Sigmund Freud: University Ka Zamana Aur Cocane Ki Kahani (2)
سگمنڈ فرائڈ: یونیورسٹی کا زمانہ اور کوکین کی کہانی (2)

انیسویں صدی کے آخر تک طبی ماہرین کا خیال تھا ہسٹیریا صرف عورتوں میں پائی جانے والی بیماری ہے۔ یہ ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہسٹیریا کا تعلق رحم سے ہے۔ 1886 میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے ہسٹیریا کی مریضہ کی بچہ دانئی علاج کی خاطر نکال دی۔ لندن، وی آنا اور ہائیڈل برگ میں ڈاکٹر Clitoris کو آپریشن کے ذریعے کاٹنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ ہسٹیریا کا علاج ہوسکے۔ ایک عورت کی بچہ دانئی کو کاٹنے کا تصور کیجئے۔ روح کانپ اٹھتی ہے لیکن پھر سگمنڈ فرائڈ آیا اور سب بدل دیا۔
فرائڈ نے ثابت کیا کہ ہسٹیریا کا عورت کے رحم سے کوئی تعلق نہیں۔ مرد بھی ہسٹیریا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب سگمنڈ فرائڈ کی جوزیف بروئیر سے ملاقات میں ہے۔ ڈاکٹر جوزیف بروئیر سے فرائڈ کی ملاقات اس کی زندگی کا سب سے اہم موڑ تھا۔ اس ملاقات نے سب بدل کر رکھ دیا یہاں تک کہ جدید علم نفسیات کی بنیادیں بھی اس ملاقات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ سگمنڈ فرائڈ بڑا انسان کیوں تھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے!
جدید نفسیات کا جب بھی ذکر کیا جاتا ہے یہ فرائڈ کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں؟ یہ سوال اتنا اہم ہے کہ اس کا جواب جانے بغیر فرائڈ کی عظمت کو جان پانا بہت مشکل ہے۔ فرائڈ کی جوزیف بروئیر سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ میڈیکل کی ڈگری حاصل کرچکے تھے۔ جلد ہی یہ ملاقات دوستی میں بدل گئی۔ جوزیف بروئیر فرائڈ سے 14 سال بڑے تھے اور بطور محقق اور طبیب خاصی شہرت کما چکے تھے۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو بروئیر نے فرائڈ کو شادی کے لئے کچھ پیسہ بھی ادھار دیے تھے۔ اپریل 1886 میں سگمنڈ فرائڈ نے شادی کی اور اس کے بعد دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہا۔
بروئیر سے دوستی کے بعد فرائڈ کو معلوم ہوا کہ وہ ایک ہسٹیریا کی مریضہ جس کا نام اینا-او ہے اس کا علاج کرچکے ہیں۔ فرائڈ کا جوزیف برائیر سے ملنا اور برائیر کے ذریعے اینا-او کے مرض کے بارے میں جاننا یہ وہ واقعات تھے جو آگے چل کر تحلیل نفسی مکتبہ فکر کی بنیاد بنے۔ برائیر نے اینا-او کا علاج کرنا اس وقت شروع کیا تھا جب فرائڈ خود میڈیکل کے اسٹوڈنٹ تھے۔
یہ برائیر تھے جنھوں نے پہلی مرتبہ تحلیل نفسی کے طریقہ کار کا اینا-او پر استعمال کیا۔ اینا-او 21 سال کی خوبصورت، خوبرو اور دلکش دوشیزہ تھی۔ اس لڑکی میں کچھ ایسی علامات تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں پائی جاتی تھیں۔ کبھی اس کے ہاتھوں اور کبھی اس کے پاؤں کو فالج ہو جاتا۔ بعض دفعہ اسے دیکھنے اور بات کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ کبھی اینا-او کا ذہنی توازن بگڑ جاتا اور کبھی یاداشت کمزور پڑجاتی۔ علاج کو دوران جوزیف برائیر کو معلوم ہوا اینا-او کا مسئلہ جسمانی نہیں ہے۔ دراصل یہ عورت اپنے اندر کچھ ایسے جذباتی تضادات کا مجموعہ جمع کیے بیٹھی ہے جو اس کی نارمل زندگی کو متاثر کررہے ہیں۔ جوزیف برائیر نے اینا اور ہپناٹز کیا اور ان حالات کو یاد کرنے کا مشورہ دیا جب اس نے پہلی مرتبہ ان علامات کو محسوس کیا تھا۔ اینا او جوں جوں ان خیالات کا اظہار کرتی رہی وہ خود کو پہلے سے کافی بہتر محسوس کرتی۔
