Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Afshan Saher
  4. Mohabbaton Ka Safeer, Ghazal Ka Saleeqa: Bashir Bader

Mohabbaton Ka Safeer, Ghazal Ka Saleeqa: Bashir Bader

محبتوں کا سفیر، غزل کا سلیقہ: بشیر بدر

اردو غزل کی تاریخ روایات کی پاسداری اور تجربات کی بوقلمونی سے عبارت ہے۔ میر و غالب کی زمینوں سے لے کر ناصر کاظمی اور فراق گورکھپوری کے عہد تک، غزل نے ہر دور کی فکری و حسیاتی تبدیلیوں کو اپنے اندر سمویا ہے۔ جب بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں غزل اپنی روایتی علامات اور بوجھل کلاسیکی تراکیب کے بوجھ تلے دبی جا رہی تھی اور دوسری طرف جدیدیت کے نام پر ابہام و نامانوس لفظیات کا غلبہ ہو رہا تھا، ایسے میں ایک ایسا لہجہ ابھرا جس نے غزل کو مٹی کی خوشبو، روزمرہ کی گفتگو اور احساس کی معصومیت عطا کی۔ یہ لہجہ ڈاکٹر بشیر بدر کا تھا۔ بشیر بدر نے غزل کو خواص کے درباروں اور خانقاہوں سے نکال کر عام انسان کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ ان کی شاعری غزل کا وہ سلیقہ ہے جو دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے اور ان کی فکر محبت کا وہ پیغام ہے جو نفرتوں کے تپتے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔

بشر بدر کے فن کا سب سے بڑا سلیقہ ان کا انتخابِ الفاظ اور اسلوبِ بیاں ہے۔ انہوں نے غزل کے روایتی، فارسی زدہ اور ثقیل ڈکشن سے انحراف کیا اور اس سہلِ ممتنع، کو اپنایا جسے اردو شاعری میں میر تقی میر کے بعد سب سے کٹھن فن مانا گیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ اکھڑے ہوئے یا اجنبی محسوس نہیں ہوتے، بلکہ یوں لگتا ہے جیسے وہ صدیوں سے اسی شعر کا حصہ بننے کے منتظر تھے۔ بشیر بدر کا کمال یہ ہے کہ وہ روزمرہ کی بول چال کے عام الفاظ کو اپنے شعری لمس سے اس طرح کندن بنا دیتے ہیں کہ ان کا ابلاغ قاری کے دل پر سیدھا وار کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں استعارے اور تشبیہات دور از کار نہیں ہوتیں، بلکہ ہمارے اردگرد کے ماحول، گھر، آنگن، چائے کی پیالی، تکیے، کتابوں اور دھوپ چھاؤں سے جنم لیتی ہیں۔ غزل کا یہ سلیقہ جدید اردو شاعری میں نایاب ہے جہاں فن کار اپنے فن کا مظاہرہ مشکل پسندی کے بجائے انتہائی سادگی سے کرتا ہے

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

بشیر بدر کی شاعری کا خمیر محبت، رواداری اور انسانی ہمدردی سے اٹھا ہے۔ انہیں اگر "محبتوں کا سفیر" کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا پورا فکری نظام نفرت کے متبادل کے طور پر صرف اور صرف محبت کی وکالت کرتا ہے۔ معاصر دنیا کی مادی دوڑ، فرقہ وارانہ کشیدگی اور انسانی رشتوں کی پامالی کے خلاف ان کا قلم ہمیشہ امن اور یگانگت کا نغمہ سرا رہا۔

ان کی محبت محض روایتی ہجر و وصال کی داستان نہیں، بلکہ ایک وسیع تر آفاقی جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ میرٹھی کی مٹی سے جنم لینے والے اس شاعر نے جب فسادات کی آگ میں اپنا گھر اور عمر بھر کا اثاثہ (کتابیں اور مسودات) جلتے دیکھے، تب بھی ان کے قلم نے نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیا، بلکہ وہ درد مندی اور مصلحت پسندانہ دھیمے پن کے ساتھ سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہے۔ وہ دشمنی کے ماحول میں بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

