Honey Trap Se Bach Ke
ہنی ٹریپ سے بچ کے

ہنی ٹریپ سوشل میڈیا پر عام چلن ہے مجھے پہلی بار حقیقی طور پر سڑک کنارے بھی تجربہ ہوگیا ہے۔ دو دن قبل میں فیلڈ ورک بھگتا کر لگ بھگ شام چار بجے غازی روڈ ڈی ایچ اے کے کنارے گاڑی لگائے ایک ریڑھی والے سے چاٹی کی لسی منگوا کر پی رہا تھا اور گاڑی میں بیٹھا موبائل چیک کر رہا تھا۔ پیاس لگی ہوئی تھی۔ میٹھے مشروبات میں پیتا نہیں اور چاٹی کی لسی پر نظر پڑی تو سوچا ٹرائی کیا جائے۔ میں موبائل پر ای میلز کے جواب میں بزی تھا کہ اچانک شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے چونک کر دیکھا تو چوبیس پچیس سال کی لڑکی ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ پکڑے اور ویل ڈریس ہوئے پورے میک آپ میں کھڑی تھی۔
شیشہ ڈاؤن کیا تو بولی "سوری، لیکن کیا آپ مجھے آگے کسی چوک میں ڈراپ کر دیں گے؟ کافی دیر سے ان ڈرائیو کے انتظار میں کھڑی ہوں گاڑی نہیں آ رہی اور رکشہ نہیں مل رہا۔ آپ مجھے آگے کسی چوک میں رکشے والے کے پاس ڈراپ کر دیں پلیز۔ شکل سے آپ ڈیسنٹ لگ رہے ہیں اس لیے ریکوئسٹ کی ہے"۔ میں نے اسے غور سے دیکھا بظاہر وہ اپر مڈل کلاس کے حلیے میں تھی۔ ڈریسنگ اچھی تھی۔ میک آپ پراپر تھا اور لگ رہا تھا وہ کسی کے ہاں دعوت پر جا رہی ہے۔ ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کرنا مناسب ہوگا۔ اجنبیوں کو میں راہ چلتے لفٹ دینے کے حق میں نہیں میرے ایک دو تجربات اچھے نہیں رہے۔ اس نے دیکھا کہ میں جواب نہیں دے پا رہا تو سوری کہہ کر دو قدم پیچھے ہٹ کر یوں کھڑی ہوگئی جیسے پریشان ہو۔
میں نے پھر سوچا کہ حال حلیے سے ڈیسنٹ لگ رہی ہے لوگوں کی مجبوری بن جاتی ہے، اگلے چوک تک کی ہی تو بات ہے اسے کسی رکشے والے کے پاس اتار دیتا ہوں۔ میں نے اسے کہا چلیں بیٹھ جائیں آپ کو کسی رکشے والے کے پاس ڈراپ کرتا ہوں۔ وہ فوراً تھینک یو کہہ کر آئی اور فوراً اگلی سیٹ پر آ بیٹھی۔ عموماً ایسا ہوتا نہیں۔ خواتین کو اگر باامر مجبوری کسی اجنبی سے لفٹ لینا پڑ بھی جائے تو وہ پیچھے بیٹھیں گی اس کے برابر والی پسنجر سیٹ پر تو ہرگز نہیں۔ خیر، میں نے یہ بات نوٹ کی اور گاڑی چلا دی۔ گاڑی چلتے ہی بولی آپ کا بہت شکریہ بس کسی ایسے چوک میں ڈراپ کریں جہاں رکشے کھڑے ہوں۔ میں نے پھر کہا کہ جی ہاں وہی دیکھ رہا ہوں اور میں واقعی راہ چلتے رکشے ڈھونڈ رہا تھا۔
