Insaf, Azadi Aur Aik Munsifana Muashra
انصاف، آزادی اور ایک منصفانہ معاشرہ
مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عار یا جھجک نہیں کہ انصاف، ریاست اور معاشرتی نظم کے بارے میں میرے خیالات پر معروف سیاسی فلسفی جان رائولز John Rawls کی فکر کا خاص اثر ہے۔ اگرچہ ذیل میں بیان کیے گئے نکات میرے اپنے فہم اور تعبیر کا اظہار ہیں، لیکن ان کی فکری بنیاد بڑی حد تک رائولز کے نظریۂ انصاف سے اخذ شدہ ہے۔
میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد طاقت، دولت یا اکثریت کی مرضی نہیں بلکہ انصاف ہے۔ تاہم انصاف کا مطلب صرف یہ نہیں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرے کے بنیادی قواعد اور ادارے ایسے ہوں جنہیں ہر فرد منصفانہ تصور کر سکے۔ ایک ایسا نظام جو صرف طاقتور طبقات کے مفادات کا تحفظ کرے، خواہ وہ قانونی ہی کیوں نہ ہو، حقیقی معنوں میں عادلانہ نہیں کہلا سکتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں کسی معاشرے کے قوانین اور اداروں کی تشکیل ازسرِ نو کرنی ہو تو ہمیں ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سوچنا چاہیے۔ انسان کو یہ تصور کرنا چاہیے کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ اس معاشرے میں کس طبقے، نسل، برادری، جنس یا معاشی حیثیت میں پیدا ہوگا۔ اگر ہم اس غیر جانب دار زاویۂ نگاہ سے سوچیں تو یقیناً ہم ایسے اصول اختیار کریں گے جو ہر فرد کے لیے منصفانہ ہوں، کیونکہ ہمیں یہ خدشہ ہوگا کہ کل ہم خود بھی کمزور یا محروم طبقے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
اسی بنیاد پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو چند بنیادی آزادیوں کا مساوی حق حاصل ہونا چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی شرکت کا حق، مذہبی آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ جیسے حقوق کسی بھی مہذب معاشرے کی ناگزیر شرط ہیں۔ یہ حقوق کسی معاشی فائدے یا سیاسی مصلحت کی خاطر قربان نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ انسانی وقار کا تحفظ انہی آزادیوں سے وابستہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ معاشروں میں مکمل معاشی مساوات ممکن نہیں۔ افراد کی صلاحیتوں، مواقع اور انتخاب میں فرق ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں آمدنی اور سماجی حیثیت میں بھی فرق پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ فرق صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جب اس کے ثمرات معاشرے کے کمزور ترین افراد تک بھی پہنچیں۔ اگر کسی معاشی یا سیاسی نظام کا نتیجہ یہ ہو کہ طاقتور مزید طاقتور اور محروم مزید محروم ہوتے جائیں تو ایسا نظام اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔
میرے نزدیک ایک انصاف پر مبنی ریاست کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے امیر لوگ کتنے خوشحال ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے کمزور ترین شہری کس حد تک عزت، تحفظ اور مواقع سے بہرہ مند ہیں۔ معاشرے کی اخلاقی قدر کا اندازہ اس کے بلند و بالا محلات سے نہیں بلکہ ان لوگوں کی حالت سے لگایا جانا چاہیے جو سب سے نچلی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
میں اس تصور سے بھی اتفاق نہیں کرتا کہ اکثریت کے فائدے کے لیے اقلیت کے بنیادی حقوق قربان کیے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق محض اس لیے نظرانداز نہیں کیے جا سکتے کہ اس سے مجموعی طور پر زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فرد کو ایک ایسی اخلاقی حیثیت حاصل ہو جسے اکثریت کی خواہشات کے تابع نہ کیا جا سکے۔
مختصراً، میرا یقین ہے کہ ایک منصفانہ معاشرہ وہ ہے جس میں آزادی سب کے لیے برابر ہو، مواقع تک رسائی منصفانہ ہو اور معاشی و سماجی تفاوت صرف اسی حد تک قبول کی جائے جس سے کمزور ترین افراد کی حالت بہتر ہو۔ یہی وہ اصول ہیں جن کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف مستحکم ہو بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی قابلِ دفاع ہو۔

