Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dua Abbas
  4. Maane Hamal Tareeqon Ke Istemal Mein Izafa, Wasail Ki Kami Aik Challenge

Maane Hamal Tareeqon Ke Istemal Mein Izafa, Wasail Ki Kami Aik Challenge

مانع حمل طریقوں کے استعمال میں اضافہ، وسائل کی کمی ایک چیلنج

صوبہ سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق شعور اور سہولیات میں بہتری کے باعث مانع حمل طریقوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم اس بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں محدود بجٹ اور وسائل اب بھی ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبے بھر میں 6 ہزار سے زائد سرکاری و نجی مراکز صحت اور 23 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے مانع حمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان سہولیات میں کنڈوم، انجیکشنز، آئی یو سی ڈی اور امپلانٹس سمیت مختلف طریقے شامل ہیں، جو نہ صرف مراکز صحت بلکہ محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی اور دیگر شراکت دار اداروں تک بھی پہنچائے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مانع حمل سہولیات کی دستیابی اس لیے اہم ہے تاکہ خواتین اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق طریقہ منتخب کر سکیں۔ اس سے نہ صرف بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ممکن ہوتا ہے بلکہ ماں اور بچے کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح 2018 میں 31 فیصد تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 41.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت سندھ نے 2030 تک اس شرح کو 57 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو خاندانی منصوبہ بندی کے عالمی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

آگاہی میں اضافے کے باعث زچگی کے رجحانات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں خواتین کی بڑی تعداد غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے گھروں میں زچگی کرواتی تھی، جو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی تھی۔ تاہم اب زیادہ تر خواتین مراکز صحت کا رخ کر رہی ہیں، جہاں محفوظ طبی سہولیات کے تحت ڈلیوری کی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں 72 فیصد زچگیاں طبی مراکز میں ہو رہی تھیں، جو 2024 میں بڑھ کر 85 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

زچگی کے بعد مانع حمل سہولیات کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق آئی یو سی ڈی کے استعمال میں 199.9 فیصد، اورل گولیوں میں 93.4 فیصد، انجیکشنز میں 5 فیصد جبکہ کنڈومز کے استعمال میں 384.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم اس پیش رفت کے باوجود مالی مسائل ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انجیکشن اور گولیوں کے علاوہ زیادہ تر مانع حمل سامان مقامی طور پر تیار نہیں کیا جاتا۔ آئی یو سی ڈی عالمی سطح پر محدود تعداد میں تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ امپلانٹس جرمنی سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کنڈومز چین، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے منگوائے جاتے ہیں، جس کے باعث درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس وقت سندھ میں مانع حمل ادویات اور سامان کی خریداری کے لیے سالانہ تقریباً 99 کروڑ روپے مختص ہیں، تاہم مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اس بجٹ کی حقیقی افادیت کم ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق 2030 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سالانہ 2 ارب روپے سے زائد درکار ہوں گے۔

یو این اے پی اے کے مطابق صوبے کو اس وقت تقریباً 46 کروڑ 20 لاکھ روپے کے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت کے مطابق مانع حمل ادویات کی دستیابی کو ممکن بنایا گیا، تو نہ صرف مانع حمل سامان کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی بلکہ زچگی کے بعد فیملی پلاننگ خدمات کو بھی وسعت ملے گی اور بچوں کی پیدائش میں وقفے سے متعلق آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

Check Also

Qaum Ke Maseeha Aur Gaon Ki Auratein

By Ali Akbar Natiq