینیئر ہیں!"

"ارے نہیں، آپ واجب الاحترام ہیں!"

یوں لگ رہا تھا جیسے ہم نہانے نہیں، ایک دوسرے کو تمغۂ شجاعت دینے آئے ہوں، ٹونٹی بیچ میں کھڑی ہمیں دیکھ رہی تھی، جیسے کہہ رہی ہو: "فیصلہ کرو، میں زیادہ دیر تک معصوم نہیں رہوں گی"۔ آخرکار احترام، سینئرٹی اور شرافت کے تمام ہتھیار ختم ہو گئے اور سردی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہمارے اعصاب پر سوار رہی، یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان سمجھ جاتا ہے کہ بہادری کتابوں میں اچھی لگتی ہے اور عملی زندگی میں، پہلے استنبول ریسٹورنٹ کا ڈنر یاد آتا ہے۔

آخرکار مدنی نے ہمت باندھی، ایک ہاتھ پانی کے نیچے رکھا اور اگلے ہی لمحے ایسے پیچھے کھینچ لیا جیسے نلکے سے نہیں، بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگ گیا ہو، اب باری میری تھی، میں نے بھی تمام تر ہمت جمع کی، ہاتھ آگے بڑھایا اور برفیلا پانی چھوتے ہی فوراً واپس، دل نے کہا تھا آزماؤ، اعصاب نے کہا تھا پاگل نہ بنو۔

پھر باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی، ہم پانی کو جھاکے دینے لگے، ہاتھ آگے، فوراً پیچھے، پھر بازو، پھر ٹانگ، ہر وار کے بعد پسپائی، یوں لگ رہا تھا جیسے ہم نہا نہیں رہے بلکہ دشمن کی طاقت چیک کر رہے ہوں، آخر جب سامنے والا حریف (یعنی برفیلا پانی) کسی صورت قابو میں نہ آیا تو ہم نے آخری حل نکالا: شاور کے نیچے کھڑے ہو گئے۔

چیخیں ایسی نکلیں کہ اگر برف سن سکتی تو شرم کے مارے پگھل جاتی، چند لمحے دشمن کی توپ کے سامنے داد شجاعت دینے کے بعد ایک کی باری ختم، دوسرے کی شروع، نہانا مکمل ہوا یا نہیں، اس پر تاریخ خاموش ہے، البتہ ہم دونوں تولیے لپیٹ کر اس رفتار سے باہر کو بھاگے جیسے قرض خواہ نما خونی دشمن تعاقب میں ہو، بعد میں سمجھ آیا کہ ہم نے نہ صرف نہانا سر انجام دیا تھا بلکہ اپنی بہادری کی آخری حد بھی وہیں آزما لی تھی۔

نہانے کے بعد مدنی نے بڑے اہتمام سے انڈے ابالے جیسے ہم سیاچن مہم سے زندہ واپس آئے ہوں، ساتھ کوفی پلائی، وہ بھی ایسی گرم کہ کپ ہاتھ میں لیتے ہی روح تک حرارت پہنچ گئی، ایک گھونٹ لیتے اور دل ہی دل میں شکر ادا کرتے کہ ابھی زندہ ہیں، انڈا منہ میں گیا تو لگا جیسے قوتِ مدافعت نہیں، ہمتِ مرداں دوبارہ لوٹ آئی ہو۔

ہمیں اس "برفیلے اشنان" کی تبلیغ کا جوش چڑھ گیا، طے پایا کہ یہ نیکی اکیلے کیوں کمائیں؟ باقی دوستوں کو بھی ثواب میں شریک کیا جائے، ایک ایک کرکے سب کو غسل خانے کی زیارت کروائی گئی، جو خوشی خوشی نہاتا، وہ تو خیر بچ گیا اور جو بہانے بناتا، اس کی گردن پکڑ کر سیدھا شاور کے نیچے، چیخوں، قہقہوں اور دعاؤں کا ایسا ملا جلا شور اٹھتا کہ لگتا پورا ہاسٹل کسی روحانی اور جسمانی تطہیر کے عمل سے گزر رہا ہے، آخر میں سب تولیے لپیٹے، کانپتے ہوئے باہر نکلتے، مگر چہروں پر عجیب سی فاتحانہ مسکراہٹ ہوتی تھی، سردی نے جسم تو ہلا دیا تھا، مگر یادیں ایسی بنا گئی تھی کہ آج بھی سوچو تو ہنسی خود بخود نکل آتی ہے اور کوفی کا کپ ہاتھ میں لینے کو دل چاہتا ہے۔

Check Also

Pakistan He Qasoorwar Kyun?

By Muhammad Riaz