Haramain Ki Hazri: Ghaibi Bulawa Ya Madi Istetaat?
حرمین کی حاضری: غیبی بلاوا یا مادی استطاعت؟

مالی تنگی کا شکار کچھ لوگ رنجیدہ ہو کر کہتے ہیں کہ "اللہ کی طرف سے بلاوا نہیں آیا، شاید اس لیے ہمیں حج اور عمرہ کی سعادت نہیں مل رہی۔ دوسری طرف کئی مالدار لوگ جب چاہیں حرمین کا سفر باندھ لیتے ہیں اور اسے اپنی ذاتی بزرگی یا اللہ کی خاص پسندیدگی کا ثبوت سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک سوشل میڈیا انفلونسر عمرے سے واپسی پر ایک بے ہودہ ویڈیو کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنی تو کہنے لگی: "میں ابھی عمرے سے آئی ہوں، اللہ نے مجھے بلایا تھا، اگر میں غلط ہوتی تو اللہ مجھے نہ بلاتے، اس لیے اپنی زبانیں بند کریں"۔ اسی طرح بعض لوگ ناجائز کمائی سے حج و عمرہ کرکے اسے اللہ کا خاص فضل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حرام ذرائع سے حاصل کردہ دولت کے ساتھ حج و عمرہ روحانی فضیلت کی دلیل نہیں بن سکتے۔
یہ طرزِ عمل ایک فکری مغالطے کی عکاسی کرتا ہے کہ کیا حرمین کی حاضری کوئی غیبی بلاوا ہے یا مادی وسائل کا نتیجہ ہے؟ شریعتِ مطہرہ کے مطابق حج کے فرض ہونے کی شرط کوئی غیبی "بلاوا" نہیں، بلکہ "استطاعت" ہے۔ استطاعت سے مراد جائز و حلال مالی وسائل، جسمانی صحت، راستے کا محفوظ ہونا اور پیچھے رہ جانے والے اہلِ خانہ کے اخراجات کا مناسب انتظام ہے۔ بعض لوگ وسائل ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ ابھی میرا بلاوا نہیں آیا، شرعی اعتبار سے یہ تصور درست نہیں، کیونکہ حج کی فرضیت بندے کی استطاعت سے مشروط ہے، کسی الہام یا مخصوص غیبی اشارے سے نہیں۔ البتہ "بلاوے" کو توفیق کے معنی میں لیا جا سکتا ہے۔
احادیث میں جو آیا ہے کہ "حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے لبیک کہا"، یہاں "بلانے" سے مراد عمومی اور آفاقی دعوت ہے جو سورۃ الحج میں پوری انسانیت کو دی گئی۔ اس اعتبار سے "بلاوے" کو محبت اور شوق کے اظہار کے طور پر تو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اسے اپنے تقویٰ کا سرٹیفکیٹ بنا لینا ایک سنگین فکری غلطی ہے۔ بہت سے لوگ حقوق العباد پامال کرتے ہیں، ملاوٹ، رشوت اور کرپشن میں ملوث رہتے ہیں اور پھر عمرے یا حج کے ذریعے خود کو اللہ کے چنیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ کی جگہ ہیں۔ جو شخص وہاں سے واپس آ کر اپنے اعمال پر اترائے، اسے اپنی قبولیت کے بارے میں خوف ہونا چاہیے، نہ کہ اسے اپنی فضیلت کا تمغہ بنانا چاہیے۔
ایک بڑا مغالطہ یہ بھی ہے کہ جو شخص مکہ و مدینہ پہنچ گیا وہ لازماً محبوب بن گیا اور جو نہ جا سکا وہ محروم ہے۔ حالانکہ بہت سے لوگ حرام کمائی کے باوجود محض مادی وسائل کی بنیاد پر بار بار حج و عمرہ کر لیتے ہیں، جبکہ بہت سے نیک اور مخلص لوگ سفید پوشی کے باعث اس ظاہری سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ شریعت کا اصول واضح ہے کہ اگر کسی نے بندوں کے حقوق غصب کیے ہیں تو محض بار بار عمرہ کر لینا اس کا نعم البدل نہیں اور اگر کسی کے پاس جانے کی استطاعت نہیں تو اس پر یہ عبادت فرض ہی نہیں۔
حاضری اور قبولیت دو الگ چیزیں ہیں۔ مال و دولت، ویزا اور ٹکٹ مادی وسائل سے حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ کی رضا کسی بازار میں دستیاب نہیں۔ انسان کو اس سفر کو اللہ کی توفیق اور توبہ کے ایک عظیم موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ سوچ انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے، جبکہ "میں منتخب ہوں" کا زعم انسان کو تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لہذا جو مالی تنگی کی وجہ سے نہ جا سکیں وہ دل گرفتہ نہ ہوں، کیونکہ ان کی مخلص نیت انہیں بارگاہِ الٰہی سے اجر دلا سکتی ہے اور جنہیں جانے کا موقع ملے، وہ خود کو "وی آئی پی مہمان" سمجھنے کے بجائے ایک "خطاکار غلام" سمجھ کر جائیں۔