جدید انسان کا سب سے بڑا المیہ اس کی داخلی تنہائی اور رشتوں کا کھوکھلا پن ہے۔ بشیر بدر نے اس عصری نفسیات کو بہت گہرائی سے محسوس کیا اور اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ان کی شاعری میں ایک ایسے فرد کا کرب جھلکتا ہے جو بھیڑ میں بھی اکیلا ہے، جس کے خواب ٹوٹ چکے ہیں مگر وہ جینے کی تمنا سے محروم نہیں ہوا ہے۔

ان کے ہاں رومانوی اداسی کی ایک دھیمی آنچ ہے جو قاری کو رلاتی نہیں بلکہ ایک صوفیانہ سکون اور سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ گھر کی چہار دیواری، اکیلا کمرہ اور ماضی کی یادیں ان کے تخلیقی کینوس کے بنیادی رنگ ہیں۔ وہ جدید شہری زندگی کے میکانکی پن پر طنز کرتے ہوئے رشتوں کی نزاکت کو بڑے سلیقے سے آشکار کرتے ہیں

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اور اسی تنہائی کا ایک اور رنگ ملاحظہ ہو جہاں وہ انسان کی بے بسی کو غزل کا حسن بنا دیتے ہیں

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

بشیر بدر کی غزلیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، بلکہ وہ ایک گنگناہٹ کی صورت سماعتوں میں رس گھولتی ہیں۔ ان کی بحور کا انتخاب، الفاظ کی صوتی ترتیب اور قافیہ و ردیف کا دروبست ایسا ہے کہ ہر شعر خودبخود ایک نغمے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مشاعروں کے پلیٹ فارم پر بھی ایک طویل عرصے تک راج کیا اور جب ان کی غزلیں مختلف گلوکاروں کی آوازوں میں ڈھلیں تو وہ عوام و خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئیں۔ ان کے اسلوب کا یہ صوتی سلیقہ اوزان کی سخت گرفت میں ہونے کے باوجود بحر کے بہاؤ کو ریشم کی طرح نرم رکھتا ہے۔ غزل کا یہی وہ نغماتی گن ہے جو سننے والے کو فوراََ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے

جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بشیر بدر کا شمار ان مابعد جدید اسالیب کے معماروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ترقی پسند تحریک کی حد سے بڑھی ہوئی اجتماعیت اور نعرہ بازی اور جدیدیت کی حد سے بڑھی ہوئی انفرادیت و ابہام کے درمیان ایک متوازن، جمالیاتی اور عوامی راستہ تلاش کیا۔ انہوں نے ادب کو کسی سیاسی نظریے کا پابند نہیں بنایا، بلکہ انسانی مٹی اور سچائی کو ہی اپنا نظریہ قرار دیا۔ بعض ناقدین نے ان پر یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ ان کی شاعری کا دائرہ اثر حد سے زیادہ نرم اور رومانوی ہے جس میں کڑک دار انقلابی لہجہ مفقود ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کام بڑی بڑی انقلابی نظمیں نہ کر سکیں، وہ بشیر بدر کے دو مصرعوں نے کر دکھایا۔ انہوں نے جبر اور ناانصافی کے خلاف دھیمے لہجے میں جو احتجاج درج کرایا، اس کی گونج زیادہ گہری اور دیرپا ثابت ہوئی۔ ان کا احتجاج جارحانہ نہیں بلکہ حکیمانہ اور مصلحانہ ہے

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
اتنا مت چاہو اسے، وہ بے وفا ہو جائے گا

ڈاکٹر بشیر بدر اردو غزل کی اقلیم کے وہ تاجدار ہیں جنہوں نے سادگی کو حسن، دھیمے پن کو طاقت اور محبت کو اپنا منشور بنایا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے، رشتوں کو نبھانے اور تلخ ترین حالات میں بھی مسکرانے کا ایک مکمل سلیقہ ہے۔ انہوں نے غزل کے روایتی مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔

آج جب کہ اردو دنیا ان کے شعری سرمائے کا جائزہ لیتی ہے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ وہ اپنے منفرد اسلوب، آفاقی انسانی دوستی اور غزل کے اچھوتے رکھ رکھاؤ کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کا ہر شعر گواہی دیتا ہے کہ جب تک دنیا میں محبت باقی ہے، محبتوں کے اس سفیر کا نام اردو ادب کے ماتھے کا جھومر بنا رہے گا۔

Check Also

Aik Kahani

By Sarfraz Saeed Khan