Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Insan Ka Dakhli Bohran

Insan Ka Dakhli Bohran

انسان کا داخلی بحران

ترقی ہمیشہ تہذیب کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تہذیبیں اپنی ظاہری چمک، سائنسی ترقی، بلند عمارتوں اور تکنیکی سہولتوں کے باوجود اندر سے شکستہ اور کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے ترقی یافتہ دور میں زندہ ہے۔ اس کے پاس معلومات کی فراوانی ہے، جدید ٹیکنالوجی ہے، مصنوعی ذہانت ہے، عالمی رابطے ہیں، مگر اس تمام ترقی کے باوجود اس کے باطن میں ایک عجیب قسم کی بے چینی، تنہائی اور ویرانی جنم لے چکی ہے۔ انسان نے دنیا کو فتح کر لیا مگر اپنے دل کو ہار بیٹھا۔

علامہ اقبال نے برسوں پہلے اسی تہذیبی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:

اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک

نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

یہ شعر صرف دو مصرعے نہیں بلکہ پورے عہد کا فکری مرثیہ ہے۔ اقبال نے مدرسہ اور خانقاہ دونوں کے زوال پر افسوس کیا، کیونکہ یہ وہ ادارے تھے جہاں کبھی علم، شعور، روحانیت اور انسانیت کی روشنی پیدا ہوتی تھی۔ مگر جب علم اپنی روح کھو دے، عبادت محض رسم بن جائے اور روحانیت عمل سے جدا ہو جائے تو معاشرے میں داخلی زوال جنم لینے لگتا ہے۔

آج کا انسان بظاہر مصروف ہے مگر حقیقت میں اپنے وجود سے فرار اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کی زندگی مسلسل شور، دوڑ اور مصروفیات سے بھری ہوئی ہے، مگر اس کے اندر سکون ناپید ہے۔ جدید تہذیب نے انسان کو سہولتیں تو بہت دیں مگر قلبی اطمینان چھین لیا۔ سوشل میڈیا نے رابطے تو بڑھا دیے مگر رشتوں کی گہرائی کم کر دی۔ لوگ ہزاروں افراد سے جڑے ہوئے ہیں مگر اپنے ہی دل سے کٹ چکے ہیں۔

تعلیمی ادارے بھی اس بحران کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیاں اور کالج بظاہر علم کے عظیم مراکز دکھائی دیتے ہیں، مگر اکثر جگہوں پر تعلیم کا مقصد صرف ملازمت، دولت اور معاشی کامیابی رہ گیا ہے۔ طالبِ علم معلومات تو حاصل کر لیتا ہے مگر حکمت اور بصیرت سے محروم رہتا ہے۔ اس کے ذہن میں نظریات بھر دیے جاتے ہیں مگر اس کے باطن کو بیدار نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً نوجوان ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے مگر زندگی کی معنویت سے ناآشنا رہتا ہے۔

اسی طرح مذہبی اور روحانی حلقوں میں بھی جمود پیدا ہو چکا ہے۔ دین جو کبھی محبت، رواداری اور فکری بیداری کا پیغام تھا، بہت سی جگہوں پر محض ظاہری رسوم تک محدود ہوگیا ہے۔ سوال کرنے والے ذہن کو خاموش کر دیا جاتا ہے اور اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ خانقاہیں جو کبھی انسان دوستی اور روحانی تربیت کا مرکز تھیں، کئی جگہوں پر رسمی عقیدت اور شخصیت پرستی کا مظہر بن چکی ہیں۔

دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان نے ترقی کی رفتار تو تیز کر لی مگر اپنی روح کو پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ مشینوں سے گفتگو کر سکتا ہے مگر اپنے دل کی آواز نہیں سن پاتا۔ اس کے پاس دنیا بھر کی خبریں ہیں مگر اپنے باطن کی خبر نہیں۔ یہی داخلی خلا جدید انسان کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔

سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کو خوبصورت دکھانے کی کوشش میں مصروف ہے، مگر اندر سے بے سکونی، احساسِ کمتری اور ذہنی اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل مسلسل تقابل کی کیفیت میں زندگی گزار رہی ہے۔ کامیابی کا معیار اب کردار، علم اور انسانیت نہیں بلکہ شہرت، دولت اور ظاہری نمائش بن چکا ہے۔

محبت بھی اپنی اصل روح کھوتی جا رہی ہے۔ خلوص، ایثار اور وفاداری کی جگہ مفاد اور وقتی وابستگی نے لے لی ہے۔ رشتے سطحی ہو گئے ہیں اور انسان اندر سے تنہائی کا شکار ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وہ بحران ہے جس کی طرف اقبال نے "نہ محبت" کہہ کر اشارہ کیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ تہذیبوں کا سب سے خطرناک زوال وہ ہوتا ہے جب وہ اپنی روح کھو بیٹھیں۔ جب تعلیم انسان سازی کے بجائے صرف روزگار کا ذریعہ بن جائے، جب مذہب محبت کے بجائے نفرت پیدا کرے اور جب روحانیت عمل کے بجائے فرار سکھانے لگے تو معاشرے بظاہر زندہ مگر حقیقت میں مردہ ہو جاتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تہذیبی بنیادوں کی طرف رجوع کریں۔ تعلیم کو صرف معاشی کامیابی نہیں بلکہ شعور، اخلاق اور انسانیت سے جوڑا جائے۔ نوجوان نسل کے اندر سوال کرنے، سوچنے اور حقیقت تلاش کرنے کی جرات پیدا کی جائے۔ مذہبی اور روحانی اداروں کو محبت، رواداری، برداشت اور خدمتِ انسانیت کا پیغام عام کرنا ہوگا۔

حقیقی ترقی صرف مشینوں، عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں آتی بلکہ انسان کے باطن کی روشنی سے جنم لیتی ہے۔

Check Also

Akhir Naya Budget Kya Relief Laya Hai?

By Arbaz Raza Bhutta