Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Youm e Takbeer, Asal Heero Kon Hai?

Youm e Takbeer, Asal Heero Kon Hai?

یومِ تکبیر، اصل ہیرو کون؟

قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی سوچ، اعتماد اور قومی تشخص کا رخ متعین کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی 1998 بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب چاغی کے پہاڑوں نے اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ دنیا کو بتایا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک خوددار اور باوقار ریاست ہے۔ اسی دن کو ہم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مگر ہر سال ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر یومِ تکبیر کا اصل ہیرو کون ہے؟ کیا یہ صرف ایک شخصیت کا کارنامہ تھا یا پوری قوم کی اجتماعی جدوجہد؟

اگر ہم تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی ایک فرد، ایک حکومت یا ایک ادارے کی کوشش نہیں تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک قومی خواب تھا جسے مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے اپنی صلاحیت، جرات اور قربانی سے حقیقت بنایا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا سہرا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے بعد جب ملک دولخت ہوا تو بھٹو نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ "ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے"۔ اس وقت شاید بہت سے لوگوں کو یہ صرف ایک جذباتی نعرہ لگا ہوگا لیکن درحقیقت یہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا آغاز تھا۔ بھٹو نے سائنسدانوں کو اکٹھا کیا، وسائل فراہم کیے اور عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو شاید پاکستان کبھی ایٹمی طاقت نہ بن پاتا۔

اس کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنی علمی قابلیت، محنت اور غیرمعمولی عزم کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نئی رفتار دی۔ قوم انہیں محسنِ پاکستان کہتی ہے کیونکہ انہوں نے دنیا کی سخت پابندیوں اور خفیہ نگرانی کے باوجود پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آج بھی پاکستانی عوام کے دلوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے بے پناہ احترام موجود ہے کیونکہ وہ قومی خودمختاری کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف سائنسدان کسی ملک کو ایٹمی قوت نہیں بنا سکتے۔ اس کے لیے سیاسی قیادت کا مضبوط اور بہادر ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔

1998 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان پر شدید دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ جوابی دھماکے نہ کرے۔ معاشی پابندیوں، امداد بند ہونے اور عالمی تنہائی کے خدشات موجود تھے۔ ایسے نازک وقت میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے قوم کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا اور 28 مئی 1998 کو چاغی میں ایٹمی دھماکوں کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ اس کے نتائج صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور سفارتی بھی تھے۔ مگر نواز شریف نے قومی سلامتی اور وقار کو ترجیح دی اور پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔

یہاں ایک اور اہم حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے ہزاروں گمنام سائنسدان، انجینئرز، فوجی افسران اور ٹیکنیکل ماہرین بھی اس کامیابی کے اصل ہیرو ہیں۔ ان لوگوں نے برسوں خاموشی سے کام کیا، اپنی زندگیاں وقف کیں اور کبھی شہرت یا سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ قوم آج جن کامیابیوں پر فخر کرتی ہے، ان کے پیچھے انہی لوگوں کی محنت شامل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر قومی کامیابیوں کو سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ یومِ تکبیر بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوجاتا ہے۔ ایک طبقہ صرف نواز شریف کو ہیرو قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام لیتا ہے۔ کچھ لوگ بھٹو صاحب کو اصل معمار کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان تمام کرداروں کو ایک زنجیر کے مختلف حلقے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک حلقہ بھی کمزور پڑتا تو شاید پاکستان ایٹمی قوت نہ بن پاتا۔

یومِ تکبیر صرف ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، خودداری اور قربانی کی علامت ہے۔ آج جب پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے تو ہمیں یومِ تکبیر کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس دن ہمیں یہ سبق ملا تھا کہ جب پوری قوم ایک مقصد پر متحد ہوجائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔ بدقسمتی سے آج ہماری نئی نسل کو صرف سوشل میڈیا کی سطحی بحثوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ تھی۔ یہ پروگرام اس لیے بنایا گیا تاکہ دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرسکے۔ آج پاکستان کا دفاع مضبوط ہے تو اس کے پیچھے ان تمام لوگوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ملک کے لیے کام کیا۔

یومِ تکبیر کے اصل ہیرو دراصل وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ اس میں سیاسی قیادت بھی شامل ہے، سائنسدان بھی، افواجِ پاکستان بھی اور وہ عوام بھی جنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کا ساتھ دیا۔ قومیں صرف ایک فرد سے نہیں بلکہ اجتماعی کردار سے عظیم بنتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یومِ تکبیر کو صرف رسمی تقاریب اور بیانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس جذبے کو اپنی قومی زندگی میں دوبارہ زندہ کریں۔ اتحاد، محنت، دیانت اور قومی غیرت ہی وہ طاقت ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تھا اور یہی طاقت مستقبل میں بھی پاکستان کو مضبوط اور کامیاب بنا سکتی ہے۔

Check Also

Pakistan Abrahimi Moahide Par Dastakhat Kab Karega?

By Arif Anis Malik