پھر ایک منٹ گزرا اور بولی "آپ کو کیا بتاؤں کوئی ایسے کسی سے لفٹ تو نہیں لیتی ناں، مجھے اپنی سب سے پکی دوست کی طرف جانا ہے گلبرگ میں اور لیٹ ہو رہی ہوں۔ کچھ مل نہیں رہا تھا تو گھبرا کر آپ سے ریکوئسٹ کر دی۔ آپ چاہیں تو مجھ سے اماؤنٹ لے لیں"۔ یہ کہہ کر اس نے پرس کھولا۔ میں نے یہ دیکھ کر کہا مِس پیسوں کی بات نہیں، آپ کو اتارتا ہوں دو منٹ میں وہاں سے رکشہ مل جائے گا"۔
اتنی دیر میں چوک آ گیا جہاں بہت سے رکشے آ جا رہے تھے۔ میں نے بریک لگا دی۔ اترتے ہوئے بولی "سو سو مچ تھینکس، بلیو می آپ بہت اچھے انسان ہیں۔ آجکل کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مائنڈ نہ کریں تو ہم رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ آپ مجھے بہت سنجیدہ سے لگے ہیں۔ میرے ٹیچر بھی ایک آپ جیسے تھے۔ میں ایم کام کی سٹوڈنٹ ہوں"۔ اب یہ دوسرا الارم تھا کہ وہ مجھ سے فون نمبر مانگ رہی ہے اور مجھے ایکدم کلئیر ہو چکا تھا کہ یہ ہنی ٹریپ ہے۔ اس ٹریپ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے میں نے اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اس نے موبائل میں نوٹ کیا۔ موبائل بھی اس نے سیمسنگ گلیکسی ایس 25 رکھا ہوا تھا۔ وہ اتری اور چلی گئی۔ میں نے گاڑی چلاتے بیک مرر سے ضرور دیکھا کہ کسی رکشے والے سے بات کر رہی ہے یا نہیں۔ وہ ایک رکشے کے اندر بیٹھ گئی تھی۔
باقی راہ میں یہی سوچ کر ہنستا آیا کہ کیا کیا آئیٹمز کیسے کیسے شکار گھیرتی ہیں۔ انعام رانا کو کال ملائی۔ اسے سارا واقعہ سنایا۔ رانا بولا کہ ہاں یہ ہنی ٹریپ ہے ذرا دھیان سے رہنا۔ ہو سکتا تو ٹارگٹ نہ ہو وہ تجھے بالکل نہ جانتی ہو۔ اس کا طریقہ واردات ہی یہ ہوگا کہ مہنگی گاڑی والے کسی کو دیکھ کر اپروچ کرنا۔ یہ میں آپ کو بتا دوں کہ حال حلیہ واقعی اپر مڈل کلاس کا تھا۔ یعنی کوئی بھی عام انسان ٹریپ ہو سکتا ہے۔ اب میں اس انتظار میں رہا کہ یہ خود رابطہ کرے گی۔ پرسوں شام سات بجے کے پاس پاس میسج آیا "کیا کر رہے ہیں آپ؟ فری ہیں تو ڈی ایچ اے فیز تھری زی بلاک والے گلوریا جینز آ جائیں"۔ اب ظاہر ہے مجھے مزید کسی الجھن میں نہیں پڑنا تھا۔ اس کو جواب دیا کہ سوری آپ کا میسج نہ آئے اور بلاک کر دیا۔ دو گھنٹے بعد ایک اور نمبر سے میسج آیا "آپ تو ڈر ہی گئے۔ چلیں آپ کی مرضی"۔ میں نے اسے بھی بلاک کر دیا۔
یہ آج کچھ فرصت ملی تو سوچا آپ لوگوں کو آگاہ کروں کہ ذرا آپ بھی دماغ کی بتی جلا کر رہا کریں اور لاہور کی سڑکوں پر کوئی لڑکی یا خاتون ایسے اپروچ کرے تو یہ ہرگز نہ سمجھ لیجئے گا کہ آپ شہزادہ سلیم ہیں اور وہ انار کلی۔

