Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Aisi Ibadat Ka Kya Faida?

Aisi Ibadat Ka Kya Faida?

ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟

رمضان المبارک کی بابرکت راتیں جب آتی ہیں تو مساجد آباد ہو جاتی ہیں، گھروں میں جائے نماز بچھ جاتی ہیں، تسبیح کے دانے چلنے لگتے ہیں اور لوگ راتوں کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور آنے والی زندگی کے لیے بھلائی کی دعائیں کرتا ہے۔

لیکن ایک سوال ہمیں خود سے ضرور پوچھنا چاہیے: کیا ہماری عبادتیں واقعی ہمارے کردار کو بھی بہتر بنا رہی ہیں؟

اسلام میں عبادت صرف نماز، روزہ یا تسبیح تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد انسان کے اندر عاجزی، نرمی اور دوسروں کے لیے خیر خواہی پیدا کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص ساری رات عبادت کرے، آنکھوں میں آنسو لے کر دعائیں مانگے، لیکن جیسے ہی جائے نماز سے اٹھے تو لوگوں کی چغلیاں کرنے لگے، کسی کی دل آزاری کرے، کسی کی عزت کو ٹھیس پہنچائے یا تلخ زبان استعمال کرے تو کیا ایسی عبادت پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟

عبادت کا اصل اثر انسان کے مزاج اور رویے میں نظر آنا چاہیے۔

اگر نماز پڑھنے کے باوجود انسان کے دل میں سختی باقی رہے، زبان سے کڑوے جملے نکلتے رہیں اور دوسروں کے لیے دل میں نرمی پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنی عبادت کے طریقے اور اپنے دل کی کیفیت پر غور کرنا چاہیے۔

نماز کا مقصد یہی ہے کہ وہ انسان کو برائیوں سے روکے اور اس کے اخلاق کو بہتر بنائے۔ اگر ہماری نماز ہمیں دل کون نرم، صبر و تحمل نہیں آ رہا۔ انسان خود کے لیے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا۔ تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم عبادت کی روح سے تو دور نہیں ہو گئے؟

نبی کریم ﷺ نے بھی انسانوں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور فائدہ پہنچانے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو"۔ (المعجم الاوسط للطبرانی)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بہترین مسلمان وہ نہیں جو صرف اپنی عبادت میں مشغول رہے بلکہ وہ ہے جس کی موجودگی سے دوسروں کو سکون اور فائدہ پہنچے۔

آج کی ان بابرکت راتوں میں ہمیں صرف عبادت ہی نہیں بلکہ اپنے دلوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ہم واقعی اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبان کو نرم کرنا ہوگا، دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا ہوگا اور انسانیت کے لیے آسانی کا سبب بننا ہوگا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اے اللہ! ہمارے دلوں کو پاک فرما، ہماری عبادتوں میں اخلاص عطا فرما، ہمیں دوسروں کے لیے آسانی اور بھلائی کا ذریعہ بنا دے، ہماری زبانوں کو کسی کی دل آزاری سے محفوظ رکھ اور ہمیں ایسا مسلمان بنا دے جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے۔

رمضان کا مہینہ صرف عبادت کا مہینہ نہیں ہوتا یہ خودی کی تربیت اور اپنے دل کا جائزہ لینے کا بھی مہینہ ہے۔ تو اس میں لوگوں کو پیسوں راشن اور کپڑے دینے کے ساتھ ساتھ اچھے جملے اچھی یادیں کے ساتھ ساتھ ایک یادگار اور ایک مثالی رمضان بنائیں۔ یاد رکھیں ہم مسافر ہیں اور ہماری منزل قبر ہے اور اس میں ہمارے اخلاق اللہ پر یقین اور انسانیت پر کیا گیا کام ہی ہمارے لیے اسانی کا باعث بنے گا۔ اللہ تعالی اس رمضان ہمیں ہماری ہی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایسی تربیت کرنے کی توفیق دے جس سے ہم انسان ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بن جائیں۔

Check Also

Iran Jang: Chand Aham Pehlu

By Amir Khakwani