Talkh Sachaiyan
تلخ سچائیاں

دنیا کی سیاست میں کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں مان لینا ہی دانشمندی ہے۔ عالمی طاقتوں کے سامنے زیادہ تر ممالک ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مخالفت بھی نہیں کرتے اور مکمل اطاعت بھی نہیں کرتے۔ اسے سفارتی زبان میں "مینج کرنا" کہتے ہیں۔ پاکستان پر ہمیشہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ امریکی کٹھ پُتلی رہا ہے یا امریکا جو چاہتا ہے پاکستان سے منوا لیتا ہے۔ یہ بات تاریخی شواہد کی روشنی میں کافی حد تک ٹھیک ہے لیکن یوں بھی نہیں کہ پاکستان سب کچھ ہی مان لیتا ہے۔ اس کی بھی ایک ریڈ لائن ہے اور اس ریڈ لائن پر آ کر پاکستان کچھ نہیں مانتا۔ مثال کے طور پر دفاعی نظام یا ایٹمی پروگرام۔
جب بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے تو اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ جملہ پاکستان کی ریاستی پالیسی بن جائے گا۔ اس راستے میں کتنے دباؤ آئے، کتنی دھمکیاں آئیں، مگر بالآخر سنہ 1998 میں ایٹمی دھماکے کرکے اس فیصلے کو عملی شکل دے دی گئی۔
یہ وہ کام تھا جس کی قیمت دوسرے ممالک بہت بھاری چکا چکے تھے۔ صدام کا عراق ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش میں برباد ہوگیا، قذافی کا انجام دنیا نے دیکھا اور ایران کو دنیا دیکھ رہی ہے۔ مگر پاکستان نے نہ صرف ایٹمی پروگرام مکمل کیا بلکہ اسے برقرار بھی رکھا اور صرف یہی نہیں بلکہ میزائل پروگرام بھی نہ صرف جاری رکھا بلکہ اسے بڑھاتے چلے گئے ہیں۔ اب تو پاکستان جنگی طیاروں میں دھاک بٹھا رہا ہے۔ جے ایف سیونٹین فضائیہ کا کارنامہ ہے اور یہ سارا سفر آسان نہیں تھا۔
امریکا کے ساتھ تعلقات کی کہانی بھی عجیب ہے۔ ایوب خان امریکا کا اتحادی تھا مگر آخرکار اقتدار سے رخصتی بھی امریکا نے کرائی۔ بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو امریکی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا اور انجام سامنے ہے۔ ضیا کے دور کو پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا سنہری دور کہا جاتا ہے مگر اس کا انجام بھی ایک ایسے پراسرار فضائی حادثے میں ہوا جس کے تانے بانے امریکا سے ملتے ہیں۔ نوازشریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے عوض کلنٹن نے مالی مدد کی پیشکش کی، پھر دباؤ ڈالا مگر پاکستان نے مسترد کیا۔ پھر نواز شریف کے ساتھ جو ہوا وہ سامنے ہے۔ پھر آیا مشرف جسے واشنگٹن کا سب سے چہیتا کہا جاتا تھا۔ مگر جب اسے اقتدار سے ہٹانے کی باری آئی تو الزام یہ لگا کہ پاکستان "ڈبل گیم" کھیل رہا ہے۔ بینظیر نے میزائل پروگرام کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ شمالی کوریا سے ٹیکنالوجی کے معاملات ہوں یا دفاعی تعاون، بینظیر کو بھی اس کی سیاسی قیمت چکانا پڑی۔ بینظیر پر امریکا نے یہی تو الزام لگایا تھا اور بینظیر کو کیا کچھ نہیں جھیلنا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جن حکمرانوں کا ذکر ہوا ہے ان سب نے مشکل فیصلوں کا خمیازہ بھگتا۔ ان کے ذاتی اور سیاسی بلنڈرز اپنی جگہ، مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان سب نے کسی نہ کسی صورت پاکستان کے دفاعی پروگرام کو تحفظ دیا۔ ہمیں ایک طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بھی رکھنے ہیں اور دوسری طرف اپنے مفادات کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ کبھی یہ توازن کامیاب ہو جاتا ہے اور کبھی اس کی قیمت پابندیوں اور دباؤ کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ مگر جب معاملہ کسی بنیادی مفاد تک پہنچ جائے تو پاکستان وہی کرتا ہے جو اسے اپنے حق میں بہتر لگتا ہے۔ امریکا کو انکار بھی کیا ہے اور اس کا خمیازہ بھی بھگتا ہے۔ یونہی ہنستے کھیلتے "یس سر، یس سر" کہتے ہوئے پاکستان یہاں تک نہیں پہنچا۔
پاکستان میں آج کی نسل پراپیگنڈا وار کا شکار ہے۔ اصل مسئلہ آج کی نسل کے ساتھ یہ ہے کہ وہ صرف آدھی کہانی سنتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں نظام حکومت بدتر ہے، جی ایچ کیو اصل طاقت کا مرکز ہے، نظام نے عوام کو ڈلیور نہیں کیا، الیکٹورل سسٹم اغوا شدہ ہے، ہزار ہا مسائل ہیں جن میں غربت، بیروزگاری، طبی سہولیات کا فقدان وغیرہ وغیرہ وغیرہ سب شامل ہیں۔ بھوک افلاس ہے۔ طبقاتی خلیج بہت گہری اور وسیع ہے۔ آج کی نسل کو تلخ حقیقتوں سے آشنا تو کرایا جاتا ہے مگر نئی نسل کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر جو کچھ حاصل کیا ہے اسی کی بدولت آج بھی ہم ایک حد تک محفوظ ہیں۔۔
دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کے پاس دولت کی کمی نہیں مگر وہ دفاعی اعتبار سے کسی نہ کسی عالمی طاقت کے محتاج ہیں اور اسے عملاً پروٹیکشن منی دینے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی معیشت کمزور سہی، مگر عالمی سٹیج پر اس کا ایک مقام ضرور ہے۔ کئی علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان نہ صرف سفارتکاری کرتا ہے بلکہ اکثر اوقات بڑی طاقتوں کی درخواست پر کردار بھی ادا کرتا ہے۔ یہ پاکستان کا وہ رخ ہے جس سے نئی نسل کو متعارف کرانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بدحال پاکستان کی تصویر دکھانا۔
پاکستان خوشحال نہیں مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی اسٹیج پر اس کا وزن موجود ہے اور یہ وزن یونہی نہیں آیا۔ اس کے پیچھے دہائیوں کے مشکل فیصلے، دباؤ، پابندیاں اور قربانیاں ہیں۔ اس لیے پاکستان کی کہانی صرف ناکامیوں کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسی ریاست کی کہانی بھی ہے جو کئی بار دباؤ میں آئی، کئی بار دباؤ برداشت نہ کر پائی اور عالمی طاقت کے سامنے جھک گئی مگر اپنی ریڈ لائن پر کھڑی بھی رہی۔

