Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Inam Ur Rehman
  4. Mera Lahore Mar Raha Hai

Mera Lahore Mar Raha Hai

میرا لاہور مر رہا ہے

جی ہاں لاہور واقعی مر رہا ہے۔ لاہور کے گردے فیل ہوچکے ہیں، اسکی نبضیں ڈوب رہی ہیں، یہ اپنے اور پرائے سیوریج میں ڈوب رہا ہے۔ اپنے بوجھ سے دھنس رہا ہے، یہ عمل حتمی، یکطرفہ اور ناقابل واپسی ہے اور اس کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پچھلے دس سال میں متعدد سٹڈیز نے کنفرم کیا ہے کہ لاہور مسلسل ایک سے چار انچ سالانہ دھنس رہا ہے۔

حقیقت بدصورت ہے، لیپا پوتی سے یاسطحی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ کبھی کسی مریض کو صرف ایکسرے یا لیب ٹیسٹ کرانے سے آرام نہیں آجاتا۔ لیب رزلٹ کی روشنی میں درست تشخیص، پرہیز، علاج، دوا یا سرجری بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک ان میں سے ایک کام بھی شروع نہیں ہوا، بلکہ، غلط تشخیص، بدپرہیزی، غلط علاج زوروں پر ہے۔

نقشے میں جو 1909 کا لاہور نظر آرہا ہے اسکا رقبہ اور آبادی 2026کے منڈی بہاؤالدین سے کم تھی۔ اب لاہور کا رقبہ اور آبادی دونوں 75 گناسے ذیادہ بڑھ چکے ہیں۔ وجوہات میں غلط فیصلے، احمقانہ پالیسیاں، قبضے، سوسائٹیاں، لالچ اور بھیڑچال سب خلط ملط ہے۔

تعمیرات کا بوجھ بھی ہے لیکن اصل سبب آبادی کا دباؤ ہے۔ مشرقی دریاؤں کا قدرتی ریچارج پون صدی پہلے کٹ چکا ہے جبکہ بھارتی ڈرینز کا زہریلا پانی مسلسل آرہا ہے۔ لاہور میں استعمال کیلئے سوفیصد پانی زمین سے نکالا جاتا ہے جس کی وجہ سے واٹر ٹیبل مسلسل گررہا ہے۔ ریچارج جتنا کرلیں اتنا کم ہے۔ لیکن اسی کے بہانے پورے دریا کو کنکریٹ کا جنگل بنایا جارہا ہے۔ ایک علیم خان نہیں سنبھالا جاتا تو پردہ نشین مگرمچھوں کو کون سمجھائے؟

ایسا ہے کہ ری چارجنگ ڈیڑھ دوسو فٹ تک کام کرتی ہے، اس سے نیچے بہت سست ہو کر رک جاتی ہے۔ لاہور اور اسکے نواح میں ہرماہ اوسطا ایک محسوس کن جبکہ دس بیس غیرمحسوس زلزلے آتے ہیں۔ جتنی دیر ریچارج اپنی "ٹریفک" میں پھنسا ہوتا ہے، زلزلے کا کوئی جھٹکا گہری زمین کو چند ملی میٹر دھنساکر گہری پمپنگ کے خلا کو پر کرکے ہمیشہ کیلئے ناکارہ کردیتا ہے۔

پرہیز تو یہ ہے کہ پانی کا استعمال اور ضیاع کم کریں۔ آبادی منتقلی کا دباؤ بھی روکنا ضروری ہے لیکن یہ پرہیز کی بجائے سرجری مانگتا ہے۔ سوسائٹیوں کے سیٹھ میڈیا اور حکومتیں چلاتے ہیں۔ پچھلے سیلاب کے دوران بھی دن رات ہاوسنگ کے اشتہار چلتے رہے اور کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ قبضہ مافیا پر انگلی اٹھاسکے۔ اسلئے ماحولیات کے بہانے بھی کسی نئی سوسائٹی کی واردات ڈل جاتی ہے۔ جیسے واٹر ٹیبل کے بہانے روڈا شروع ہوگیا حالانکہ روڈا صرف مسئلہ بڑھائے گا، کم ہر گز نہیں کرسکے گا۔ بے ہنگم آبادی کا دباؤ روکا جائے۔ فیصلہ سازی تکنیکی میرٹ پر ہو اور اس عمل میں سوسائٹی مالکان کے دخل کو لگام دی جائے۔ دوسوفٹ سےگہرے پمپس اور ٹیوب ویلز پر مکمل پابندی لگائیں، ہنگامی بنیادوں پر مرالہ سے لاہور کی پانی سپلائی بڑھائیں، نہری نیٹ ورک کی کپیسٹی اور شاخیں بڑھا کر ان سے منسلک اوپری سطح کی مسلسل مصنوعی ریچارجنگ کا بندوبست کریں۔ زیر زمین جذب کی سیزنل کپیسٹی کم ہے تو آبادی کے حساب سے سپلائی کے پانی کو اوپر سٹور کریں۔ د غفلت گنجائش نشتہ۔

