Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Aik Tareekhi Kirdar: Confucius

Aik Tareekhi Kirdar: Confucius

ایک تاریخی کردار: کنفیوشس

تاریخ میں چند ہی ایسے انسان ہوتے ہیں جو خود تو خاموش رہتے ہیں، لیکن ان کی باتیں صدیوں تک گونجتی رہتی ہیں۔ جن کی آنکھوں میں نہ کوئی سیاسی خواب ہوتا ہے، نہ مذہبی دعویٰ، نہ جنگوں کی خواہش، نہ جنت کے وعدے، بس ایک فکری ٹھہراؤ، ایک تہذیبی توازن اور انسان کو انسان بنانے کی ایک غیر متزلزل کوشش۔ کنفیوشس بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔ وہ کوئی بادشاہ نہ تھا، کوئی پیغمبر نہ تھا، نہ کوئی سپہ سالار، مگر اس کا فکر، اس کا نظامِ اخلاق اور اس کی زبان نے چینی تہذیب کا ایسا نقشہ کھینچا کہ آج بھی چین کی روح اسی کے سانچے میں سانس لیتی ہے۔

کنفیوشس پانچویں صدی قبل مسیح میں چین کے ایک چھوٹے سے علاقے "لو" میں پیدا ہوا۔ باپ جلد فوت ہوگیا اور غربت نے اُس کے بچپن کو سختی میں ڈھال دیا۔ مگر علم کی پیاس نے اُسے بڑے شہروں، بڑے علما اور بڑے دانشوروں کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ وہ پڑھتا رہا، سنتا رہا، نوٹ کرتا رہا، تاریخ، شاعری، فلسفہ، تہذیب، سیاست، ہر چیز اس کے شعور کا حصہ بنتی گئی۔ لیکن وہ صرف پڑھنے والا نہیں تھا۔ وہ ایک سوال کنندہ، ایک مصلح اور ایک نظام کا خواب دیکھنے والا تھا۔

کنفیوشس کے زمانے کا چین خانہ جنگیوں، بدنظمی، کرپشن، درباری سازشوں اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھا۔ حکمران محلات میں مست، عوام غربت میں بے حال اور ریاست کے اصول بکھرتے جا رہے تھے۔ کنفیوشس نے اس بکھرتی ہوئی دنیا میں ایک متوازن سماج کا خاکہ پیش کیا۔ اس نے کوئی نئی مذہب سازی نہیں کی، نہ ہی ماورائی کہانیاں گھڑیں۔ اس نے کہا: "اگر انسان اپنے والدین کا احترام کرے، اگر حاکم انصاف کرے، اگر استاد علم دے، اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو پہچانے، تو معاشرہ خود بخود مہذب ہو جائے گا"۔

یہ نظریہ بہت سادہ سا لگتا ہے، لیکن اس سادگی میں گہری معنویت ہے۔ کنفیوشس نے انسانی تعلقات کو ایک ترتیب دی۔ وہ کہتا تھا، "ریاست کا پہلا یونٹ خاندان ہے۔ اگر بیٹا باپ کا ادب نہیں کرتا، شوہر بیوی سے بدسلوکی کرتا ہے، تو حکمران بھی رعایا کو ظالم نظر آئے گا"۔ اس کی تعلیمات کے پانچ بنیادی رشتے تھے: باپ اور بیٹا، حاکم اور رعایا، شوہر اور بیوی، بڑے اور چھوٹے بھائی اور دوست اور دوست۔ ہر رشتے میں فرائض ہیں اور ان فرائض کا شعور ہی اخلاقی نظم کی بنیاد ہے۔

کنفیوشس کی زندگی خود بھی اسی نظم کی ایک جھلک تھی۔ اُس نے خود کو استاد کے طور پر متعارف کرایا، نہ کہ کسی پیغمبر یا الوہی شخصیت کے طور پر۔ اس کے شاگردوں نے اُس سے منطق سیکھی، سوال کا ادب سیکھا، گفتگو کی تہذیب سیکھی اور سب سے بڑھ کر اپنے مقام کا شعور پایا۔ اس کے لیکچرز بعد میں جمع ہو کر "لَنتس" کے نام سے جانے گئے، ایک ایسا مجموعہ جو چینی فلسفے کا روحانی مینی فیسٹو بن گیا۔

