Kya Mashriq e Wusta Aik Nai Jang Ke Dahane Par Khara Hai?
کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے؟

دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ بیان میں ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں کوئی نیا معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران پر دوبارہ بڑے حملے کر سکتا ہے۔ یہ بیان صرف ایک سیاسی دھمکی نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اثر و رسوخ اور مختلف عسکری گروہوں کی حمایت کے معاملات پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ امریکی حکومت ایران سے سخت شرائط منوانا چاہتی ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور جوہری حقوق پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے بیان دیا کہ اگر ایران نے جلد کوئی معاہدہ نہ کیا تو امریکہ "بڑا حملہ" کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی مختلف تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں اور ایک نئی جنگ پورے خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم طاقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پاس نہ صرف مضبوط فوجی نظام موجود ہے بلکہ خطے میں اس کے اتحادی گروہ بھی سرگرم ہیں۔ دوسری جانب امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تصادم بڑھتا ہے تو یہ ایک محدود حملے سے بڑھ کر بڑے جنگی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں، اقوامِ متحدہ اور کئی مسلم ممالک مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ خلیج میں کسی بھی جنگ کا سب سے پہلا اثر عالمی آئل مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے اور اگر یہاں صورتحال خراب ہوتی ہے تو تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور مہنگائی کا شکار ہیں، اس بحران سے مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ پیٹرول، بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان اس صورتحال میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں شامل ہے۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے کیونکہ کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات براہِ راست جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف معیشت بلکہ سیکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی داخلی سیاست سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ امریکی انتخابات اور عالمی طاقت کے تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے سخت بیانات اکثر امریکی سیاست کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم ایران بھی ایسا ملک نہیں جو دباؤ میں آسانی سے جھک جائے، اسی لیے صورتحال انتہائی حساس ہوتی جا رہی ہے۔
عالمی برادری اس وقت یہی امید کر رہی ہے کہ سفارتکاری کامیاب ہو اور دونوں ممالک جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ ایک نئی جنگ صرف فوجی نقصان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں، عالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی ہے اور دنیا ایک بار پھر عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور ایران تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف ایک بڑے بحران سے بچا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن کی امید بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

