Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Aham Hukumati Shakhsiyat: Cancer Ki Khabar, Khushi Ka Izhar Kyun?

Aham Hukumati Shakhsiyat: Cancer Ki Khabar, Khushi Ka Izhar Kyun?

اہم حکومتی شخصیت: کینسر کی خبر، خوشی کا اظہار کیوں؟

ایک اہم حکومتی شخصیت کے کینسر میں مبتلا ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر سامنے آئی۔ معلوم نہیں یہ خبر درست ہے یا محض افواہ، لیکن اس پر آنے والے ردِعمل نے ایک تلخ معاشرتی حقیقت کو آشکار کر دیا۔ بہت سے لوگوں کو اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے اور موت کی بددعائیں دیتے دیکھا گیا۔ دعائے صحت تو کہیں کہیں نظر آئی، مگر بددعاؤں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر مختلف جگہوں پر دیکھی اور تقریباً ہر جگہ ایک جیسا رویہ نظر آیا۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی کی بیماری یا مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کیا جائے۔

ایک مہذب معاشرہ کسی کی تکلیف کے وقت ہمدردی، خیرخواہی یا کم از کم خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی کسی کی بیماری یا آزمائش پر خوش ہونا پسندیدہ عمل نہیں۔ اگرچہ حکمرانوں کے ظلم، ناانصافیوں اور ناقص طرزِ حکمرانی پر عوام کا غصہ بجا ہو سکتا ہے، لیکن کسی کی بیماری پر خوشی منانا ایک مثبت رویہ نہیں۔ تاہم اکثر اوقات عوام کی یہ خوشی دراصل ان کے دلوں میں جمع ہونے والے غصے، محرومی، بے بسی اور مایوسی کا اظہار ہوتی ہے، جو اشرافیہ کی ناانصافیوں، بدعنوانیوں، عوام دشمن پالیسیوں اور ظالمانہ رویوں کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ردِعمل معاشرے میں موجود بے چینی اور نظام کی خرابی کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

عوام ملک پر مسلط اشرافیہ کو اس لیے بھی قابلِ نفرت سمجھتے ہیں کہ یہ طبقہ اپنی عیش و عشرت اور مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کو کسی بھی حد تک نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتا۔ یہ لوگ دنیا میں اپنے اقتدار، اثر و رسوخ اور وسائل کے بل بوتے پر احتساب سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ عام لوگوں کے پاس ان کا مؤثر محاسبہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ آخرت کا حساب تو آخرت میں ہونا ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کے دلوں میں موجود نفرت، غصے اور بے بسی کے اظہار کا یہی ایک ذریعہ رہ جاتا ہے۔ چنانچہ جب اشرافیہ کا کوئی فرد کسی بیماری، حادثے یا مصیبت کا شکار ہوتا ہے تو بعض لوگ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور بددعائیں بھی دیتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہی طبقہ ان کی زندگیوں کو مشکلات اور اذیتوں سے بھرنے کا ذمہ دار ہے۔ حکمرانوں کو اکثر ان کے مشیر "سب اچھا ہے" کی رپورٹ دیتے رہتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی تنقید ان تک پہنچ بھی جائے تو بعض ذمہ داران اسے مخالف جماعتوں کی سازش یا پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف مخالف جماعتیں ہی نہیں بلکہ عام عوام بھی شدید پریشانی، اضطراب اور اذیت کا شکار ہیں۔

میں نے بہت سے لوگوں کو حکمرانوں اور اشرافیہ کے لیے ہاتھ اٹھا کر بددعائیں کرتے دیکھا ہے۔ کتنے ہی ریڑھی بانوں اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں سے تنگ غریب شہریوں کو حکومتی ذمہ داران کے لیے بددعائیں کرتے دیکھا ہے۔ کتنے ہی تعلیم دوست افراد کو وزیرِ تعلیم کے لیے یہ کہتے سنا ہے کہ خدا اس کا بھی اسی طرح ستیاناس کرے جس طرح اس نے پنجاب میں تعلیم کا ستیاناس کیا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو مہنگائی، بھاری جرمانوں اور معاشی دباؤ کے باعث حکومتی ارکان کے لیے جھولیاں اٹھا کر بددعائیں کرتے دیکھا ہے۔ بے تحاشا مہنگائی سے تنگ سرکاری ملازمین کو حکومت کے لیے بددعائیں کرتے دیکھا ہے کہ حکمرانوں کی عیاشیاں اور مراعات بدستور قائم ہیں، لیکن ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرنے کے بجائے ان کی معاشی مشکلات مزید بڑھا دی گئی ہیں۔

کتنے ہی لوگوں کے کاروبار حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو گئے، کتنی فیکٹریاں اور کارخانے بند ہوئے، کتنے افراد بے روزگار ہوئے اور کتنے کسانوں کی زندگیاں مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوگئیں۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں اور بہت سے بیمار افراد ادویات خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ یہ سب لوگ حکومتی پالیسیوں اور ذمہ داران کے لیے بددعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام لوگ کسی ایک مخالف جماعت سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ یہ عام عوام ہیں۔ ضروری ہے کہ حکمران عوام کے مسائل کو سمجھیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کریں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ عوام کی دعائیں حاصل کریں اور ان کی بددعاؤں سے بچنے کی کوشش کریں۔ جب مظلوم کی آہ اور بددعا اثر دکھاتی ہے تو اقتدار، اختیار، دولت اور پروٹوکول بھی انسان کو اس کے نتائج سے نہیں بچا سکتے۔

Check Also

Karachi Ya Lahore?

By Teeba Syed