Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Complex Ka Shikar Muashra Aur Taleem Yafta Aurat

Complex Ka Shikar Muashra Aur Taleem Yafta Aurat

کمپلیس کا شکار معاشرہ اور تعلیم یافتہ عورت

قلم جب عورت کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں لکھتی، بلکہ نسلوں کی تقدیر رقم کرتی ہے۔ تعلیم عورت کو محض ڈگری نہیں دیتی بلکہ شعور، اعتماد، شناخت اور اپنے وجود کا ادراک عطا کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ آج بھی تعلیم یافتہ عورت کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پڑھی لکھی، باصلاحیت اور خود اعتماد عورت کو اکثر تنقید، مخالفت، کردار کشی اور بعض اوقات تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اصل مسئلہ عورت کی تعلیم نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ ہے جو عورت کو محدود دائروں میں قید دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے۔ یہ ذہنیت عورت کو اس وقت تک قبول کرتی ہے جب تک وہ خاموش رہے، سوال نہ کرے اور اپنی رائے کا اظہار نہ کرے۔ لیکن جیسے ہی تعلیم اس کے اندر شعور، خوداعتمادی اور فکری آزادی پیدا کرتی ہے، بعض لوگ اسے اپنی روایتی بالادستی کے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔

تعلیم یافتہ عورت سے خوف اس بات کا نہیں کہ وہ پڑھی لکھی ہے، بلکہ اس بات کا ہے کہ وہ سوچتی ہے۔ وہ دلیل دیتی ہے، انصاف کا مطالبہ کرتی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں شریک ہونا چاہتی ہے۔ حالانکہ یہ رویہ بغاوت نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ عورت کی تعلیم کو تو سراہا جاتا ہے، مگر اس کی رائے کو نہیں۔ اسے ڈگری حاصل کرنے کی اجازت تو مل جاتی ہے، لیکن جب وہ اپنی قابلیت اور فہم کا اظہار کرے تو اسے ضدی، مغرور یا حد سے زیادہ خودمختار قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا معاشرہ تعلیم تو قبول کر لیتا ہے مگر اس تعلیم کے نتائج قبول کرنے سے گریز کرتا ہے۔

اسی ذہنیت کا ایک خطرناک پہلو وہ تشدد ہے جو مختلف شکلوں میں عورتوں پر مسلط کیا جاتا ہے۔ کبھی ان کی تعلیم روک دی جاتی ہے، کبھی ملازمت پر اعتراض کیا جاتا ہے، کبھی ان کی کامیابی کو حسد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کبھی ان کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ بھی ہمیں اسی تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی واقعے کے محرکات کا تعین تحقیقات اور عدالتوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے، مگر ایسے واقعات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک تعلیم یافتہ، کامیاب اور باوقار عورت بعض ذہنوں کے لیے ناقابلِ برداشت کیوں بن جاتی ہے؟

تیزاب صرف چہرے کو نہیں جلاتا، یہ خوابوں، امیدوں اور برسوں کی محنت کو بھی زخمی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ علم کی روشنی کو نفرت کی تاریکی کبھی مستقل طور پر شکست نہیں دے سکی۔

میں اکثر کہتی ہوں، بلکہ اپنی ایک کتاب کا انتساب بھی اسی فکرکے نام کیا ہے کہ: "عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی سمجھنے سے پہلے ایک انسان سمجھیں، کیونکہ انسانیت تمام رشتوں سے پہلے آتی ہے"۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت اکثر اس کے کسی رشتے سے وابستہ کرکے دیکھی جاتی ہے۔ اسے اس لیے احترام دیا جاتا ہے کہ وہ کسی کی ماں ہے، کسی کی بیٹی ہے یا کسی کی بہن ہے۔ حالانکہ اس کا سب سے پہلا اور بنیادی تعارف اس کی انسانیت ہے۔ وہ ایک مکمل انسان ہے، جس کے احساسات، خواب، حقوق، صلاحیتیں اور عزتِ نفس ہیں۔ اگر ہم عورت کو صرف رشتوں کے آئینے میں دیکھنے کے بجائے ایک خودمختار انسان کے طور پر تسلیم کر لیں تو شاید بہت سی ناانصافیاں، امتیازات اور تعصبات خود بخود ختم ہو جائیں۔

ایک معروف قول ہے:

"If you educate a man, you educate an individual. But if you educate a woman, you educate a nation. "

پاکستان کی بیٹی اور نوبل انعام یافتہ نے کہا تھا:

"We cannot all succeed when half of us are held back. "

ایک مفکرکے الفاظ میں:

"Education is the most powerful weapon which you can use to change the world. "

تعلیم یافتہ عورت گھر توڑنے نہیں بلکہ گھر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ ایک بہتر ماں، بہتر معلمہ، بہتر ڈاکٹر، بہتر محقق اور بہتر شہری ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں دراصل ایک پوری نسل کی معلمہ ہوتی ہے۔

تعلیم یافتہ عورت معاشرے کا مسئلہ نہیں، اس کی سب سے بڑی امید ہے۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے جو علم کو طاقت کے بجائے خطرہ سمجھتی ہے۔ جس دن ہم عورت کو ایک مکمل انسان، ایک بااختیار ذہن اور ایک مساوی شہری کے طور پر تسلیم کر لیں گے، اس دن نہ صرف عورت کی تقدیر بدلے گی بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل بھی روشن ہو جائے گا۔

تعلیم یافتہ عورت سے خوفزدہ ہونے والے دراصل اس کے علم سے نہیں، اس شعور سے خوفزدہ ہوتے ہیں جو جہالت، ناانصافی اور فرسودہ روایات کو للکارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Check Also

Aham Hukumati Shakhsiyat: Cancer Ki Khabar, Khushi Ka Izhar Kyun?

By Abid Mehmood Azaam