Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Munafiqat Ki Dehleez Aur Rishton Ka Noha

Munafiqat Ki Dehleez Aur Rishton Ka Noha

منافقت کی دہلیز اور رشتوں کا نوحہ

بندن میاں اجداد کی وراثت میں ملی لکڑی کی پرانی آرام دہ کرسی پر نیم دراز ہیں، ہاتھ میں تسبیح کے دانے مروڑے جا رہے ہیں اور نگاہیں سامنے صحن میں چلتی پھرتی زندگی کے تماشے پر ٹکی ہیں جہاں دھوپ اور چھاؤں کا ایک عجیب کھیل جاری ہے جو ہر روز ہمارے گھروں کے بند کواڑوں کے پیچھے کھیلا جاتا ہے اور کوئی اس پر لب کشائی کی زحمت نہیں کرتا۔ وہ اپنی عینک کو ناک کی ڈنڈی پر تھوڑا اوپر سرکاتے ہیں ایک گہرا اور سرد سانس بھرتے ہیں اور ان کے چہرے کی جھریاں گہری ہو جاتی ہیں جیسے ان میں صدیوں کا درد، زمان و مکاں کے مصائب اور تاریخ کی ناانصافیوں کے نقش ثبت ہو چکے ہوں اور وہ خاموش زبان سے اس بے حس بستی کے باسیوں کو پکار رہے ہوں۔

معاشرے کی اس دو رخی، اس منافقت، اس بوقلمونی اور اس تضاد بیانی پر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے جو عورت کو صنفِ نازک تو کہتا ہے اسے تقدس و عفت کے اعلیٰ میناروں پر بھی بٹھاتا ہےمہر و وفا کی دیوی بھی گردانتا ہے لیکن جب اسی عورت کے حقوق، اس کی ذات، اس کی انا اور اس کے وجود کا معاملہ کڑے وقت کی ترازو پر تولا جاتا ہے تو انصاف کے سارے پلڑے یکسر الٹ جاتے ہیں اور مرد سوسائٹی کا خود ساختہ معیارِ حق حرکت میں آ جاتا ہے۔

بندن میاں اجرت و سلوک کے اس معاشرتی فلسفے پر غور کر رہے ہیں جو خونی رشتوں اور سسرالی رشتوں کے درمیان تفریق کی ایک ایسی خونی لکیر کھینچ دیتا ہے جسے پار کرتے ہی محبتیں عداوتوں میں، شبنمِ الفت انگاروں میں اور شفقتیں ظلم و ستم کے مہیب و تاریک سایوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ وہی چہرے ہیں جو ابھی کل تک تقدس کے دعویدار تھے۔

صنفِ واحد کے اس المیے کو وہ روز دیکھتے ہیں روز جیتے ہیں اپنے اردگرد کی فضاؤں میں اس کا زہر گھلتے پاتے ہیں اور روز ہی اپنے قلم کے تیکھے پن سے معاشرے کے اس ناسور کو کریدنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا علاج تاحال ہماری خود غرضی کے باعث دریافت نہیں ہو سکا اور ہم مسلسل اس بیماری کو پال رہے ہیں۔ عورت اس روئے زمین پر خدا کی تخلیق کا سب سے خوبصورت، معتبر، مستحکم اور لاجواب مظہر ہے وہ بیک وقت ماں بھی ہے جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی اور جس کی دعا عرشِ الٰہی کو ہلا دیتی ہے وہ بہن بھی ہے جو غیرت، حیا، خلوص اور بے غرض محبت کا ایک انمول و ناپید استعارہ ہے وہ بیٹی بھی ہے جو رحمت الٰہی کا سایہ بن کر کسی بھی آنگن کو اپنے معصوم قہقہوں، لوریوں اور پاکیزہ وجود سے منور و جاندار کرتی ہے اور باپ کے ماتھے کا جھومر بنتی ہے۔ لیکن تماشائے جہاں دیکھو اور اس بستی کے قاضیوں کا انصاف ملاخطہ کرو کہ یہی رحمت، یہی عظمت، یہی رفعت اور یہی تقدس اس وقت ایک جرمِ بے گناہ، ایک عیبِ عظیم اور ایک ناقابلِ معافی بوجھ بن جاتا ہے جب وہ کسی دوسرے کے گھر کی دہلیز پار کرکے بہو کے روپ میں داخل ہوتی ہےجہاں اس کے حقوق کا تعین اس کے اخلاق، اس کی اعلیٰ تعلیم، اس کی خاندانی شرافت یا اس کے مہر و محبت سے نہیں بلکہ اس کے بطن سے پیدا ہونے والے وجود کی جنس سے کیا جاتا ہے جو کہ سراسر قدرت کا کارخانہ ہے۔

