Ghaddari Ki Factory
غداری کی فیکٹری

کسی بھی ملک کی تاریخ میں وہ دور سب سے زیادہ تاریک اور بھیانک ہوتا ہے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ ریاست کے آئین کے بجائے چند طاقتور چہروں کی ذاتی پسند اور ناپسند کے تابع کر دیا جائے۔ موجودہ پاکستان اسی المیے کی سب سے بدترین مثال بن چکا ہے۔ اگر ہم اجداد کی قربانیوں اور تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں غداری کے مہروں کا کھیل نیا نہیں ہے، لیکن اس دورِ حکومت میں اس کھیل نے ظلم اور حماقت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت، اس کے کروڑوں ووٹرز، اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے کسان، سچ لکھنے والے صحافی اور سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے نوجوان، سب کے سب اس مبینہ حب الوطنی کے ترازو میں غدار تولے جا چکے ہیں۔
سائفر کا معاملہ ہو یا نو مئی کے واقعات، ان سب کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا جس کا مقصد عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا اور ایک مقبول لیڈر کو سیاست سے مائنس کرنا تھا، لیکن یہ بیانیہ عوامی عدالت میں اتنی بری طرح پٹ چکا ہے کہ اب جوں جوں ظلم بڑھتا ہے، نظام کی کمزوری اتنی ہی واضح ہوتی جاتی ہے۔
یہ غداری کی فیکٹری صرف سیاسی رہنماؤں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ اب اس ملک کے غریب کسانوں تک پھیل چکا ہے جو جب گندم کے سرکاری ریٹ، کھاد کی قیمتوں اور اپنی سال بھر کی محنت کا جائز معاوضہ مانگنے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ان پر بدترین لاٹھی چارج کیا جاتا ہے اور انہیں امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی سلوک ان صحافیوں اور وی لاگرز کے ساتھ کیا جاتا ہے جو آفیشل بیانیے پر تنقید کرنے کی جرات کرتے ہیں، انہیں رات کے اندھیرے میں غائب کر دیا جاتا ہے، نوکریوں سے نکلوا دیا جاتا ہے اور ان پر بغاوت کے پرچے کاٹ دیے جاتے ہیں، جس کی گواہی آج دنیا بھر کے پریس فریڈم انڈیکس دے رہے ہیں۔ نوجوانوں کی زبان بندی کے لیے انٹرنیٹ کو سست کیا جا رہا ہے، فائر والز کے پہرے بٹھائے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا کر پورے ملک کو ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، کیونکہ یہ خوفزدہ حکمران عوام کے شعور اور ان کے سوالوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
حتیٰ کہ خارجہ پالیسی پر آزاد رائے رکھنا یا کسی مسلم ملک کے دکھ پر تڑپنا بھی اب اس ریاست کی نظر میں جرم بن چکا ہے۔ ایران اور امریکہ کے حالیہ تنازعات اور ایرانی رہنماؤں کی شہادت کے موقع پر جب پاکستان کے عام شہری اپنے جذبات کا اظہار کرنے سڑکوں پر نکلے، تو ریاست کو ان کا یہ فطری احتجاج بھی ہضم نہیں ہوا۔ اسی طرح اگر کوئی دانشور یا سیاستدان یہ مشورہ دے کہ گولی اور جنگ کے بجائے افغانستان کے ساتھ سفارتی میز پر بیٹھ کر بات چیت کی جائے تو اسے فوراً افغان ایجنٹ کا طعنہ دے دیا جاتا ہے۔
یہی بے حسی اور سیاسی ریشہ دوانیوں کا خوفناک رخ ہمیں آزاد کشمیر کے حالیہ انتہائی سنگین بحران میں بھی نظر آتا ہے۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی سے مہاجرین کی تیرہ نشستوں کو باہر نکالنے اور ختم کرنے کے سیاسی حربوں نے پورے خطے کو آگ کے ڈھیر پر بٹھا دیا ہے۔ جب کشمیر کے غیرت مند عوام نے اس ناانصافی اور اپنے آئینی حقوق پر ڈاکے کے خلاف آواز اٹھائی، انتظامیہ نے ان کے مطالبات سننے کے بجائے وہاں کے عوام کی نمائندہ عوامی ایکشن کمیٹی کو ہی کالعدم قرار دے دیا اور سڑکوں پر نکلنے والے اپنے ہی شہریوں پر سیدھی گولیاں چلا دیں، جس سے متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بدترین خونریزی ہوئی۔ اپنے حقوق اور سیاسی بقا کی جنگ لڑنے والے ان کشمیریوں کو بھی ریاست کی نظر میں نمک حرام، باغی اور غدار بنا کر پیش کیا گیا۔ یہی معاندانہ رویہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان مظلوم عوام کے ساتھ اپنایا جاتا ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی اور اپنے علاقوں میں امن کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں، لیکن یہ حکمران انہیں غیر ملکی فنڈڈ اور ملک دشمن قرار دینے میں دیر نہیں کرتے۔
یہاں یہ بنیادی اور تلخ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ملک کے کسان، صحافی، نوجوان، کشمیری، قوم پرست اور اکثریت غدار ہیں، تو پھر اس چوبیس کروڑ کے ملک میں وفادار کون بچا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بندوق کی نوک پر عوام کو غدار کہا گیا، ملک ٹوٹ گیا۔ سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے عوام اور شیخ مجیب الرحمان کو بھی اسی طرح غدار کہا گیا تھا، جس کا انجام سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں نکلا اور آج یہ کٹھ پتلی ٹولہ اقتدار کی ہوس میں ملک کو اسی گہری خلیج اور بارود کے ڈھیر پر دوبارہ دھکیل رہا ہے۔
سچا غدار وہ نہیں ہوتا جو آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق مانگے اور حکمرانوں کا محاسبہ کرے، بلکہ سچے غدار وہ ہیں جو آئین کو پامال کرتے ہیں، عوامی مینڈیٹ چراتے ہیں اور اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے پورے ملک کا سودا کر دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا یہ بازار اب بند کرنا ہوگا۔