مگر سوال یہ ہے: کیا کنفیوشس کا نظریہ انسان کو پابند نہیں کر دیتا؟ کیا اس نے فرد کو اجتماعی سانچے میں جکڑ کر اُس کی انفرادیت چھین لی؟ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ کنفیوشس کا سارا نظام "فرمانبرداری" پر ہے۔ باپ کچھ بھی کہے، بیٹا ادب کرے۔ بادشاہ ظالم ہو، رعایا وفادار رہے۔ عورت چاہے پڑھ لکھ جائے، اُس کی اولین شناخت بیوی اور ماں کی ہی رہے۔ یعنی سوال نہ کرو، بس ادب کرو۔ یہ رویہ معاشروں کو روبوٹ تو بنا سکتا ہے، انقلابی نہیں۔

لیکن یہی بات الٹی بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ کنفیوشس فرد کو نظم، برداشت، صبر، ضبطِ نفس اور گفتگو کا شعور دیتا ہے۔ وہ "جذباتی فیصلے" کی نفی کرتا ہے، وہ سکھاتا ہے کہ احتجاج کرنا ہے تو مہذب انداز میں، تنقید کرنی ہے تو تعمیری طریقے سے اور اصلاح کرنی ہے تو اپنے آپ سے شروع کرو۔ اس کے نزدیک معاشرے کے بگاڑ کی جڑ فرد کی خود غرضی ہے، وہ کہتا ہے: "اگر ہر شخص دوسروں سے وہی سلوک کرے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے، تو فساد کی گنجائش ہی نہیں رہے گی"۔

کنفیوشس کی تعلیمات میں مذہب کا ذکر برائے نام ہے۔ وہ روحانیت سے مکمل انکار نہیں کرتا، مگر خدا، آخرت، یا جنت و دوزخ پر زور نہیں دیتا۔ اس کے نزدیک نیکی کا اجر سماجی فلاح ہے اور برائی کی سزا سماجی بربادی۔ وہ کہتا ہے: "میں نہیں جانتا مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے، اس سے پہلے ہمیں یہ تو جان لینا چاہیے کہ جینا کیسے ہے"۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی چین، کوریا، جاپان اور ویتنام جیسے ممالک میں کنفیوشس کی تعلیمات اسکولوں، یونیورسٹیوں، عدالتوں، حتیٰ کہ حکومتی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ اس نے ایک ایسا فلسفہ دیا جو "مذہب" کے بغیر بھی "اخلاقیات" کو زندہ رکھتا ہے، جو "حکومت" کے بغیر بھی "نظم" قائم کرتا ہے اور جو "تاریخی عداوتوں " کے بغیر بھی "سماجی توازن" کی تلقین کرتا ہے۔

مگر یہ فلسفہ ہر جگہ کامیاب نہیں ہوتا۔ کنفیوشس کی تعلیمات ایسے معاشروں میں پھلتی ہیں جہاں صبر، نظم اور سماجی تہذیب ہو۔ شورش زدہ معاشرے، جہاں بھوک، بدامنی اور بنیادی انسانی حقوق کا فقدان ہو، وہاں کنفیوشس کی "خاموش روشنی" کمزور پڑ جاتی ہے۔ وہاں کبھی کبھار "چیخ" درکار ہوتی ہے، انقلاب درکار ہوتا ہے، ہنگامہ درکار ہوتا ہے اور یہ کنفیوشس کے مزاج سے باہر کی چیز ہے۔

پھر بھی، اُس کا پیغام کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں، جہاں فرد صرف خود کو دیکھتا ہے، جہاں تعلقات کمزور ہو چکے، جہاں ادب، بردباری اور سماجی ذمہ داری کا احساس ماند پڑ گیا ہے، وہاں کنفیوشس کی آواز پھر سنائی دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے: "اپنے رویوں کو دیکھو۔ تم جو ہو، وہی دنیا ہوگی"۔

کنفیوشس نے کبھی دنیا فتح نہیں کی، کوئی فوج نہیں بنائی، نہ مندر بنوائے، نہ آسمانوں سے وحی کا دعویٰ کیا۔ لیکن اُس کے الفاظ آج بھی کروڑوں انسانوں کے رویے میں سانس لیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: "عظمت خاموشی میں ہے، تکبر جھوٹا ہے اور علم کا پہلا سبق یہ ہے کہ تم مکمل نہیں ہو" اور یہی ادھورے پن کا شعور، شاید زندگی کا سب سے بڑا کمال ہے۔

Check Also

China Ko Iran Jang Se Kya Faiday Milay, Kya Nuqsanat Hue?

By Mubashir Ali Zaidi