بندن میاں معاشرے کی اس تنگ نظری اور فکری پستی پر شدید حیرت زدہ ہیں کہ جب انسان کی اپنی بیٹی بیٹیاں جنے، جب اپنے خون کی لکیر آگے بڑھانے کے لیے ردا کی وارثیں پیدا ہوں تو اسے مصلحتِ خداوندی، تسلیم و رضا، صبر و شکر کا مقام اور اللہ کی مرضی کہہ کر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے اور اس میں کوئی برائی، کوئی عیب، کوئی خامی یا کوئی قباحت نظر نہیں آتی، بلکہ وہاں بیٹی کو اللہ کی خاص رحمت قرار دے کر دل کو تسلی دی جاتی ہے اور مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ مگر جوں ہی وہی معاملہ بہو کا ہو، جوں ہی وہ پرائی بیٹی جو اب بہو بن کر اس گھر کا حصہ بن چکی ہے اور اپنا سب کچھ تیاگ آئی ہےاگر وہ اتفاق سے بیٹا نہ جنے تو پورے گھر میں ایک کہرام مچ جاتا ہے سسرال کے در و دیوار طعنوں، ملامتوں اور تحقیر کے تیروں سے گونج اٹھتے ہیں طلاق اور دوسری شادی کی دھمکیاں سرِعام ہوا میں لہرانے لگتی ہیں اور اس مظلوم عورت کو ایک ایسے گناہ کی پاداش میں مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے جس میں اس کا اپنا کوئی اختیار، کوئی ارادہ، کوئی حیاتیاتی عمل دخل یا کوئی قصور ہی نہیں ہوتا۔

یہ کیسی جہالت ہے، یہ کیسا تضاد ہے، یہ کیسی فکری پسماندگی اور یہ کیسی بدبختانہ ذہنیت ہے جو ایک ہی مٹی سے بنی دو عورتوں کے درمیان اتنی بڑی خلیج حائل کر دیتی ہے کہ اپنی بیٹی رحمتِ خداوندی اور دوسرے کی بیٹی زحمتِ جان بن جاتی ہےگویا خدا کا قانون اپنی بیٹی کے لیے الگ ہے اور دوسرے کی بیٹی کے لیے الگ تماشہ بن جاتا ہے۔

بندن میاں اس منافقت کی گہرائیوں میں اترتے ہوئے معاشرے کے ایک اور بدصورت اور کریہہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں جو رشتوں کے تقدس کو اپنی خود غرضی کے ترازو میں تولتا ہےجہاں داماد اگر بیٹی کا خیال رکھے اس کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا پاس کرے اس کی راحت و آرام کے لیے دن رات ایک کر دے اس کی بیماری میں اس کا تیماردار بنے کچن کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائے اور اس کے ناز نخرے اٹھائے تو ساس اور سسر کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے وہ فخر سے پورے خاندان، برادری اور پڑوس میں ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہمیں تو ہیرا مل گیا ہے داماد تو بیٹوں سے بڑھ کر نکلا ہے کتنا اچھا داماد ہے جو ہماری بیٹی کو پلکوں پر بٹھا کر رکھتا ہے اور اسے شہزادیوں کی طرح زندگی گزارنے کے اسباب فراہم کرتا ہے اور خدا ایسے شوہر ہر بیٹی کو نصیب کرے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھو جو اتنا ہی بھیانک، تاریک، اذیت ناک اور لرزہ خیز ہے کہ اگر وہی بیٹا اپنی بیوی کی خدمت کرے، اپنی اس شریکِ حیات کا خیال رکھے جو اپنا سب کچھ، اپنے شفیق ماں باپ، پیارے بہن بھائی، بچپن کا سکھ چین، سہیلیاں اور اپنا پورا مان چھوڑ کر صرف اس کے نام کے سہارے اس کے گھر آئی ہےاگر وہ اس کی تھکن کا احساس کرے اس کے دکھ سکھ میں اس کا حقیقی مونس و غمخوار بنے اور اس کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو یہی معاشرہ، یہی ماں باپ اور یہی سسرال اسے فوراً۔۔ زن مرید۔۔ کا شرمناک خطاب دے کر ذلیل و رسوا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسے صبح و شام جلی کٹی سنائی جاتی ہیں اسے طعنہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو بیوی کا غلام بن گیا ہے اس کی مت ماری گئی ہے یہ اپنی بوڑھی ماں اور معصوم بہنوں کو بھول گیا ہےاس کی مردانگی مر چکی ہے اور اس پر جادو ٹونے تعویز گنڈوں کے مضحکہ خیز الزامات تک عائد کر دیے جاتے ہیں گویا بیوی کی دیکھ بھال کرنا، اس سے محبت کرنا، اس کے حقوق ادا کرنا اور اس کا دل جوئی کرنا مردانگی کے اصولوں کے خلاف اور ایک ناقابلِ معافی خاندانی جرم بن جاتا ہے۔

