Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Arbaz Raza Bhutta
  4. Akhir Naya Budget Kya Relief Laya Hai?

Akhir Naya Budget Kya Relief Laya Hai?

آخر نیا بجٹ کیا ریلیف لایا ہے؟

پاکستان ایک عجیب تقدیر کا مارا ہوا ملک ہے۔ یہاں ہر الیکشن سے پہلے نعروں کی بارش ہوتی ہے، وعدوں کے دریا بہتے ہیں اور غریب عوام کو سنہرے خوابوں کی لوریاں سنائی جاتی ہیں۔ مگر جیسے ہی ووٹ پڑتے ہیں اور اقتدار کی کرسی نصیب ہوتی ہے تو یہی حکمران عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی صرف ٹی وی اسکرینوں، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں تک محدود رہ جاتی ہے۔ عوام انہیں ڈھونڈتی رہتی ہے اور وہ ڈیجیٹل پردوں کے پیچھے پناہ لیے بیٹھے رہتے ہیں۔

بجٹ کا موسم آتے ہی یہ داستان ایک نئے انداز سے پھر دہرائی جاتی ہے۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ ملک ایک "نازک موڑ" پر کھڑا ہے وہی نازک موڑ جو 1947 سے آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کبھی بیرونی خطرات کا خوف دلایا جاتا ہے اور کبھی عالمی مہنگائی کو تمام مسائل کی جڑ قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا اس بدقسمت قوم کی قسمت میں سکون کا ایک لمحہ بھی نہیں ہے۔ تقریباً ایک صدی گزرنے کو ہے مگر وہ صبح اب تک طلوع نہیں ہوئی جس کا وعدہ ہر دور میں کیا جاتا رہا۔

اب ذرا مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر نظر ڈالتے ہیں جسے حکومت نے ایک بڑی کامیابی اور خوشخبری کے طور پر پیش کیا ہے۔ گزشتہ جمعہ 18.8 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد، یعنی 3.1 کھرب روپے زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے لیے 15.264 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی محصولات کا تخمینہ 20.6 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ لیکن سب سے چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ اس پورے بجٹ میں سے 8 کھرب روپے، یعنی تقریباً 43 فیصد، صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جائیں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کی جیب سے نکلنے والے ہر سو روپے میں سے 43 روپے ان قرضوں کے سود کی ادائیگی میں جائیں گے جو مختلف ادوار کے حکمرانوں نے لیے تھے۔ قرضے انہوں نے لیے، فائدے انہوں نے سمیٹے اور قیمت آج عام پاکستانی ادا کر رہا ہے۔

اس بجٹ کا اصل چہرہ اعداد و شمار خود بے نقاب کرتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کو، جو ہر ماہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے، صرف 52 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، جبکہ اکیلے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کی مراعات دے دی گئیں۔ بڑے سرمایہ داروں پر عائد سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا۔ سیمنٹ، اسٹیل، آٹوموبائل اور فارماسیوٹیکل صنعتوں کو اربوں روپے کے فوائد پہنچائے گئے۔ زمینداروں کے لیے ڈیمڈ انکم کا سیکشن خاموشی سے ختم کر دیا گیا اور غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی واپس لے لیا گیا۔

دوسری جانب مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی بجٹ تقریباً 3 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا جو بلاشبہ قومی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ بیوروکریسی کی پینشن میں 17 فیصد اضافہ بھی کر دیا گیا، کیونکہ آخر وہ بھی تو "خدمتِ خلق" میں مصروف ہیں۔

اس صورتحال پر نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں ایک اہم نکتہ اٹھایا۔ ان کے بقول، "حکومت کی تمام تر توجہ ریونیو اکٹھا کرنے پر مرکوز ہے جبکہ اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ کفایت شعاری کے دعوے محض نمائشی ہیں۔ آٹھ سے دس ایسی وزارتیں موجود ہیں جنہیں ختم کرکے اربوں روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ جی او آر میں بیوروکریٹس کو دس دس کنال کے سرکاری گھر دیے گئے ہیں۔ اگر یہ عیاشی نہیں تو پھر کیا ہے؟ ان جائیدادوں کو کمرشلائز کر دیا جائے تو پورا پنجاب چلایا جا سکتا ہے۔ سرکاری گاڑیاں، غیر ضروری پروٹوکول اور کلب کلچر ختم کیا جائے، جبکہ مسلسل خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف صرف مالی اہداف دیتا ہے، عوام پر بوجھ ڈالنے اور اپنی مراعات برقرار رکھنے کا فیصلہ ہمارے اپنے حکمران کرتے ہیں"۔

حالات پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت کے اپنے اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں 7 کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی ماہانہ آمدن 8500 روپے سے بھی کم ہے۔ اسی سروے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پاکستانی عوام نے دالوں، سبزیوں، گوشت اور چاول کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے کیونکہ اب پیٹ بھر کر کھانا بھی ایک مہنگا خواب بنتا جا رہا ہے۔

اور ستم ظریفی دیکھیے کہ یہی جماعتیں جب اپوزیشن میں تھیں تو غریب عوام کی سب سے بڑی ہمدرد بن کر سامنے آتی تھیں۔ مہنگائی، ٹیکسوں اور عوامی مشکلات پر سڑکوں پر احتجاج کرتی تھیں۔ مگر آج اقتدار ملنے کے بعد وہی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جن کے خلاف کبھی بلند آواز میں نعرے لگائے جاتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، بیانات بدلتے ہیں، مگر عوام کے مسائل اور ان پر مسلط پالیسیاں کبھی نہیں بدلتی۔

About Arbaz Raza Bhutta

Arbaz Raza (known as Arbaz Raza Bhutta) is a student, journalist, and columnist. He currently works with Suno News, Dunya News, and The News International, and has previously written for Urdu Point, Daily Urdu Columns, Hamari Web, and other national newspapers. Follow him on Twitter @ArbazReza01.

Check Also

Akhir Naya Budget Kya Relief Laya Hai?

By Arbaz Raza Bhutta