China Ko Iran Jang Se Kya Faiday Milay, Kya Nuqsanat Hue?
چین کو ایران جنگ سے کیا فائدے ملے، کیا نقصانات ہوئے؟

چین نہ تو ایران جنگ میں براہِ راست شامل ہے اور نہ ہی وہ امریکا کی طرح خطے میں فوجی موجودگی رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی ہر تبدیلی اس کی معیشت اور عالمی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک طرف اس جنگ سے اسے سفارتی اور جغرافیائی فائد مل رہے ہیں اور دوسری جانب توانائی، تجارت اور عالمی معیشت سے وابستہ شدید خطرات بھی اس کے سامنے کھڑے ہیں۔
اس جنگ نے چین کو ایک ایسی ذمے دار عالمی طاقت کا کردار دیا ہے جو براہِ راست جنگوں میں کودنے کے بجائے ثالثی اور معاشی تعاون پر زور دیتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بحال کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ اب بھی بیجنگ خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کررہا ہے جو خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے مطابق ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک امریکا کی سیکورٹی گارنٹی پر پہلے جیسا اعتماد نہیں کررہے۔ اس صورتحال سے چین کو فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ عرب ریاستیں اب بیجنگ کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات مزید بڑھانا چاہتی ہیں۔
چین کے لیے ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ امریکا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں الجھ گیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں واشنگٹن کی پالیسی کا بڑا ہدف چین کا مقابلہ کرنا تھا۔ لیکن ایران جنگ نے امریکا کے فوجی، سیاسی اور سفارتی وسائل کا بڑا حصہ دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑ دیا ہے۔ اس سے چین کو بحرالکاہل میں نسبتاً زیادہ اسٹریٹجک گنجائش مل سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیجنگ اسی وجہ سے اس بحران پر نسبتاً محتاط مگر مطمئن دکھائی دیتا ہے۔
ایک اور فائدہ عالمی مالیاتی نظام سے متعلق ہے۔ چین طویل عرصے سے کوشش کررہا ہے کہ عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری کم ہو اور چینی کرنسی یوآن کا استعمال بڑھے۔ ایران پر مغربی پابندیوں کے باعث پہلے ہی چین اور ایران کے درمیان تجارتی لین دین یوآن میں ہورہے تھے۔ جنگ کے بعد اگر ایران مغربی مالیاتی نظام سے کٹ جاتا ہے تو چین کو متبادل مالیاتی ڈھانچا مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرنے کے بجائے انھیں نئے طریقوں سے برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔
ان فوائد کے ساتھ چین کو کئی سنگین نقصانات کا بھی سامنا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ توانائی کا ہے۔ چین دنیا میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی بڑی مقدار خلیج سے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی آئی ہے اور متاثرین میں چین شامل ہے۔
یہ صورتحال چین کے لیے انتہائی حساس ہے کیونکہ اس کی صنعتی معیشت سستی اور مسلسل دستیاب توانائی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق چین کی ایک تہائی سے زیادہ خام تیل کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ اگر بندش جاری رہی تو چینی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی معاشی سست روی کے باعث چینی برآمدات کی طلب بھی متاثر ہورہی ہے، جو پہلے ہی داخلی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی چین کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ چین نے اسٹریٹجک ذخائر اور قابلِ تجدید توانائی پر بہت سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اس کی معیشت اب بھی بڑی حد تک توانائی پر منحصر صنعتی ڈھانچے پر کھڑی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے چینی فیکٹریوں کے اخراجات بڑھتے ہیں، برآمدات مہنگی ہوتی ہیں اور اندرونِ ملک افراطِ زر بڑھ جاتا ہے۔
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو بھی اس جنگ سے خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ چین نے گزشتہ برسوں میں ایران، پاکستان، خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ بندرگاہیں، ریلویز، توانائی منصوبے اور تجارتی راہداریوں پر مشتمل یہ پورا منصوبہ خطے کے استحکام پر منحصر ہے۔ لیکن ایران جنگ نے ان راہداریوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا۔ کئی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں مسلسل کشیدگی رہی تو چین کو اپنی سرمایہ کاریوں کے تحفظ اور نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے۔
چین ایک اور مشکل توازن کا بھی شکار ہے۔ ایران اس کا اہم شراکت دار ہے لیکن خلیجی عرب ممالک بھی اس کے لیے اہم ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات چین کے بڑے تجارتی ساتھی ہیں، جبکہ اسرائیل کے ساتھ بھی چین کے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے روابط رہے ہیں۔ اس لیے بیجنگ کھل کر کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں کھڑا ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے اس معاملے میں جذباتی یا نظریاتی انداز کے بجائے محتاط انداز اختیار کیا ہے۔

