Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Aik Kahani

Aik Kahani

ایک کہانی

آئیے میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سُناؤں۔ ریاست کا نام ہے انڈیانا اور شہر کا نام ہے فشرز۔ ملک تو ظاہر ہی ہے۔ اس وقت دوپہر ہونے والی ہے اور بہت سوں نے جانور قربان کر دئیے ہیں۔ جانوروں کے باڑے میں کام کرنے والے نوجوان کا تعلق ایشیا سے ہے۔ روشن آنکھیں اور دمکتا ہوا چہرہ اور اس کے ساتھ ساتھ نرم زبان اور تمیز دار۔ قربانی کے جانور امریکہ میں بھی مہنگے ہی ہیں لیکن میری موجودگی میں اس نوجوان نے اپنے سیل فون پر جو جواب دیا وہ آپ بھی جان لیجئیے۔ دوسری جانب کوئی صاحب تھے جو قربانی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن بظاہر استطاعت سے محروم تھے۔ اس روشن ضمیر نوجوان نے کہا کہ آپ آ جائیے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ صرف دو سو ڈالر یعنی کم و بیش چھپن ہزار روپے دے سکتے ہیں اور ویسے تو ہم اتنی رقم گوشت کاٹنے اور بنانے کے لیتے ہیں لیکن آپ وہ بھی چھوڑ دیجیئے۔ یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس نوجوان کے روشن چہرے کی خوبصورتی اس کے اعمال سے عبارت تھی۔ نہ غیرضروری تقریر جس میں ان صاحب پر قربانی فرض نہ ہونے کی نصیحت کی گئی اور نہ ہی سنت اور فرض میں فرق بتایا گیا۔ ایک سنجیدہ اور متین گفتگو جس میں اعلیٰ ترین اخلاقیات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوے تھے۔

ہم شینن ڈووا میں رہتے تھے اور اسکول میں گرینڈ پئیرنٹس ڈے آیا۔ نانا نانی اور دادا دادی تو ویسے بھی پوتوں نواسوں پر جان چھڑکتے ہیں اور امریکہ میں بھی ایسے وقتوں میں اسکول رشتہ داروں سے بھرا ہوتا ہے۔ امریکی اوسط عمر ویسے بھی 79 سال تک ہے۔ فیضان بہت چھوٹا تھا اور ایک جانب ہٹ کر کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ تصویر بنانے کیلئے کوئی نہیں تھا۔ ایک دمکتے دل کی بوڑھی خاتون آگے بڑھیں، اپنے خاندان کو کچھ اکٹھا کیا اور فیضان کے ساتھ تصویر بنوائی۔ اُن خاتون کو تو وہ لمحہ یاد بھی نہیں ہوگا لیکن ہم سب اس نیک دل خاتون کے مقروض ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی نسلیں نرم دل ہی ہوں گی۔

میرے بڑے بیٹے کا نوجوان کلاس فیلو بالکل جواں عمری میں ایک کار ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا اور اس کی ماں اسی اسکول یا کالج میں ملازمہ تھیں۔ واحد اولاد تھا اور انہوں نے ہی اس کو پالا تھا۔ جب بھی اپنے بچے کے کلاس فیلو کو دیکھتیں تو رو پڑتیں۔ اسکول نے ان کے ساتھ اچھائی کی اور ان کو کسی اور جگہ زندگی کے آغاز کا موقع دیا۔ شاید میں نے بھی کہیں اپنے بچوں کو اس خاتون سے نرم دلی کا سبق دیا ہو۔

اچھائی بتا کر، تیار کرکے اور دروازے پر دستک دے کر نہیں آتی۔ یہ تو ایک رویہ ہے جو آپ دل پر اپنی سوچوں سے لکھتے ہیں۔ کرکٹ میچ میں بس سلپ کے ایک کیچ کی طرح، گیند تھامنے اور پکڑنے کو بس ایک ہی لمحہ ملتا ہے

"Keep some room in your heart for the unimaginable. " Mary Oliver

ایک دن ڈاکٹر ولسن اور میں بیٹھے بات چیت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر ولسن کہنے لگے کہ تمہاری کیا خواہش ہے۔ میں نے اپنی دو یا تین دلی خواہشیں بیان کر ڈالیں اور ان میں سے ایک خواہش سائیکائٹری اور نیورالوجی دونوں کے بورڈ پاس کرنے کی تھی۔ ڈاکٹر ولسن نے ڈاکٹر برٹونی کو جو نیورالوجی کے سربراہ شعبہ (ڈیپارٹمنٹ ہیڈ) تھے، ان کو پیغام بھیجا اور دونوں نے چند ہی دنوں میں کاغذات تیار کرکے آگے بھجوا ڈالے۔

اماں مرحومہ ہمارے گھر کے پچھلے حصے میں تھیں اور ایک کریانے والے کی ناخوشی کا علم ہوا جو ایک مشکل حالات سے گزرتی ہوئی خاتون سے اپنی رقم کا تقاضہ کر رہا تھا۔ اماں مرحومہ نے بغیر کسی کو بتائے اس کی رقم ادا کر ڈالی۔ مجھے کسی اور ذریعہ سے علم ہوا لیکن میں جانتا تھا کہ ایسے بہت سی مثالیں ان کی زندگی کا ہمیشہ حصہ رہیں اور ہمیں بھی ہمیشہ یہی سبق دیا کہ بہتری کیلئے بہترین وقت کی ضرورت نہیں ہوتی

ایک عربی کہاوت ہے کہ

لا يعجز القوم إذا تعاونوا

جب قوم میں باہم تعاون ہو تو وہ عاجز نہیں ‌ رہتی

آج یہ نہ دیکھیں کہ لوگوں نے آپ کے ساتھ کیا کیا بلکہ یہ دیکھیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ آج یا کل، کل یا پھر پرسوں، اس کے بعد دیر ہو جاتی ہے۔ زندگی میں بہت مرتبہ جب ان ہونی دیکھتے ہیں تو بعض اوقات وہ ان ہونی نہیں ہوتی بلکہ ایسی اچھائی کے اس سر سبز پودے کا پھل ہوتا ہے جو آپ یا آپ کے والدین کے ہاتھوں کاشت ہوتا ہے۔ بس پھل آنے میں دیر لگتی ہے۔ اگر قربانی کر ہی ڈالی ہے تو ہمت کیجئیے اور وہاں جائیں جہاں پہلے نہیں گئے۔ اچھی غذا سب کی ہی دل پسند ہوتی ہے بس ہر شخص استطاعت نہیں رکھتا اور ہر ایک کے ہمسائے میں صاحب حیثیت لوگ بھی نہیں رہتے

Check Also

Dua, Taqdeer Aur Mehnat: Kamyabi Ka Asal Rasta

By Ahtasham Ul Haq