دس سال میں لاہور مزید تین چار فٹ دھنسا تو کیا ہوگا؟ پہلی بات یہ کہ دھنسنے کے بعد واپسی ناممکن ہے، ابھی روک لیں یا دس سال بعد۔ لاہور کا قدرتی اور مصنوعی ڈرینیج سسٹم راوی بیڈ سے چند فٹ کی معمولی بلندی پر قائم ہے۔ لاہور کے ایلیویشن بینچ مارک انیسویں صدی سے کیلیبریٹ نہیں ہوئے۔ بادامی باغ کے جس بینچ مارک کو 697 فٹ لکھا جاتا ہے شائد وہ اب 687 سے بھی کم ہو۔ سیٹلائٹ سینسنگ خودٹھیک ہے لیکن اسے غلط مقامی بینچ مارکس سے کیلیبریٹ کریں تو ڈیٹا غلط ملے گا۔ اسلئے سب سے پہلے دھنستے لاہور کے سرکاری اور تاریخی ایلیویشن بینچ مارکس کا قبلہ درست کرلیں۔

اگلی بات یہ ہے کہ اگر شاھدرہ پل پہ ریور بیڈ سطح سمندر سے 665 فٹ بلندی پر ہے اور دس فٹ پانی ہو تو دریا کا لیول 675 فٹ ہوگا۔ جب لاہور دھنستا ہے تو پورے ڈرینیج سسٹم کی پرفارمنس کم ہوجاتی ہے۔ ہیڈ آدھا رہ جائے تو فلو تقریباََ چوتھائی رہ جاتا ہے، جس سے پانی بروقت نہیں نکل سکتا اور لکشمی چوک ہر بار پہلے سے ذیادہ ڈوبتا ہے۔ معصوم حکمران لمبے بوٹ یا کشتی لے کر بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن اصل مسئلہ یا اسکاحل بابو بھی نہیں جانتے۔ ٹی وی پر کوریج چلتی ہے اور بریک میں کسی نئی سوسائٹی کا اشتہار۔

جتنا بگاڑ اب تک ہوچکا ہے اسے یہیں روک لیں تب بھی پورے ڈرینیج سسٹم کی کپیسٹی بحال کرنے کیلئے صرف صفائی کافی نہیں۔ ہیڈ لاس کے بدلے نالے اور پائپ سیدھے اور چوڑے کرنے ہونگے، لیکن کچھ نہ کیا تو دس سال بعد صورتحال بدتر ہوگی اور بیس پچیس سال میں تو راوی منٹو پارک میں آبیٹھے گا۔

پرھیز، علاج اور سرجری تینوں ضروری ہیں۔ یہ کروڑوں لوگوں کے جان، مال اور مستقبل کا مسئلہ ہے، صوبائی حکومت کو عمل کیلئے صدر یا وزیراعظم کی اجازت نہیں چاہئے۔ وقت ضائع نہ کریں۔ معاملے کو نکمے بابوؤں پر نہ چھوڑیں، یہ وقت اور پیسہ برباد کرتے ہیں، تکبر اتنا ہے کہ اول تو سنتے نہیں، کچھ پلے پڑے تو غریب کی محنت چوری کرکے اپنے نمبر بنالیتے ہیں، پھر فنڈ اور ڈیزائن چوپٹ کرکےپرلوک سدھار جاتے ہیں۔

Check Also

Munafiqat Ki Dehleez Aur Rishton Ka Noha

By Muhammad Anwar Bhatti