Aik Din Pakistani Ka Sath
ایک پاکستانی کا ساتھ

ہمارا یہ سفر اردو کے سفر سے لے کر انگریزی کے (suffer) تک کی رعنائیوں سے بھرپور ہوگا۔ پاکستانی کا ہر ایک گزرتا دن جیت کی مانند ہوتا ہے۔ ہر نیا دن پاکستانی کو گزرے دنوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے پر مجبور کرتا ہے۔ کیوں؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں جواب کے ساتھ محفوظ ہے۔
پاکستانی جس کی صبح رب سے ڈر، استغفار اور سر تسلیم خم سے ہوتی ہے۔ جو دن کی مشکلات جھیلنے میں بھرپور مدد کرتی ہیں۔ پھر ناشتے کی ٹیبل اپنی سختیاں لیے پاکستانی کی زندگی میں چار چاند لگانے کو تیار ہوتی ہے۔ بیوی بچوں سے نظریں بچائے چند لقموں کی غرض سے بیٹھا پاکستانی، کچھ نئے سوالات کا انتظار کرتا ہے۔ جب سوالات کی بوچھاڑ تیاری سے سخت معلوم ہوتی ہے۔ تو ایک نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔ سرکار و نصیحت کے لیے چند تعریفی کلمات کہے جاتے ہیں۔ بلآخر جھگڑے کی صورت میں ناشتے کا اختتام ہوتا ہے۔ کرسی کو ایک زوردار ٹھوکر اور پاکستانی نصیحت میں لکھے کچھ ہزار کمانے کے لیے نکل جاتا ہے۔ جیب کی سنسانی سے ستایا، ہزاروں خیالات، لاکھوں کوششوں کی نیت لیے پاکستانی سفر کے نظارے لیتا جاتا ہے۔ جہاں خوشحال سڑکیں، موسمی سختیاں اور ایک جیسے نصیحت لیے لوگوں کی کہانیاں سفر کا لطف دوبالا کر رہی ہوتی ہیں۔ پھر جیسے ہی سفر ختم ہوتا ہے، (جو عام طور پر منزل کے آنے کی خوشیوں سے بھرپور ہوتا ہے) وہ پاکستانی کے یہاں جھرکوں سے بھرپور پیکر بن جاتا ہے۔
کام اپنی برداشت سے زیادہ، بوس کی امیدیں آسمانوں ہر، پاکستانی کی چیخیں ساتوں آسمانوں سے پار۔ گرمیاں تو صبر و برداشت سے بڑھ کر حساب لیتی ہیں۔ سردیاں بھی پھولوں کی مانند معلوم نہیں ہوتیں۔ ہر موسم، ہر گزرتا لمحہ، ہر آتی جاتی سانس پاکستانی کو نیچوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
اب شام کا وہ وقت جو دیہاڑی اور چھٹی کی نصرتوں سے بھرپور ہوتا ہے ان پہنچتا ہے۔ سارے دن کی تھکن سے چور۔ تکالیف سے مجبور۔ خواہشات کے بوجھ تلے آیا پاکستانی چند راحت کی سانسیں لیتا ہی ہے کہ خاندان کا (خیال) پھر سے جیب کی طرف راغب کردیتا ہے۔ سوال ہوتا ہے دیکھ اپنا نصیب۔ کیا کمایا ہے، کیا کھایا ہے؟ اور یوں سوالات دوبارہ پاکستانی کا امتحان لینے پہنچ جاتے ہیں۔
ابھی یہ غم کم نہیں ہو اور گھر جانے کا ڈر۔ روٹی، پانی، نمک، مرچ، دیگر بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ بچوں کی فرمائشیں۔ چیب کو اسی بوسیدہ حالت میں لے جاتی ہیں۔ جہاں سے اس سنہری سفر کا آغاز ہوا تھا۔ پاکستانی کے پاس صرف صبر کا دامن باقی رہ جاتا ہے۔ اب مبارک ہو پاکستانی کو، وہ بلاآخر اپنے اہل و عیال سے جا ملتا ہے۔ سودا سلف ہوالے کرنے کے بعد۔ رزق کی خواہش لیے، چار پائی پر لیٹ کر خواب غفلت کے مزے لے ہی رہا ہوتا ہے کہ ایک دم چھوٹا بیٹا، بڑی بیٹی اور پہلی اولاد اٹکیلیاں شروع کر دیتے ہیں۔ جن کا شور الارم کی مانند پاکستانی کو پھر سے چوکنا کردیا ہے۔ ان حالات میں سونے پر سہاگا کا کام بیغم (بیگم) کی خواہش کا پورا نہ ہونا کرتا ہے۔ نیز چند لقمیں حلق سے اتارتے ہی، پاکستانی اپنے کامیاب دن کو سمیٹ دیتا ہے اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔
کیا یہ پاکستانی پر گزرے والی ایک دن کی داستاں ہے یا ہر روز کا کھیل؟