بندن میاں تاسف سے سر ہلاتے ہیں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کس قدر بیمار، نفسیاتی طور پر مفلوج اور دوغلے معاشرے کے باسی ہیں جہاں ایک ہی فعل ایک رشتے میں نیکی اور دوسرے رشتے میں عیب بن جاتا ہے جہاں ہم اپنی بیٹی کے لیے تو ایک غلام صفت، مطیع اور فرمانبردار شوہر کی تمنا کرتے ہیں لیکن اپنے بیٹے کے لیے ایک فرعون صفت، جابر، سنگدل اور حاکم شوہر بننے کی توقع رکھتے ہیں جو بیوی کو جوتی کی نوک پر رکھے۔ اس ساس، بہو اور بیٹی کے مثلث نما کردار پر جب بندن میاں اپنی پختہ اور سنجیدہ فکر کی روشنی ڈالتے ہیں تو معاشرتی نفسیات کے کئی تاریک گوشے روشن ہو جاتے ہیں جہاں ساس کا کردار جو خود کبھی بہو تھی اور انھی تمام مراحل، انھی تمام ظلم و ستم، انھی طعنے تشنے اور اسی کڑے دور سے گزر چکی ہوتی ہے وہ ساس بنتے ہی اپنے ماضی کے تمام دکھوں، محرومیوں اور زخموں کا بدلہ اس معصوم و نابلد بہو سے لینا شروع کر دیتی ہے جو ابھی نئے گھر میں قدم رکھ کر نئے خواب بن رہی ہوتی ہے۔

ساس اپنے اس حاکمانہ منصب پر بیٹھ کر یہ بالکل بھول جاتی ہے کہ بہو بھی تو کسی کی بیٹی ہے وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہے جسے کسی تڑپتی ماں نے بیس پچیس سال ناز و نعم سے پالا ہےجس کے اچھے بخت کے لیے راتوں کو اٹھ اٹھ کر گریہ و زاری کی ہے اور دعائیں مانگی ہیں اور جس کو الوداع کہتے وقت اس کے بوڑھے باپ کی آنکھیں اشکبار اور دل ویران ہوگیا تھا۔ بہو تو اصل میں اس گھر کی بیٹی ہونی چاہیے تھی کیونکہ وہ اپنا سب کچھ لٹا کر اس نئے گھر کو آباد کرنے، اسے اپنا خون دینے اور اسے رونق بخشنے آئی ہے وہ اپنے وجود کو مٹا کر اس خاندان کے نام کو آگے بڑھانے کی گرانقدر ذمہ داری اٹھاتی ہے لیکن اسے ایک ملازمہ، ایک باہری وجود، ایک مستقل خطرہ اور ایک رقیب سمجھ کر دیوار سے لگا دیا جاتا ہے اس کی ہر بات، هر حرکت، ہر مسکراہٹ پر نکتہ چینی کی جاتی ہے اس کے لباس، اس کے اٹھنے بیٹھنے، اس کے بولنے، اس کے مائکے والوں کے طور طریقوں اور اس کے پکانے پر روز ایک نئی پنچائت اور عدالت سجائی جاتی ہے جہاں ساس جج بن کر ظالمانہ فیصلہ سناتی ہے اور نادان شوہر جلاد بن کر اس فیصلے پر عمل درآمد کرتا ہے اور اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔

اسی صحن کے ایک گوشے میں بندن میاں کی نظر اب نند کے اس کردار پر پڑتی ہے جو اس سلگتے ہوئے ڈرامے کا ایک اور اہم اور انتہائی تلخ ترین رخ ہےجہاں وہ نند جو خود ایک بیٹی ہے اور جو اس گھر میں بہن کے مقدس روپ میں موجود ہےاپنی اس نئی آنے والی بھابھی کے ساتھ وہ رویہ اختیار کرتی ہے جو سراسر تکبر اور حسد پر مبنی ہوتا ہے اس کا برتاؤ بھابھی کے ساتھ ہرگز بہنوں جیسا نہیں ہوتا بلکہ وہ گھر میں مقتدر اعلیٰ کی چھوٹی کارندے کا روپ دھار لیتی ہے۔ وہ نند جو اپنے بھائی کی لاڈلی ہےچن چن کر بھابھی کے خلاف ساس کے کان بھرتی ہے اس کے کاموں میں کیڑے نکالتی ہے اس کے مائکے سے لائے گئے ساز و سامان اور جہیز کا تمسخر اڑاتی ہے اور بھائی کے دل میں اپنی شریکِ حیات کے خلاف بدگمانی کے بیج بوتی ہے حالانکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ وہ خود بھی ایک عورت ہے اور اسے بھی قدرت کے اٹل قانون کے تحت ایک دن اسی طرح بہو بن کر اس گھر کی دہلیز پار کرنی ہے اور کسی دوسرے انجان آنگن کو اپنا مسکن بنانا ہے۔

بندن میاں نند کی اس فکری غفلت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ آخر یہ لڑکیاں یہ حقیقت کیوں فراموش کر دیتی ہیں کہ کل کلاں کو جب وہ اپنے سسرال جائیں گی تو وہاں ان کا پالا بھی تو نندوں سے پڑے گا وہاں بھی کوئی ان کی معصومیت کا تماشہ بنائے گا وہاں بھی ان کے جذبات کو اسی طرح کچلا جا سکتا ہے جیسے وہ آج اپنی بھابھی کے جذبات سے کھیل رہی ہیں مگر افسوس کہ سسرال جانے کی یہ حتمی سچائی اور نندوں سے پالا پڑنے کا یہ تازیانہ وہ اپنے وقتی غلبے اور گھریلو سیاست کے نشے میں یکسر بھلا بیٹھتی ہیں اور مکافاتِ عمل کے اس خوفناک پہیے کو یاد نہیں رکھتیں جو گھوم کر واپس انھی کی طرف آنے والا ہے۔

بات صرف ساس اور نند کے معاندانہ گٹھ جوڑ تک ہی محدود نہیں رہتی، بلکہ بندن میاں اب اس بھیانک اندرونی سازش پر قلم اٹھاتے ہیں جو مشترکہ خاندانی نظام میں دیورانی اور جٹھانی کے روپ میں جنم لیتی ہے جہاں ساس اور نند کے ساتھ مل کر یہ بڑی یا چھوٹی بہوئیں جنھیں مہر و اخوت کا نمونہ ہونا چاہیے تھا خود غرضی اور رقابت کی ایسی بساط بچھاتی ہیں کہ نئی آنے والی بہو کے لیے پورا گھر دوزخ کا نمونہ بن جاتا ہے۔ ساس، نند، جٹھانی اور دیورانی یہ چاروں ایک ہی صنفِ واحد یعنی عورت کے روپ ہیں لیکن تماشہ دیکھیے کہ ایک عورت ہی دوسری عورت کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے اور ان چاروں کے اس گٹھے ہوئے منفی کردار، روز روز کی چغل خوریوں، تکرار، طعنہ زنی اور ذہنی تشدد کے سبب گھر کی فضا اس نہج پر پہنچ جاتی ہے کہ دو تین معصوم بچوں کی پیدائش کے بعد بھی جب رشتوں کو سب سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے تھا ہنستا کھیلتا گھرانہ اجڑ جاتا ہے اور نوبت طلاق کے مہیب اندھیروں تک جا پہنچتی ہے۔

