Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Akbar Natiq
  4. Qaum Ke Maseeha Aur Gaon Ki Auratein

Qaum Ke Maseeha Aur Gaon Ki Auratein

قوم کے مسیحا اور گائوں کی عورتیں

ہمارے گائوں 32 ٹو ایل اوکاڑہ میں ایوب دور میں ڈسپنسری تو بن گئی مگر ڈسپنسر نہ ملا۔ گائوں میں اُن دِنوں گل بات والا آدمی میاں شفیع ہوتا تھا۔ وہ ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر سے ملا اور کہا ہمیں گائوں کی ڈسپنسری کے لیے ایک ڈسپنسر دے دیں۔ تب اوکاڑہ تحصیل ہوگئی تھی اور یہاں ایک ہسپتال بھی تھا۔ ڈی سی صاحب نے ہسپتال کے ڈاکٹر کو حکم دیا، شفیع صاحب کے گائوں میں ایک کمپوڈر بھیج دو۔ اُس نے اپنے ہسپتال کے ملازموں کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ وہاں ایک حواس باختہ ڈسپنسر ہے جو کئی مریضیوں کو پانی کے انجیکشن لگا چکا ہے، کئی مریضوں کو دوسرے مریضوں کی دوائیاں کھلا چکا ہے اور انجیکشن بھی ایک مریض کا دوسرے مریض کے ٹھونک دیتا ہے۔ غرض ہسپتال میں اُس کی کارکردگی تسلی بخش تھی۔ اُس نے وہی کمپوڈر یا ڈسپنسر کہہ لیں، ہمارے گائوں میں بھیج دیا۔ یہاں وہ ڈاکٹر کہلانے لگا۔ اِس کا نام ڈاکٹر سعید تھا۔

ڈسپنسری میں اِکا دُکا مریض آتے تھے، اُن کی بیماری میں خدا برکت دینے لگا اور ساتھ نئی بیماریاں بھی تحفہ میں پیش کرتا۔ اُس کی خصوصیت یہ تھی کہ بیماری کی تشخیص تو ٹھیک کرتا مگر دوائی دینے میں خلاقی سے کام لیتا۔ یعنی اکثر کو اُسی پانی سے ٹیکہ لگا دیتا جو سرنج دھونے کے لیے استعمال کرتا، بعض کو شربت کی بجائے ٹنکچر پلا دیتا۔ بعض دفعہ چیک مریض کو کرتا لیکن دوائی اُس کے ورثا کو پینے کا حکم دے دیتا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ مریض کو چیک کرنے کے بعد اُس کے لیے میڈیسن لینے کے لیے سٹور میں داخل ہوتا اور بھول جاتا کہ باہر مریض بیٹھا ہے، وہیں اندر کرسی پر بیٹھ کر سو جاتا۔

رات کو گھر میں سونے کی بجائے چارپائی ہمیشہ بازار میں ڈال کر سوتا تھا۔ ایک بار اُسے کسی نے مذاق میں کہا، تم یہاں لیٹنے ہو، اِدھر دریا چڑھ آیا ہے۔ اُس نے اپنی چارپائی سر پر اٹھائی اور ساتھ والے گائوں نکل گیا، وہاں بازار میں ڈال کر سو گیا۔ اُنھوں نے دیکھا کہ رات یہ کون اِدھر آن کے بازار میں لیٹ گیا ہے۔ جب اُسے جگایا تو کہنے لگا مَیں تو بچ گیا ہوں لیکن 32 گائوں والے سارے ڈوب گئے ہیں۔ اُن کی خبر لو۔

یہاں اُس کی شاگردی میں ایک لڑکا داخل ہوگیا۔ بعد میں ہمارے گائوں کا وہ مشہور ڈاکٹر بنا۔ اُسے ڈاکٹر فرید کہتے تھے۔ تمام گائوں کے مرد و زن اور بچوں کا وہی مسیحا تھا اور اتنی شہرت پکڑی کے خود شہر سے مریض ہمارے گائوں آنے لگے۔ اُس نے اپنے گھر کے کمرے کو کلینک میں بدل لیا تھا، چائے بھی پلاتا تھا، باتیں بھی سناتا تھا اور اپنے اُستاد کے معجزے بھی بیان کرتا تھا۔ اُس کے پاس تین چار شربت کی شیشیاں تھیں اور دو چار قسم کی گولیاں تھیں جن کے رنگ مختلف تھے۔ وہی پُڑی میں باندھ دیتا اور شربت وہیں بیٹھے بیٹھے دو ڈھکن پلا دیتا۔ میری زندگی میں اُس نے وہ میڈیسن تبدیل نہیں کی، ہر قسم کے مریض کی شفا کے لیے کافی تھیں۔ اب وہ ڈاکٹر فرید پچھتر برس کا ہے، فالج ہو چکا ہے، لیکن آج بھی عورتیں اُسی کے پاس علاج کے لیے جاتی ہیں، اپنے بچوں کو لے جاتی ہیں اور وہ لیٹے لیٹے اُنھی دوائیوں سے اُن کا علاج کرتا ہے۔ اگر کوئی ہمارے گائوں کی عورتوں کو سمجھانا چاہے کہ اب اپنا ڈاکٹر بدل لیں، یہ ڈاکٹر فرید تو زمانہ جاہلیہ کا دھوکا تھا تو وہ ہنس کر سمجھانے والے کو پاگل کہتی ہیں اور آگے گزر جاتی ہیں۔

بھائی لوگو میرا اِس کہانی سنانے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ مجھے تو بس کہانی سنانے کی علت ہے اور مَیں گائوں کی عورتوں کی طرح قوم کے ہر قسم کے مسیحاوں کا معترف ہوں۔ لہذا اِس کہانی کو کسی پر طنز نہ سمجھیے گا۔

Check Also

Qaum Ke Maseeha Aur Gaon Ki Auratein

By Ali Akbar Natiq