اس سارے قضیے سے برائیر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایسے تلخ جذبات جن کو بیان کرنا مشکل ہو وہ اپنا اظہار مختلف جسمانی امراض کی شکل میں کرتے ہیں۔ ایسے جذبات جب شعوری کی سطح سے ہوتے ہوئے نتھرے انداز میں ظاہر ہوتے ہیں تو ان میں موجود منفی انرجی خود بخود زائل ہو جاتی ہے۔ جوزیف برائیر نے اس طریقہ علاج کو "کتھارٹک میتھڈ" کا نام تھا جو ارسطو کی اصل اصطلاح "کتھارسس" سے مستعار لیا گیا ہے جس کا مطلب پاک کرنا ہے۔ اینا او نے اس طریقہ علاج کو "Talking Cure" کا نام دیا۔
برائیر نے اینا-او کا علاج دسمبر 1880 میں شروع کیا جو جون 1882 تک جاری رہا۔ 16 مہینوں کے اس علاج کے دوران دونوں جذباتی طور پر ایک دوسرے کے قریب آنے لگے یہاں تک جوزیف برائیر خود بھی اینا-او کے قریب ہونے لگے جس کا ان کی پروفیشنل لائف اور خاندانی زندگی پر گہرا اثر پڑنے لگا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے ڈاکٹر برائیر نے اینا-او کے علاج کو روکنے کا فیصلہ کردیا۔ اینا-او کا اصل نام بیرتھا پاپن ہائیم تھا۔ جوزیف برائیر کے علاج نے اس کو نارمل زندگی کی جانب لوٹنے میں بہت مدد کی تھی یہی وجہ کہ بعد میں وہ جرمنی میں ایک اہم سوشل ورکر بن کر سامنے آئی۔
یہ یورپین فیمنسٹ تحریک کی لیڈران میں بھی شامل رہی۔ اس نے غریبوں کے لئے سکول بھی کھولے اور عورتوں کے حقوق کی بات کی۔ یہ ایک جگہ پر کہتی ہیں: "اگر اگلی زندگی میں کبھی انصاف ہوا تو عورتیں اپنے ہاتھوں سے قانون لکھیں گی اور مرد بچوں کی دیکھ بھال کریں گے"۔ یہ غلامی کے خلاف بھی آواز بلند کرتی رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اینا-او ساری زندگی تحلیل نفسی کی مخالفت کرتی رہی یہاں تک وہ اپنے ارد گرد موجود لڑکیوں کو بھی اس طریقہ علاج سے منع کرتی رہیں۔ کیوں؟ شاید وہ جوزیف برائیر کو کھونے اور اس سے دور جانے کا درد سہہ چکی تھی۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب سائنسی انقلابات زور پکڑ رہے تھے۔ ہر طرف نظریہ ارتقاء، مینڈل کے نظریہ وراثت کا چرچا تھا۔ میڈیکل سائنس دن بہ دن ترقی کررہی تھی ایسے وقت میں علم نفسیات کی حیثیت دور طفلی کی تھی۔ زیادہ تر لوگ اسے فضول قرار دیتے تھے۔ نفسیات اور طب کے درمیان کوئی تعلق نہ تھا لیکن فرائڈ نے اس روایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل ڈالا۔
فرائڈ نرگیست پسند اور متکبر انسان تھے تاہم اس کے باوجود انہوں تحلیل نفسی کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے بروئیر کو دیتے ہوئے کہا: "تحلیل نفسی مکتبہ فکر کی بنیاد رکھنا میرا کمال نہیں تھا درحقیقت یہ جوزیف برائیر کی کاوش ہے۔ میں ان وقت طالب علم تھا اور اپنے امتحانات پاس کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا"۔ یہ سچ ہے کہ ڈاکٹر بروئیر کے کام نے تحلیل نفسی کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا لیکن اگر سگمنڈ فرائڈ شعور اور لاشعور کی وضاحت سائنسی بنیادوں پر پیش نہ کرتے تو؟ چناں چہ ہمیں یہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ تحلیل نفسی کے اصل بانی سگمنڈ فرائڈ ہیں۔ اگلے چند سالوں بعد ڈاکٹر بروئیر اور فرائڈ نے مل کر ہسٹیریا کے مریضوں پر اپنی تحقیق شائع کی۔ یہ وہ تحقیق تھی جس نے فرائڈ کو sexuality کی بے پناہ قوت سے آگاہ کیا۔
فرائڈ نے آج سے صدی پہلے نفسیاتی مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ آج پوری دنیا ان کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ منظم انداز میں ان کا علاج بھی کیا جاتا ہے تاکہ لوگ خوشگوار خاندانی، سماجی اور ازدواجی زندگی گزار سکیں اور ان مسائل کا لوگوں کے بچوں اور ان کے خاندان والوں پر برا اثر نہ ہوتاہم ہمارے لوگ آج بھی ان مسائل کو جھٹلاتے ہیں۔ نفسیاتی عارضوں سے کنی کترانا آپ کی زندگی پر خوفناک اثرات مرتب کرتا ہے۔ سچ کو تسلیم کریں اور بہتر زندگی کی جانب قدم بڑھائیے۔