اس سارے خاندانی دنگل اور انا کی جنگ میں سب سے بڑا ستم ان معصوم، بے گناہ اور پھول جیسے بچوں پر ٹوٹتا ہے جن کا نہ کوئی قصور ہوتا ہے نہ کوئی گناہ مگر وہ ایک ایسی کڑی سزا کاٹنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں جو ان کی پوری زندگی کو نگل جاتی ہے اگر وہ عدالتوں کے چکر کاٹ کر ماں کے پاس رہ جائیں تو باپ کی شفقت، اس کے سائے اور اس کے دلاسے سے یکسر محروم ہو کر پسماندگی کی دلدل میں گر جاتے ہیں اور اگر وہ باپ کی تحویل میں دے دیے جائیں تو ماں کی آغوشِ محبت، اس کی لوریوں اور اس کی بے پناہ ممتا کی تڑپ ان کے معصوم ذہنوں کو عمر بھر کے لیے اپاہج بنا دیتی ہے۔ یہ بچے جیتے جی ایک طرح سے یتیمی اور یسیری کی زندگی کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کا بچپن اس خاندانی جنگ کی نذر ہو جاتا ہے اور بندن میاں اس المناک حقیقت پر نوحہ کناں ہیں کہ یہ کیسا بدترین معاشرتی المیہ ہے جہاں ایک عورت ہی دوسری عورت کا سہاگ، اس کا سکھ اور اس کا گھر بار اجاڑنے کی ذمہ دار بنتی ہے جبکہ دوسری طرف مرد اس پورے تماشے میں ایک تماشائی کی طرح مفلوج اور گونگا بہرا بنا رہتا ہے وہ ماں، بہن اور بیوی کے انھی خونی و ازدواجی رشتوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو جاتا ہے اور اس کے پاس اس سارے بگاڑ کو روکنے کا نہ تو کوئی حوصلہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی تدبیر۔

بندن میاں کی یہ پختہ اور دور اندیش فکر اب اس بھیانک اندھیرے سے نکل کر ایک روشن، حکیمانہ اور پائیدار حل کی طرف سفر کا آغاز کرتی ہے جہاں وہ اس خاندانی ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے واضح تدابیر پیش کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ اس تباہی کا واحد اور حتمی حل یہ ہے کہ مرد کو سسرال کی سیاست سے بالاتر ہو کر اپنے گھر کا حقیقی حاکم، منصف اور پاسبان بننا ہوگا اسے ساس، نند اور جٹھانیوں کی لگائی بجھائی پر کان دھرنے کے بجائے اپنی عقل اور انصاف کی ترازو پر ہر معاملے کو تولنا ہوگا اور اپنی بیوی کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا تاکہ کوئی اس کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کر سکے۔

دوسری طرف عورتوں کو، چاہے وہ ساس ہوں، نندیں ہوں، دیورانی ہو یا جٹھانی اس ابدی حقیقت کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ بہو بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا اور ایک قابلِ احترام بیٹی ہےجب تک عورت دوسری عورت کے وجود، اس کے حقوق اور اس کے جذبات کا احترام کرنا نہیں سیکھے گی جب تک ساسیں اور نندیں مکافاتِ عمل کے اس کوڑے سے نہیں ڈریں گی کہ جو گڑھا وہ آج دوسری بیٹی کے لیے کھود رہی ہیں کل ان کی اپنی بیٹیاں بھی اسی کا شکار ہوں گی تب تک گھرانوں میں سکون کا آنا ناممکن ہے۔

تربیت کا یہ نظام اب اپنے عروج پر پہنچتا ہے جہاں بندن میاں ایک بزرگانہ اور دردمندانہ جلال کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو جھنجھوڑتے ہوئے پکارتے ہیں کہ بچوں کے مستقبل کو انا کی قربان گاہ پر چڑھانے سے باز آ جاؤ، اپنے گھروں کو طلاق کی لعنت سے بچانے کے لیے برداشت، درگزر، خاموشی اور سچی محبت کو اپنا شعار بناؤ کیونکہ رشتوں کی اصل خوبصورتی اور اس کائنات کی بقا صرف اور صرف ایک دوسرے کی عزت، حقوق کی پاسداری اور خالص انسانی ہمدردی میں پنہاں ہےاور یہی وہ واحد سبق ہے جو اگر ہم نے آج نہ سیکھا تو ہماری نسلیں یتیمی کے سائے میں سسکتی رہیں گی اور تباہی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔

Check Also

Kya Mashriq e Wusta Aik Nai Jang Ke Dahane Par Khara Hai?

By Tehreem Ashraf