Asal Kamyab Aur Mutmain Shakhs?
اصل کامیاب اور مطمئن شخص؟

زیادہ پرانی بات نہیں، چند ہفتے قبل ہی خاندان میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی جو باتوں ہی باتوں میں کہنے لگے کہ میرا کاروبار بھی اچھا جا رہا ہے، دولت بھی آرہی ہے، مگر دل میں ہمیشہ بے چینی رہتی ہے اور سوچتا ہوں کہ اصل کامیاب اور مطمئن شخص کون ہوتا ہے؟
میں نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں ایثار کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا کہ اگر مل جائے تو شکر کرنا چاہیے اور نہ ملے تو صبر کرنا چاہیے۔ میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جی، ہاں! آپ درست کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اسی کو ایثار سمجھتےہیں، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ رویہ تو ہماری گلی کے کتےکا ہوتا ہے کہ اگر اسے کچھ ڈال دیں تو دم ہلا کر خوشی کا اظہار کر دیتا ہے اور نہ ڈالیں تو خاموشی سے صبر کرتا ہے۔ اصل ایثار تو یہ ہے کہ اگر مل جائے تو اپنے حصے میں سے دوسروں کا حصہ نکالنا چاہیے اور نہ ملے تو صبر کرنا چاہیے۔
انسان کی اصل کامیابی زیادہ دولت یا بڑے کاروبار میں نہیں، بلکہ ایثار، اخلاقی بلندی اور انسانی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جدید تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ کاروباری افراد جو صرف منافع کے بجائے دیانت، خدمت خلق اور دوسروں کے فائدے کو اہمیت دیتے ہیں، وہ زیادہ دیرپا اور اعتماد کامیابی سے حاصل کرتے ہیں۔ ہارورڈ بزنس ریویو اور دیگر عالمی تحقیقی رپورٹس کے مطابق تقربیاً 70 فیصد لوگ ایسے کاروبار کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو ایمانداری، اخلاقیات اور سماجی بھلائی کے اصولوں پر قائم ہوں۔
ناپ تول میں کمی نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا اور وعدوں کو پورا کرنا۔ وہ اصول ہیں جو دراصل ایثار کی بنیاد ہیں، کیونکہ ان میں دوسروں کے حقوق کو اپنی خوہشات پر تر جیح دی جاتی ہے۔ ایثار، اخلاقی بلندی اور انسانی خدمت ایسی خوبیاں ہیں جو نہ صرف ذاتی زندگی میں بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی حضرت عثمان بن عفانؓ اور موجودہ دور میں عبد الستار ایدھی جیسے عظیم انسان اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ اصل کامیابی صرف دولت جمع کرنے میں نہیں بلکہ ایثار، خدمت خلق اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں پوشیدہ ہے۔
اگر ایثار کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو عید کے دنوں میں بھی اس کی اشد ضرورت ہے اور اگر اس کے فوائد اور ثمرات پر بات کرنا چاہیں تو اس کے لیے ایک الگ کالم کی ضرورت ہوگی۔ لہذا قربانی کے گوشت کی تقسیم میں بھی ایثار سے کام لینا چاہیے۔ تاکہ ہماری خوشیوں میں غریب اور ناداروں لوگوں کی بھی شرکت ہوسکے۔ اگر ہمارے اس عمل سے ایک خاندان کے چہرے پر مسکراہٹ آسکتی ہے اور ایک خاندان ایک وقت کا کھانا کھا لیتا ہے، تو اس سے زیادہ بہتر کیا ہوسکتا ہے؟
اسی لیے اپنے ملازمین اور معاشرے کے کمزور طبقے کا خاص خیال رکھیں اور اگر آپ کاروباری فرد ہیں تو خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنیں۔ ایک ذمہ دار شہری وہی ہوتا ہے جو اپنے گاہکوں، ملازموں اور معاشرے کے ساتھ انصاف اور ہمدردی کا برتاو کرے۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہتا ہے، لالچ سے بچتا ہے اور ایثار کو اپنی کاروباری حکمت کا حصہ بناتا ہے، وہی حقیقی طور پر کامیاب، مطمئن اور دانش مند شخص کہلاتا ہے۔

